Urdu

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا!

محنت کرے انسا ن تو کیا ہو نہیں سکتا! ڈاکٹر اسد اللہ خان آج کے دور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینے کے باوجود نوکری پا لینا گویا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ آپ میں سینکڑوں صلاحیتیں ہوں، مگر اگر ایک بھی ‘کمی’ نظر آ جائے — کوئی جسمانی معذوری، کوئی کمزوری، کوئی ‘داغ’ — تو پورا چراغ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کام ناممکن نہیں ہوتا، مگر مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ مجھے ایک ایسے ہی ہونہار نوجوان کا قصہ یاد آتا ہے۔ ملک کے ایک ممتاز انجینئرنگ ادارے سے فارغ التحصیل، تعلیمی ریکارڈ اِس قدر شاندار کہ کاغذات دیکھتے ہی ایک بڑی کمپنی نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لینے کا ارادہ کر لیا۔ مگر جب انٹرویو میں یہ کھلا کہ وہ نوجوان قوتِ سماعت کی ایک بیماری میں مبتلا ہے، تو وہی کمپنی — جو ابھی ابھی اُس کی ذہانت پر فریفتہ تھی — چپ چاپ قدم پیچھے کھینچ لائی۔ ڈگری، محنت اور قابلیت — سب ایک ‘طبی رپورٹ’ کے سامنے ہار گئے۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہونی چاہیے۔ کیونکہ معذوری جسم کی ہوتی ہے، حوصلے کی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی، اُن میں سے بیشتر نے ‘کمی’ کو ‘طاقت’ میں بدلا۔ آئیے آج ایسے ہی دس روشن چراغوں کی داستانیں سنتے ہیں — جن کی لَو آندھیوں میں بھی بجھی نہیں، بلکہ اور تیز ہوئی۔ عظمت اور ہمت کی روشن مثالیں انسان اگر سچے دل سے کچھ کرنے کا ارادہ کر لے تو جسمانی اعضاء کی محرومی اس کے خوابوں کے آڑے کبھی نہیں آ سکتی۔ تاریخ اور حال کے افق پر ایسے کئی درخشندہ ستارے چمک رہے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت کے بلبوتے پر طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ شری کانت بولا (Srikanth Bolla): پیدائشی طور پر مکمل نابینا شری کانت بولا کو بچپن ہی سے انتہائی غربت اور سماجی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب انہوں نے دسویں جماعت کے بعد سائنس پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، تو بھارتی نظامِ تعلیم نے ان کے نابینا ہونے کا بہانہ بنا کر صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے اس ناانصافی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چھ ماہ کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد کامیابی حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گیارہویں جماعت میں ۹۸ فیصد نمبر لے کر سب کو حیران کر دیا۔ جب ملک کے مایہ ناز ادارے آئی آئی ٹی (IIT) نے بھی انہیں داخلہ دینے سے انکار کیا، تو انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ایم آئی ٹی (MIT) کا رخ کیا اور وہاں داخلہ پانے والے پہلے بین الاقوامی نابینا طالب علم بن گئے۔ بھارت واپس آ کر انہوں نے ‘بولانٹ انڈسٹریز’ (Bollant Industries) قائم کی جو ماحول دوست مصنوعات بناتی ہے اور جہاں سیکڑوں معذور افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ آج شری کانت کروڑوں روپے کی کمپنی کے مالک اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک عالمی رول ماڈل ہیں۔ سدھا چندرن (Sudha Chandran): محض ۱۶ سال کی عمر میں ایک خوفناک سڑک حادثے اور ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سدھا چندرن کی دائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ایک کلاسیکل رقاصہ کے لیے یہ مصیبت کسی موت سے کم نہ تھی کیونکہ ان کا پورا کیریئر پاؤں کی تھرکنے سے وابستہ تھا۔ مگر سدھا نے بیساکھیوں کے سہارے جینے کو ٹھکرا دیا اور ‘جائپور فٹ’ (مصنوعی ٹانگ) لگوا کر انتہائی شدید تکلیف کے باوجود دوبارہ رقص سیکھنا شروع کیا۔ مشق کے دوران اکثر ان کے زخموں سے خون بہہ نکلتا تھا، مگر ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اسٹیج پر واپسی کی اور ایسا شاندار رقص پیش کیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی۔ آج وہ نہ صرف ایک عالمی شہرت یافتہ رقاصہ ہیں بلکہ بھارتی فلم و ٹیلی ویژن کی ایک مانی ہوئی اور کامیاب اداکارہ بھی بن چکی ہیں۔ ایرا سنگھل (Ira Singhal): ریڑھ کی ہڈی کی ایک نایاب بیماری ‘اسکولیوسس’ (Scoliosis) کی وجہ سے ایرا سنگھل کے دونوں بازوؤں کی حرکت انتہائی محدود تھی۔ انہوں نے اپنی اس کمزوری کو پڑھائی کے آڑے نہیں آنے دیا اور ۲۰۱۰ میں ملک کا سب سے مشکل امتحان یو پی ایس سی (UPSC) پاس کیا، مگر انتطامیہ نے ان کی جسمانی حالت کا بہانہ بنا کر انہیں سرکاری ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔ ایرا نے اس امتیازی سلوک کو چپ چاپ قبول کرنے کے بجائے سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (CAT) میں کیس دائر کیا اور چار سال تک ایک صبر آزما قانونی جنگ لڑ کر اپنا حق جیتا۔ انہوں نے ۲۰۱۴ میں دوبارہ امتحان دیا اور اس بار نہ صرف کامیاب ہوئیں بلکہ پورے ملک میں پہلی پوزیشن (Rank 1) حاصل کر کے جنرل کیٹیگری میں ٹاپ کیا۔ آج وہ ایک بہترین اور نڈر سول سروسز آفیسر کے طور پر ملک کی خدمت کر رہی ہیں۔ ارونیما سنہا (Arunima Sinha): قومی سطح کی والی بال کھلاڑی ارونیما سنہا کی زندگی میں ۲۰۱۱ میں اس وقت اندھیرا چھا گیا جب کچھ چوروں نے انہیں چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا، جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ہسپتال کے بستر پر جہاں لوگ ان پر ترس کھا رہے تھے اور انہیں ‘بے چاری’ سمجھ رہے تھے، انہوں نے وہیں لیٹے لیٹے دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کا ناقابل یقین فیصلہ کیا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی انہوں نے پہلی بھارتی خاتون ایورسٹ فاتح بچیندری پال سے سخت ٹریننگ شروع کی۔ سرپھرے عزم کی بدولت ۲۰۱۳ میں وہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی دنیا کی پہلی معذور خاتون بنیں اور اس کے بعد انہوں نے دنیا کے تمام ۷ براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں پر کامیابی سے اپنے ملک کا ترنگا لہرایا۔ تاریخ کے مزید روشن ستارے نک وجیسک (Nick Vujicic): آسٹریلیا میں ۱۹۸۲ میں پیدا ہونے والے نک وجیسک کی جسمانی حالت دیکھ کر لوگ کانپ اٹھتے تھے کیونکہ وہ بغیر بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں ہم جماعتوں کی ایذا رسانی اور شدید ذہنی اذیت سے تنگ آ کر محض ۱۰ سال کی عمر میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا! Read More »

