محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا!
محنت کرے انسا ن تو کیا ہو نہیں سکتا! ڈاکٹر اسد اللہ خان آج کے دور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینے کے باوجود نوکری پا لینا گویا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ آپ میں سینکڑوں صلاحیتیں ہوں، مگر اگر ایک بھی ‘کمی’ نظر آ جائے — کوئی جسمانی معذوری، کوئی کمزوری، کوئی ‘داغ’ — تو پورا چراغ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کام ناممکن نہیں ہوتا، مگر مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ مجھے ایک ایسے ہی ہونہار نوجوان کا قصہ یاد آتا ہے۔ ملک کے ایک ممتاز انجینئرنگ ادارے سے فارغ التحصیل، تعلیمی ریکارڈ اِس قدر شاندار کہ کاغذات دیکھتے ہی ایک بڑی کمپنی نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لینے کا ارادہ کر لیا۔ مگر جب انٹرویو میں یہ کھلا کہ وہ نوجوان قوتِ سماعت کی ایک بیماری میں مبتلا ہے، تو وہی کمپنی — جو ابھی ابھی اُس کی ذہانت پر فریفتہ تھی — چپ چاپ قدم پیچھے کھینچ لائی۔ ڈگری، محنت اور قابلیت — سب ایک ‘طبی رپورٹ’ کے سامنے ہار گئے۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہونی چاہیے۔ کیونکہ معذوری جسم کی ہوتی ہے، حوصلے کی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی، اُن میں سے بیشتر نے ‘کمی’ کو ‘طاقت’ میں بدلا۔ آئیے آج ایسے ہی دس روشن چراغوں کی داستانیں سنتے ہیں — جن کی لَو آندھیوں میں بھی بجھی نہیں، بلکہ اور تیز ہوئی۔ عظمت اور ہمت کی روشن مثالیں انسان اگر سچے دل سے کچھ کرنے کا ارادہ کر لے تو جسمانی اعضاء کی محرومی اس کے خوابوں کے آڑے کبھی نہیں آ سکتی۔ تاریخ اور حال کے افق پر ایسے کئی درخشندہ ستارے چمک رہے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت کے بلبوتے پر طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ شری کانت بولا (Srikanth Bolla): پیدائشی طور پر مکمل نابینا شری کانت بولا کو بچپن ہی سے انتہائی غربت اور سماجی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب انہوں نے دسویں جماعت کے بعد سائنس پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، تو بھارتی نظامِ تعلیم نے ان کے نابینا ہونے کا بہانہ بنا کر صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے اس ناانصافی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چھ ماہ کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد کامیابی حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گیارہویں جماعت میں ۹۸ فیصد نمبر لے کر سب کو حیران کر دیا۔ جب ملک کے مایہ ناز ادارے آئی آئی ٹی (IIT) نے بھی انہیں داخلہ دینے سے انکار کیا، تو انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ایم آئی ٹی (MIT) کا رخ کیا اور وہاں داخلہ پانے والے پہلے بین الاقوامی نابینا طالب علم بن گئے۔ بھارت واپس آ کر انہوں نے ‘بولانٹ انڈسٹریز’ (Bollant Industries) قائم کی جو ماحول دوست مصنوعات بناتی ہے اور جہاں سیکڑوں معذور افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ آج شری کانت کروڑوں روپے کی کمپنی کے مالک اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک عالمی رول ماڈل ہیں۔ سدھا چندرن (Sudha Chandran): محض ۱۶ سال کی عمر میں ایک خوفناک سڑک حادثے اور ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سدھا چندرن کی دائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ایک کلاسیکل رقاصہ کے لیے یہ مصیبت کسی موت سے کم نہ تھی کیونکہ ان کا پورا کیریئر پاؤں کی تھرکنے سے وابستہ تھا۔ مگر سدھا نے بیساکھیوں کے سہارے جینے کو ٹھکرا دیا اور ‘جائپور فٹ’ (مصنوعی ٹانگ) لگوا کر انتہائی شدید تکلیف کے باوجود دوبارہ رقص سیکھنا شروع کیا۔ مشق کے دوران اکثر ان کے زخموں سے خون بہہ نکلتا تھا، مگر ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اسٹیج پر واپسی کی اور ایسا شاندار رقص پیش کیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی۔ آج وہ نہ صرف ایک عالمی شہرت یافتہ رقاصہ ہیں بلکہ بھارتی فلم و ٹیلی ویژن کی ایک مانی ہوئی اور کامیاب اداکارہ بھی بن چکی ہیں۔ ایرا سنگھل (Ira Singhal): ریڑھ کی ہڈی کی ایک نایاب بیماری ‘اسکولیوسس’ (Scoliosis) کی وجہ سے ایرا سنگھل کے دونوں بازوؤں کی حرکت انتہائی محدود تھی۔ انہوں نے اپنی اس کمزوری کو پڑھائی کے آڑے نہیں آنے دیا اور ۲۰۱۰ میں ملک کا سب سے مشکل امتحان یو پی ایس سی (UPSC) پاس کیا، مگر انتطامیہ نے ان کی جسمانی حالت کا بہانہ بنا کر انہیں سرکاری ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔ ایرا نے اس امتیازی سلوک کو چپ چاپ قبول کرنے کے بجائے سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (CAT) میں کیس دائر کیا اور چار سال تک ایک صبر آزما قانونی جنگ لڑ کر اپنا حق جیتا۔ انہوں نے ۲۰۱۴ میں دوبارہ امتحان دیا اور اس بار نہ صرف کامیاب ہوئیں بلکہ پورے ملک میں پہلی پوزیشن (Rank 1) حاصل کر کے جنرل کیٹیگری میں ٹاپ کیا۔ آج وہ ایک بہترین اور نڈر سول سروسز آفیسر کے طور پر ملک کی خدمت کر رہی ہیں۔ ارونیما سنہا (Arunima Sinha): قومی سطح کی والی بال کھلاڑی ارونیما سنہا کی زندگی میں ۲۰۱۱ میں اس وقت اندھیرا چھا گیا جب کچھ چوروں نے انہیں چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا، جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ہسپتال کے بستر پر جہاں لوگ ان پر ترس کھا رہے تھے اور انہیں ‘بے چاری’ سمجھ رہے تھے، انہوں نے وہیں لیٹے لیٹے دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کا ناقابل یقین فیصلہ کیا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی انہوں نے پہلی بھارتی خاتون ایورسٹ فاتح بچیندری پال سے سخت ٹریننگ شروع کی۔ سرپھرے عزم کی بدولت ۲۰۱۳ میں وہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی دنیا کی پہلی معذور خاتون بنیں اور اس کے بعد انہوں نے دنیا کے تمام ۷ براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں پر کامیابی سے اپنے ملک کا ترنگا لہرایا۔ تاریخ کے مزید روشن ستارے نک وجیسک (Nick Vujicic): آسٹریلیا میں ۱۹۸۲ میں پیدا ہونے والے نک وجیسک کی جسمانی حالت دیکھ کر لوگ کانپ اٹھتے تھے کیونکہ وہ بغیر بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں ہم جماعتوں کی ایذا رسانی اور شدید ذہنی اذیت سے تنگ آ کر محض ۱۰ سال کی عمر میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی
محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا! Read More »