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری قدرت کی تنبیہ، قرآن کی رہنمائی اور انسانیت کے لیے ایک سبق ڈاکٹر اسد اللہ خان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاختِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ “بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، اور رات دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 190) ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ “خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا، اس سبب سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔” (سورۃ الروم: 41) بے بس انسان اور آفاقی سچائی دنیا روزانہ جاگتی ہے، لیکن ہر صبح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض صبحیں سورج کی روشنی کے ساتھ امید لے کر آتی ہیں، اور بعض صبحیں زمین کی لرزش کے ساتھ انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلا جاتی ہیں۔ کہیں زلزلہ آتا ہے، کہیں سیلاب بستیوں کو نگل جاتا ہے، کہیں آسمان آگ برساتا ہے، کہیں سمندر اپنی حدود توڑ دیتا ہے، اور کہیں ایک معمولی سا وائرس پوری دنیا کی طاقت، معیشت اور ٹیکنالوجی کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کرتا ہے۔ ان واقعات کو اگر صرف “قدرتی آفات” کہہ کر اخبار کے ایک صفحے تک محدود کر دیا جائے تو شاید ہم بہت بڑی حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ مومن کے لیے یہ صرف خبریں نہیں ہوتییں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ قرآن انہیں “آیات” کہتا ہے؛ ایسی نشانیاں جو انسان کو اس کے رب، اس کی کمزوری، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں۔ آج کا انسان چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے، مصنوعی ذہانت کو اپنی عقل کا جانشین سمجھنے لگا ہے، اور چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانے پر فخر کرتا ہے۔ اس نے فلک بوس عمارتیں کھڑی کر لیں، سمندر کی تہوں میں اتر گیا، پہاڑوں کو چیر کر شاہراہیں بنا دیں، مگر وہ اب بھی ایک ایسے معمولی سے زلزلے کے سامنے بے بس ہے جو چند لمحوں میں اس کی برسوں کی محنت، دولت، منصوبے اور غرور کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ یہی انسانی حقیقت ہے جسے قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔ ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ “انہوں نے اللہ کی قدر ویسی نہ پہچانی جیسی پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی۔” (سورۃ الزمر: 67) دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں مٹیں، بعض اوقات ایک جھٹکے نے پوری سلطنتوں کو قصۂ پارینہ بنا دیا۔ قومِ عاد اپنی طاقت پر ناز کرتی تھی، قومِ ثمود اپنے پہاڑ تراش کر محلات بنانے پر فخر کرتی تھی، فرعون اپنے اقتدار کو دائمی سمجھتا تھا، قارون اپنی دولت پر اکڑتا تھا، مگر قدرت نے سب کو ایک لمحے میں تاریخ کا سبق بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار انسان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھا؟ ﴿أفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾ “کیا وہ زمین میں چلتے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے تھے؟” (سورۃ یوسف: 109) یہ سوال صرف تاریخ پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کے لیے ہے۔ سانحات، اخلاقی حس اور دل کا زلزلہ گزشتہ دنوں دنیا کے ایک خطے میں آنے والے شدید زلزلے نے ایک مرتبہ پھر یہی سبق دہرایا۔ چند لمحوں میں مضبوط عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے، والدین اپنی اولاد کو ڈھونڈتے رہ گئے، اور وہ لوگ جو چند منٹ پہلے معمول کی زندگی گزار رہے تھے، اچانک موت اور زندگی کے درمیان کھڑے ہو گئے۔ ایسے مناظر ہر حساس انسان کی آنکھ نم کر دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مناظر ہمارے دل بھی بدلتے ہیں؟ افسوس یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اب سانحات کو بھی ایک “وائرل ویڈیو” کی طرح دیکھنے لگا ہے۔ چند لمحے افسوس، چند دعائیں، چند تبصرے، اور پھر اگلی خبر؛ گویا انسانی جان کی حرمت بھی خبروں کی رفتار کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ» “زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔” (جامع الترمذی، حدیث: 1924) اسلام نے ہمیں صرف عبادت گزار نہیں بنایا بلکہ دردِ دل رکھنے والا انسان بنایا ہے۔ مومن وہ ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، جو مصیبت زدہ کی مدد کرے، جو بھوکے کو کھانا کھلائے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے، بے گھر کے لیے پناہ بنے اور مصیبت کے وقت انسانیت کا سہارا بنے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ» “مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں، جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 6011؛ صحیح مسلم، حدیث: 2586) یہی وہ معیار ہے جس پر ہمیں اپنے ایمان کو پرکھنا چاہیے۔ اگر دنیا کے کسی کونے میں آنے والی آفت ہمارے دل کو نہ ہلائے، اگر کسی ماں کی آہ ہمارے ضمیر کو نہ جگائے، اگر کسی یتیم بچے کے آنسو ہمیں بے چین نہ کریں، تو ہمیں اپنے ایمان کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ قدرت کی ہر تنبیہ ہمیں دو سوالوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: پہلا سوال یہ کہ اگر آج یہ آزمائش ان پر آئی ہے تو کیا یقین ہے کہ کل ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے گی؟ اور دوسرا، اس سے بھی زیادہ اہم سوال، اگر آج ہماری زندگی کا زلزلہ آ جائے، اگر موت اچانک ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہو، تو کیا ہم اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال کسی جغرافیے، کسی قوم، کسی مذہب یا کسی زبان کا نہیں؛ یہ ہر انسان کا

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری Read More »

جب معمارِ قوم کا خواب سرِ بازار نیلام ہوا!

(مہاراشٹرا ٹی ای ٹی امتحان: امتحانی نظام کی ارتھی پر ایک ادبی نوحہ) ڈاکٹر اسد اللہ خان تاریخ کے صفحات جب بھی کسی قوم کی تنزلی کی داستان رقم کرتے ہیں، تو سب سے پہلی ضرب اس کے نظامِ تعلیم پر لگاتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی نازک اور دردناک خبر ہے۔ ایک ایسے معاشرے کے لیے جہاں استاد کو “معمارِ قوم” مانا جاتا ہے، وہاں استاد بننے کے امتحان (TET) کی حرمت کا سرِ بازار نیلام ہو جانا کسی المیے سے کم نہیں۔ آج ریاستِ مہاراشٹرا کے ضلع تھانے سے آنے والی خبر محض ایک امتحان کی منسوخی کی اطلاع نہیں ہے، بلکہ یہ اس دھرتی کے لاکھوں ہونہار، محنتی اور بے گناہ نوجوانوں کے خوابوں کا قتلِ عام ہے۔ یہ استاد کی عظمت، علم کی حرمت اور عدل و انصاف کے جنازے کی وہ شہ سرخیاں ہیں، جنہیں دیکھ کر قلم خون کے آنسو روتا ہے اور زبان گنگ رہ جاتی ہے۔ علم کی منڈی اور ضمیر کے سوداگر کتنی ستم ظریفی ہے کہ جس امتحان کا مقصد معاشرے کو “صالح اور ایماندار معمار” فراہم کرنا تھا، اسی امتحان کا پرچہ امتحانی مراکز تک پہنچنے سے پہلے ہی چند ٹکوں کے عوض ضمیر کے سوداگروں کی تجوریوں کی زینت بن گیا۔ پولیس کا تھانے میں چھاپہ مارنا، سوالیہ پرچوں کا ضبط ہونا اور چند کالی بھیڑوں کا حراست میں لیا جانا—یہ اس گلے سڑے نظام کی وہ بدبو ہے جو اب پورے معاشرے کا دم گھونٹ رہی ہے۔ تعلیم جو روشنی کا مینار تھی، آج اسے ہوس اور بدعنوانی کے اندھیروں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جب رہزن ہی پاسبان بن جائیں، تو قافلے کا لٹ جانا حیرت انگیز نہیں رہتا۔ ان امتحانی پرچوں کو بیچنے والوں نے صرف کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں بیچے، انہوں نے اس ٹیچر طالب علم کی راتوں کی نیندیں بیچی ہیں جو مٹی کے تیل کے دیے کی مدہم روشنی میں کتابیں چاٹ رہا تھا۔ انہوں نے اس بوڑھے باپ کی پونجی بیچی ہے جس نے اپنے بچے کو ‘شکشک’ (استاد) بنانے کے لیے اپنی کمر سیدھی نہیں ہونے دی۔ امتحانی نظام کا تاریک ماضیِ:تھانے کا یہ حالیہ واقعہ کوئی پہلی لغزش نہیں ہے، بلکہ یہ اس طویل اور گہرے کینسر کی ایک نئی علامت ہے جو مہاراشٹرا اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشنز (MSCE) کو اندر سے کھوکھلا کر چکا ہے۔ اگر ہم ماضی کے اوراق الٹیں، تو TET امتحانات کی تاریخ بدعنوانی اور گھوٹالوں کی سیاہی سے لت پت نظر آتی ہے۔تھانے کا یہ حالیہ سانحہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہرے کینسر کی ایک ہولناک کڑی ہے جو مہاراشٹرا اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشنز کی رگوں میں برسوں سے سرایت کیے ہوئے ہے۔ مہاراشٹرا کا امتحانی نظام خصوصاً اس وقت رہنِ ستم ہوا جب پونے سائبر پولیس نے ماضی کے امتحانات میں ہونے والی ایسی سنسنی خیز دھاندلیوں کا پردہ فاش کیا جس نے پورے تعلیمی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ انکشافات محض سرسری بے ضابطگیاں نہیں تھیں، بلکہ میرٹ کے مقتل میں قابلیت کا باقاعدہ اور منظم قتلِ عام تھا، جہاں عہدیداروں اور دلالوں کے گٹھ جوڑ نے ہر بار کامیابی کے نئے طریقے ایجاد کیے۔ اس گھوٹالے کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ امتحانی بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار ہی رشوت خوری کے بازار میں سب سے بڑے خریدار نکلے۔ اس منظم لوٹ مار کا ایک بدترین باب سال 2018 کے ٹی ای ٹی امتحان میں رقم کیا گیا۔ اس دوران ضمیر کے سوداگروں نے چوری چھپے امتحانی نظام کے دل یعنی او ایم آر (OMR) شیٹس کے ساتھ مجرمانہ ہیر پھیر کی۔ وہ امیدوار جو قابلیت کی دوڑ میں بری طرح ناکام (فیل) ہو چکے تھے، راتوں رات ان کے کھوٹے سکوں کو کھرے نوٹوں کے عوض کامیابی کے تمغوں میں بدل دیا گیا۔ جب پولیس نے اس گھناونے کھیل کی تہیں اکھاڑیں، تو قانون کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں؛ تحقیقات کے بعد 1,663 ایسے فرضی امیدواروں کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوا جنہوں نے رشوت کے بلبوتے پر کامیابی کی سند خریدی تھی، جس کے بعد ان پر تاحیات امتحانی پابندی عائد کر دی گئی۔ ابھی اس زخم کی سیاہی چھٹی بھی نہ تھی کہ سال 2019 کا ٹی ای ٹی امتحان اس تعلیمی تاریخ کا سب سے بڑا اور ہولناک دھچکا ثابت ہوا۔ اس بار سازش کاروں نے دستی ہیر پھیر کے بجائے براہِ راست ڈیجیٹل نظام پر شب خون مارا اور کمپیوٹرائزڈ رزلٹ ڈیٹا بیس کے اندر گھس کر نمبروں کے ہندسے بدل دیے۔ یہ بدعنوانی کا وہ طوفان تھا جس نے قابلیت کی ہر دیوار کو منہدم کر دیا۔ اس سازش کے نتیجے میں 7,880 نااہل امیدواروں کو غیر قانونی طور پر ‘کامیاب’ قرار دے کر اسناد بانٹ دی گئیں، جنہیں بعد میں سنگین تحقیقات کے بعد منسوخ کرنا پڑا۔ اس پورے ریکیٹ کا سب سے لرزہ خیز اور حیرت انگیز پہلو وہ گرفتاریاں تھیں جنہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ باڑھ ہی کھیت کو کھا رہی ہے۔ جب قانون کا شکنجہ کسا، تو اس نظام کے سب سے بڑے پاسبان ہی رہزن نکلے۔ امتحانی بورڈ کے سابق کمشنر سکھدیو ڈیرے، پونے کے اسسٹنٹ کمشنر، اور امتحانات کا انتظام سنبھالنے والی ‘جی اے سافٹ ویئر کمپنی’ کے اعلیٰ ڈائریکٹرز ایک ایک کر کے سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔ ان مقتدر کرسیوں پر بیٹھے لوگوں کی گرفتاری نے یہ مہرِ تصدیق ثبت کر دی کہ امتحانی نظام پر سے اب طلبہ کا اعتماد سو فیصد اٹھ چکا ہے، اور جس محکمے کو قوم کا مستقبل سنوارنا تھا، اس کی اپنی ساکھ اب تاریخ کے سب سے گہرے ملبے کے نیچے دفن ہو چکی ہے۔ ان پچھلے گھوٹالوں کے دوران لگ بھگ 9,500 سے زائد ایسے اساتذہ کی فہرست جاری کی گئی تھی جنہوں نے لاکھوں روپے کی رشوت دے کر فرضی اسناد حاصل کیں اور ریاست کے اسکولوں میں نوکریاں حاصل کر لیں۔ یہ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ جب امتحانی نظام کے چوکیدار ہی چور بن جائیں، تو قابلیت اور میرٹ کی موت یقینی ہو جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے طلبہ کی مایوسی کے اس منظر کا!مہینوں کی ریاضت، دن رات کی بیداری، کتابوں سے عشق اور آنکھوں میں ایک روشن

جب معمارِ قوم کا خواب سرِ بازار نیلام ہوا! Read More »

تعلیم:انسان بنانے کا فن یا امتحان پاس کرانے کی مشین؟

علم وہ ہے جو انسان کو انسان بنائے، نہ کہ وہ جو اسے مشین بنا دے ڈاکٹر اسداللہ خان زندگی میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کوئی تحریر ہاتھ میں لیتے ہیں اور پڑھتے پڑھتے اچانک رک جاتے ہیں۔ قلم نیچے رکھ دیتے ہیں۔ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ اور دل کے کسی گہرے گوشے سے ایک آواز آتی ہے کہ یہی تو میں کہہ رہاتھا۔ ہوا یوں کہ آج کے ٹائمز آف انڈیا میں این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر، پروفیسر دنیش پرساد سکلانی کا مضمون پڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے میرے دل و دماغ میں مدتوں سے گردش کرنے والے خیالات کو کسی اور نے لفظوں کے قالب میں ڈھال دیا ہو۔ ہر سطر، ہر استدلال اور ہر سوال میرے اپنے فکری سفر کی بازگشت معلوم ہوا۔ ایسا لگا گویا میرے لاشعور میں پوشیدہ تصورات، میرے دل کی دھڑکنوں اور میرے تعلیمی فلسفے کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کر دیا گیا ہو۔ میں نے مضمون نہیں پڑھا، بلکہ اپنے ہی خیالات کو ایک نئے قلم سے لکھا ہوا پایا۔ مجھے میر کا وہ مصرع یاد آ گیا جو اردو شاعری کی سب سے لطیف نفسیاتی دریافتوں میں سے ایک ہے “میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے”۔ یہ مصرع محض ایک شعری تجربے کا بیان نہیں — یہ اس کیفیت کا نام ہے جب کوئی بات آپ کے اندر اتنی گہری اتر چکی ہو کہ آپ اسے اپنی سمجھتے ہی نہیں، اور پھر جب کوئی دوسرا انسان وہی بات کہہ دے تو آپ چونک اٹھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ رَٹّا لگانا کبھی ہندوستان کی روح نہیں رہا۔ کہ اس سرزمین نے نچیکیتا کو پیدا کیا جس نے موت سے سوال کیا، گارگی پیدا کی جس نے برہمنوں کے سردار کو خاموش کیا، کناد پیدا کیا جس نے ایٹم کا تصور دیا، سشروت پیدا کیا جس نے جراحی سکھائی، آریہ بھٹ پیدا کیا جس نے صفر دریافت کیا — اور یہ سب رَٹّے سے نہیں، سوال سے، تجربے سے، مشاہدے سے، دلیل سے پیدا ہوئے۔ اور کہ پھر ایک نوآبادیاتی طوفان آیا اور اس نے اس روایت کو چھین لیا۔ علم کی جگہ ملازمت نے لے لی۔ سوال کی جگہ رَٹّے نے لے لی۔ تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی۔ یہ پڑھ کر میں نے سوچا — کیا یہ صرف تعلیم کی کہانی ہے؟ نہیں۔ یہ ہماری پوری تہذیبی روح کی کہانی ہے۔ اگر آج نچیکیتا کسی اسکول میں داخل ہو جائے تو کیا ہوگا؟ وہی نچیکیتا جس نے موت کے دیوتا یمراج کے دروازے پر تین دن اور تین رات کھڑے رہ کر علم طلب کیا تھا۔ وہی نچیکیتا جس کے سوالوں نے کٹھ اُپنشد کو جنم دیا اور جس کی جستجو نے آنے والی نسلوں کے لیے فکر کا ایک لافانی سرچشمہ کھول دیا۔ وہ بچہ جو موت سے نہ ڈرا، کیا وہ ہمارے نصاب کی تنگ گلیوں میں سانس لے پاتا؟ کیا آج کا استاد اس کی حوصلہ افزائی کرتا؟ کیا آج کے اسکول میں اس کے لیے کوئی جگہ ہوتی؟ یا اسے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا کہ یہ سوال نصاب میں نہیں ہے، امتحان میں نہیں آئے گا، وقت ضائع مت کرو۔ یہ سوال محض ایک فرضی تصور نہیں۔ یہ ہمارے پورے نظامِ تعلیم کے لیے ایک بے رحم آئینہ ہے جس میں ہم اپنی خامیاں دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے بچے کیا پڑھ رہے ہیں۔ اصل اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم انہیں سوچنے دے رہے ہیں یا نہیں۔ جب ہم ہندوستانی علمی روایت کی گہرائیوں میں اترتے ہیں تو ایک انوکھا اور فخر انگیز منظر سامنے آتا ہے۔ یہاں علم کبھی بھی ایک مُردہ معلومات کا ذخیرہ نہیں رہا۔ یہاں سوال عبادت تھا، مکالمہ تعلیم تھا، تلاشِ حقیقت زندگی کا مقصد تھی۔ اُپنشدوں کے عظیم مباحثے دیکھیے — جہاں استاد شاگرد کو جواب نہیں دیتا تھا، بلکہ سوال پوچھتا تھا۔ گارگی اور یاجنوالکیہ کے درمیان وہ تاریخی فکری مناظرہ دیکھیے جس میں ایک خاتون نے براہمنوں کے سردار کو ایسے سوالوں سے جھنجھوڑا کہ وہ خاموش ہو گئے۔ آچاریہ کناد کے ایٹم کے تصور کو دیکھیے جو آج کی جدید طبیعیات کا پیشرو تھا۔ آریہ بھٹ کے ریاضیاتی انکشافات دیکھیے جو اپنے عہد سے صدیوں آگے تھے۔ نالندہ اور تکشیلا کی مہان درسگاہوں کو دیکھیے جہاں دنیا کے کونے کونے سے طالبِ علم آتے تھے — نہ ڈگری کے لیے، بلکہ علم کی پیاس بجھانے کے لیے۔ نالندہ میں دس ہزار سے زائد طالبِ علم اور دو ہزار اساتذہ تھے۔ وہاں کا کتب خانہ اتنا عظیم تھا کہ جب اسے جلایا گیا تو وہ تین ماہ تک جلتا رہا۔ یہ صرف عمارتیں نہیں تھیں — یہ ایک تہذیبی دماغ تھا، ایک زندہ روح تھی جو ہزاروں انسانوں کی فکر سے مل کر بنی تھی۔ ہمارے آباء نے کتابوں کو مقدس ضرور سمجھا، مگر سوچنے کے دروازے کبھی بند نہیں کیے۔ وہ جانتے تھے کہ بند دروازے والا ذہن علم کا نہیں، خوف کا گھر بنتا ہے۔ پھر ایسا کیا ہوا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر محب تعلیم کی نیند اڑا دیتا ہے۔ ایسا کیا ہوا کہ سوال کرنے والی قوم رَٹّا کرنے والی قوم بن گئی؟ ایسا کیا ہوا کہ تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی؟ ایسا کیا ہوا کہ فہم کی جگہ نمبروں نے اور علم کی جگہ سرٹیفکیٹ نے لے لی؟ اس سوال کا جواب ہمیں نوآبادیاتی تاریخ کے تاریک اوراق میں ملتا ہے۔ ۱۸۳۵ء میں جب لارڈ میکالے نے اپنا وہ بدنامِ زمانہ منٹ لکھا تو اس نے صرف ایک نصاب نہیں بدلا — اس نے ایک پوری قوم کے سوچنے کا انداز بدل دیا۔ آہستہ آہستہ تعلیم زندگی کی تیاری کے بجائے امتحان کی تیاری بن گئی۔ اسکول شخصیت سازی کے مراکز کے بجائے امتحانی کارخانے بن گئے۔ اور استاد — علم کا وہ چراغ جو تاریکیوں میں روشنی دیتا تھا — نصاب مکمل کرنے والا ملازم بنتا گیا۔ ۱۹۴۷ء میں ہم نے سیاسی آزادی حاصل کی لیکن ذہنی آزادی؟ وہ ابھی بھی نوآبادیاتی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ ہم نے عمارتیں بدل دیں، پرچم بدل دیا، حکمران بدل دیے مگر تعلیم کا وہ نوآبادیاتی

تعلیم:انسان بنانے کا فن یا امتحان پاس کرانے کی مشین؟ Read More »

ممبئی لوکل ٹرین کا ایک المیہ، خاموش معاشرہ اور مرتی ہوئی انسانیت

ڈاکٹر اسد اللہ خان کچھ دن پہلے پوری دنیا سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھی۔ لوگ حفاظتی چشمے خرید رہے تھے، دوربینیں لگا رہے تھے اور آسمان کی طرف نظریں اٹھائے اس نادر فلکیاتی منظر کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن افسوس… ہم آسمان پر چھانے والے چند لمحوں کے اندھیرے کو تو دیکھ لیتے ہیں، مگر اپنے دلوں، اپنے معاشرے اور اپنی تہذیب پر چھا جانے والے دائمی اندھیرے کو محسوس نہیں کرتے۔ سورج پر لگنے والا گرہن چند منٹوں میں ختم ہو جاتا ہے، مگر انسان کے ضمیر پر لگنے والا گرہن نسلوں تک باقی رہتا ہے۔ ممبئی کی لوکل ٹرین میں پیش آنے والا مینک لوہار کا المناک قتل اسی اندرونی گرہن کی ایک خوفناک علامت ہے۔ یہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی، ہمارے بکھرتے ہوئے سماجی رشتوں اور مرتی ہوئی تہذیب کا نوحہ ہے۔ ممبئی لوکل… صرف ٹرین نہیں، پورے شہر کا دل ہے ممبئی کی لوکل ٹرین کو لوگ محض ایک ٹرانسپورٹ سسٹم سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ شہر کی شہ رگ ہے۔ یہ روزانہ لاکھوں خوابوں کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ کوئی مزدور اپنے بچوں کی روٹی کے لیے سفر کر رہا ہوتا ہے، کوئی طالب علم اپنے مستقبل کی تلاش میں نکلتا ہے، کوئی ماں اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے جا رہی ہوتی ہے، اور کوئی نوجوان اپنی پہلی ملازمت کے خواب سجا رہا ہوتا ہے۔ کوئی نوجوان اپنی پہلی تنخواہ کے خواب سجاتا ہے۔ان ہی ڈبوں میں کتنی دعائیں سفر کرتی ہیں، کتنی امیدیں بیٹھتی ہیں، کتنے منصوبے جنم لیتے ہیں۔ یہ ٹرین صرف جسموں کو نہیں بلکہ امیدوں، خوابوں، ذمہ داریوں اور مستقبل کو ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک پہنچاتی ہے۔ مگر جب اسی ٹرین کے اندر خون بہنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ صرف ایک مسافر نہیں مرا، بلکہ پورا معاشرہ زخمی ہوا ہے۔ صرف ایک جملہ… ایک درخوست اور ایک زندگی ہمیشہ کے لئے خاموش کر دی گئی۔ منگل، ۲۳ جون کی وہ رات بظاہر ہر رات کی طرح معمول کی تھی۔ چرچ گیٹ سے نالاسوپارا جانے والی فاسٹ لوکل اپنی رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ فرسٹ کلاس کوچ میں عام دنوں کی طرح لوگ بیٹھے تھے؛ کسی کے کانوں میں ائیر فون تھے، کوئی موبائل پر مصروف تھا، اور کوئی تھکن سے اونگھ رہا تھا۔ اسی دوران بائیس سالہ مینک لوہار نے صرف اتنی سی گزارش کی کہ دروازہ بند کر دیا جائے۔ سوچیے… صرف ایک جملہ۔ صرف ایک گزارش۔ “براہِ کرم دروازہ بند کر دیجیے۔” کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ جملہ موت کی سزا بن سکتا ہے؟ لیکن ممبئی کی اس لوکل ٹرین میں ایسا ہی ہوا۔ یہ ایک معمولی درخواست تھی، لیکن سامنے کھڑا شخص ۳۰ سالہ، ممبئی ائیر پورٹ کے کارگو سیکشن میں کام کرنے والا روشن سورنا، معمولی ذہنی کیفیت میں نہیں تھا۔ اس کے اندر شاید برسوں کا غصہ، ناکامیاں، مایوسیاں، شراب کا نشہ، اور انا کا زہر جمع تھا۔ ایک لمحے میں چاقو نکلا، چند سیکنڈ میں کئی وار ہوئے، اور ایک ہنستا کھیلتا نوجوان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ایک بائیس سالہ نوجوان، جس کے والدین نے شاید صبح اسے دعاؤں کے ساتھ گھر سے رخصت کیا ہوگا، جس کی ماں نے شام کو اس کے پسندیدہ کھانے کا سوچا ہوگا، جس کے خواب ابھی حقیقت بننے ہی والے تھے… چند لمحوں میں خون میں نہلا دیا گیا۔ قاتل صرف ایک شخص نہیں تھا…؟ اخبارات لکھیں گے کہ قاتل فلاں شخص تھا، پولیس چارج شیٹ داخل کرے گی، اور عدالت سزا سنائے گی۔ لیکن اگر ہم صرف اتنا سمجھ کر مطمئن ہو جائیں تو شاید ہم اصل مجرم کو کبھی نہ پہچان سکیں۔ سوال یہ ہے کہ اس بوگی میں بیٹھے ہوئے درجنوں مسافر کیا کر رہے تھے؟ کیا ان میں سے کوئی ایک شخص بھی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا؟ کیا چار پانچ افراد مل کر قاتل کو قابو نہیں کر سکتے تھے؟ یا پھر ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انسان صرف اپنی جان بچانے کا نام ہے؟ یہ خاموش تماشائی کون تھے؟ ہم… آپ… ہم سب۔ قاتل صرف ایک شخص تھا… یا ہم سب؟ پولیس اپنی کارروائی مکمل کر لے گی۔ تب شاید عدالت قاتل کو سزا دے۔ اور پھر اخبارات نئی سرخیاں تلاش کر لیں گے۔ لیکن ایک سوال شاید کبھی ختم نہ ہو۔ جب مینک زمین پر گرا تھا… جب اس پر وار ہو رہے تھے… جب وہ زندگی اور موت کے درمیان آخری سانسیں لے رہا تھا… تب اس بوگی میں بیٹھے ہوئے درجنوں لوگ کیا کر رہے تھے؟ کیا ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے؟ کیا ان کی زبانیں گونگی ہو گئی تھیں؟ یا پھر ان کے دلوں سے انسانیت رخصت ہو چکی تھی؟ یہ سوال صرف ان مسافروں سے نہیں… یہ سوال ہم سب سے ہے۔ ہم کب اتنے بے بس، اتنے خوف زدہ اور اتنے خود غرض ہو گئے کہ ایک انسان کو مرتا دیکھ کر بھی خاموش بیٹھے رہے؟ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک شخص نے چاقو چلایا، مگر درحقیقت پورا معاشرہ خاموش کھڑا رہا۔ دنیا میں سب سے خطرناک آواز گولی کی نہیں ہوتی… سب سے خطرناک آواز اچھے لوگوں کی خاموشی کی ہوتی ہے۔ اب ہمیں انسانوں سے نہیں، ان کے غصے سے ڈر لگتا ہے آج اگر کوئی شخص ٹرین میں بلند آواز میں موبائل چلا رہا ہو… اگر کوئی بدتمیزی کر رہا ہو… اگر کوئی دوسروں کو تکلیف پہنچا رہا ہو… تو اکثر لوگ خاموش رہتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ غلط کو صحیح سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس لیے کہ اب ہمیں قانون سے زیادہ انسانوں کے اندر چھپے ہوئے غصے سے خوف آنے لگا ہے۔ ہر شخص سوچتا ہے… “اگر میں نے کچھ کہا تو؟” “اگر سامنے والا ذہنی دباؤ کا شکار ہوا تو؟” “اگر اس کے ہاتھ میں چاقو ہوا تو؟” “اگر کل اخبار میں میری تصویر چھپ گئی تو؟” سوچیے… جس معاشرے میں صحیح بات کہنا جان کا خطرہ بن جائے، وہاں تہذیب زندہ کیسے رہ سکتی ہے؟ یہ خوف صرف ایک فرد کا نہیں، یہ پورے شہر کی نفسیات بن چکا ہے۔ ہم سب کے اندر ایک خاموش جنگ جاری

ممبئی لوکل ٹرین کا ایک المیہ، خاموش معاشرہ اور مرتی ہوئی انسانیت Read More »

ماں کے ایک جملے نے آئی آئی ٹی تک پہنچا دیا!!!

“جو بھی کرو گے، وہ درست ہوگا!” ایک ماں کا یقین، ایک باپ کے پسینے، ایک استاد کی رہنمائی اور ایک پینٹر بیٹے کے خواب کی لازوال داستان ایک پینٹر کا خواب: میں رنگ کرتا رہا دیواریں دوسروں کی، تاکہ میرا بیٹا رنگ بھر سکے اپنے خوابوں میں۔ یہ محنت کرتا رہا دن رات، تاکہ وہ پڑھ سکے دن رات، اور اس نے محنت کو عبادت بنا دیا۔ انگریزی نہیں آتی تھی، مگر ہمت تھی۔ سرکاری اسکول میں پڑھا، NMMS اسکالرشپ ملی۔ روزانہ 8 گھنٹے محنت، موک ٹیست میں ناکامیاں۔ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب سب کچھ چھوڑنے کا سوچا! تب ماں نے کہا: “جو بھی کرو گے، وہ درست ہوگا!” اور ایک دن — جے ای ای ایڈوانسڈ میں کامیابی! نتیجہ صرف ساگر کا نہیں تھا… یہ ایک والد کا پسینہ تھا، ایک ماں کی دعا تھی، ایک استاد کا اعتماد تھا، ایک سرکاری اسکول کا سہارا تھا، اور ہندوستان کے کروڑوں غریب گھروں کے خواب کا چین جانا تھا۔ محترم والدین! اپنے بچوں کو صرف نصیحتیں نہ دیں بلکہ یقین دیں۔ صرف نتائج نہ پرکھیں، ان کا جذبہ اور اعتماد پیدا کریں۔ یقین رکھیں، اپنے بچوں کو یقین دلائیں کہ وہ بھی بن سکتے ہیں۔ عزیز طلبہ! اگر راستہ مشکل ہے تو آپ ہو منزل بڑی ہے۔ ناکامی رفتار کم کرتی ہے، سفر ختم نہیں کرتی۔ اپنے خوابوں کو پالنے سے مت چھوڑو، ایک دن دنیا تہاری نتائج دیکھے گی۔ مگر اللہ تہاری جدوجہد دیکھ رہا ہے۔ “جو بھی کرو گے، وہ درست ہوکے… بس پڑھائی جاری رکھو!” تحریر: ڈاکٹر اسداللہ خان Asadullahkhanschoolasadullahkhanschool.org

ماں کے ایک جملے نے آئی آئی ٹی تک پہنچا دیا!!! Read More »

بے بصیرت نسل نو مانگے زندگی کی ضمانت

جین زی، تعلیمی نظام اور مستقبل کے خوف کی نفسیات ڈاکٹر اسد اللہ خان کبھی کبھی معاشروں میں آنے والی تبدیلیاں شور مچا کر نہیں آتیں۔ وہ خاموشی سے نسلوں کے رویوں میں اترتی ہیں۔ پھر ایک دن ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بدل چکی ہے۔ آج دنیا بھر میں ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ انجینئر کاروبار سیکھ رہا ہے، ڈاکٹر یوٹیوب چینل چلا رہا ہے، استاد آن لائن کورس بیچ رہا ہے، طالب علم شیئر مارکیٹ سمجھ رہا ہے، اور یونیورسٹی سے فارغ ہونے والا نوجوان ملازمت ڈھونڈنے سے پہلے “Passive Income” کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آخر ایسی کون سی تبدیلی رونما ہوئی ہے کہ ایک پوری نسل نوکری سے پہلے “Exit Plan” تیار کر رہی ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ آج کا نوجوان کسی کمپنی میں داخل ہونے سے پہلے اس دن کے بارے میں سوچ رہا ہے جب وہ کمپنی اسے نکال دے گی؟ آخر وہ کون سا خوف ہے جو اس نسل کے لاشعور میں بیٹھ گیا ہے؟ پچھلی نسلوں کا خواب سادہ تھا۔ پڑھو، اچھی ڈگری حاصل کرو، اچھی نوکری حاصل کرو، گھر بناؤ، بچوں کو پڑھاؤ اور ریٹائر ہو جاؤ۔ یہی کامیابی تھی، یہی استحکام تھا، یہی زندگی کا نقشہ تھا۔ لیکن آج کا نوجوان اس نقشے پر یقین نہیں رکھتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بڑی بڑی ڈگریاں بے روزگاری کی ضمانت بن سکتی ہیں۔ اس نے دیکھا کہ کورونا کی ایک لہر نے کروڑوں ملازمتیں ختم کر دیں۔ اس نے دیکھا کہ مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں وہ کام کر رہی ہے جو کبھی ہزاروں افراد کیا کرتے تھے۔ اس نے دیکھا کہ کئی برسوں کی وفاداری کے بعد بھی ایک ای میل انسان کو بے روزگار بنا سکتی ہے۔ چنانچہ اس نسل نے ایک نیا سبق سیکھ لیا: “کسی ایک چیز پر انحصار خطرناک ہے۔” لیکن یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔ کیا واقعی مسئلہ صرف روزگار کا ہے، یا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ صرف معاشی بحران نہیں بلکہ تعلیمی بحران بھی ہے۔ کیونکہ ہماری پوری تعلیمی مشینری اب بھی بیسویں صدی کے لیے بچوں کو تیار کر رہی ہے جبکہ دنیا اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم اب بھی بچوں سے پوچھتے ہیں: “بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ ڈاکٹر؟ انجینئر؟ پائلٹ؟ استاد؟ افسر؟” مگر شاید اب سوال بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ آج کا سوال یہ ہونا چاہیے: “تم کون سی صلاحیتیں پیدا کرو گے جو ہر دور میں تمہیں زندہ رکھ سکیں؟” یہاں ہماری تعلیم کی ایک بنیادی کمزوری سامنے آتی ہے۔ ہم بچوں کو امتحان پاس کرنا سکھاتے ہیں، مسائل حل کرنا نہیں۔ ہم انہیں معلومات دیتے ہیں، بصیرت نہیں دیتے۔ ہم انہیں نوکری حاصل کرنا سکھاتے ہیں، مواقع پیدا کرنا نہیں سکھاتے۔ ہم انہیں یادداشت دیتے ہیں، تخلیق نہیں دیتے۔ آج کا نوجوان ایک اہم سوال پوچھ رہا ہے۔ شاید وہ الفاظ میں بیان نہ کر سکے لیکن اس کے اندر یہ سوال مسلسل موجود ہے: “اگر میری ڈگری مجھے تحفظ نہیں دے سکتی تو پھر مجھے کیا چیز محفوظ بنا سکتی ہے؟” اس سوال کا جواب صرف ملازمت نہیں، صرف کاروبار نہیں، صرف سرمایہ کاری نہیں، بلکہ صلاحیتوں کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کو ہر دور میں کارآمد بنا دے۔ Communication Skills، Critical Thinking، Problem Solving، Leadership، Digital Literacy، Entrepreneurship، Character Building اور سب سے بڑھ کر Learning Agility یعنی مسلسل سیکھتے رہنے کی صلاحیت۔ بدقسمتی سے ہمارے بہت سے تعلیمی ادارے اب بھی صرف نصاب مکمل کرنے کو تعلیم سمجھتے ہیں۔ جبکہ آنے والی دنیا میں نصاب سے زیادہ اہم “قابلیت” ہوگی، امتحان سے زیادہ اہم “مہارت” ہوگی اور ڈگری سے زیادہ اہم “Value Creation” ہوگی۔ یہ بھی ایک دلچسپ المیہ ہے کہ Gen Z کو Work-Life Balance کی نسل کہا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ شاید یہ نسل اپنے والدین سے زیادہ کام کر رہی ہے۔ دن میں نوکری، رات میں فری لانسنگ، ہفتہ وار کانٹینٹ کری ایشن، سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ اور ساتھ میں نئی مہارتیں سیکھنے کی کوشش۔ یہ سب کیوں؟ کیونکہ انہیں کام سے نفرت نہیں، انہیں غیر یقینی مستقبل سے خوف ہے۔ ایک معلم کی حیثیت سے مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ کہیں ہم نوجوانوں کو صرف آمدنی پیدا کرنے والی مشینیں نہ بنا دیں۔ کیونکہ زندگی صرف مالی آزادی کا نام نہیں، زندگی مقصد کا نام بھی ہے، اخلاق کا نام بھی ہے، خدمت کا نام بھی ہے، کردار کا نام بھی ہے، معاشرے کی تعمیر کا نام بھی ہے۔ اگر تعلیم صرف پیسہ کمانا سکھائے اور انسان بننا نہ سکھائے تو وہ تعلیم نہیں، محض تربیتِ معاش ہے۔ آنے والے زمانے کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ کون سی ملازمت باقی رہے گی، بلکہ یہ ہوگا کہ کون سا انسان ہر تبدیلی کے باوجود اپنی افادیت برقرار رکھ سکے گا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیمی اداروں کو اپنا پورا فلسفہ ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔ ہمارا مقصد صرف ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا تاجر پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے انسان پیدا کرنا ہونا چاہیے جو حالات کے غلام نہ ہوں بلکہ حالات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ شاید اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ Gen Z نوکریوں کو مسترد نہیں کر رہی۔ وہ کام سے فرار نہیں چاہتی، محنت سے بھی نہیں بھاگ رہی۔ وہ دراصل ایک ایسی دنیا میں زندہ رہنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے جہاں کوئی چیز مستقل نہیں رہی۔ اور شاید اس پوری کہانی کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ مستقبل ان لوگوں کا نہیں ہوگا جن کے پاس صرف ڈگریاں ہوں گی، بلکہ ان کا ہوگا جن کے پاس سیکھنے، بدلنے اور نئے راستے بنانے کی صلاحیت ہوگی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم کا اصل سفر شروع ہوتا ہے۔ “زمانہ بدلنے سے پہلے اگر تعلیم نہ بدلے، تو پھر زمانہ تعلیم کو بے معنی بنا دیتا ہے۔” Asadullahkhanschoolasadullahkhanschool.org

بے بصیرت نسل نو مانگے زندگی کی ضمانت Read More »

محنت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا!!

جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 کے نتائج اور نوجوان نسل کے لیے کامیابی کا منشور ڈاکٹر اسد اللہ خان کچھ نتائج ایسے ہوتے ہیں جو صرف چند طلبہ کی کامیابی کی داستان نہیں سناتے بلکہ پوری نوجوان نسل کے لیے پیغام بن جاتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ خواب کیسے پورے ہوتے ہیں، منزلیں کیسے حاصل کی جاتی ہیں اور کن کمزوریوں سے بچ کر انسان اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔وہ صرف یہ نہیں بتاتے کہ کون کامیاب ہوا، بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کامیابی تک پہنچنے والوں نے کون سی عادتیں اپنائیں، کن مشکلات کا سامنا کیا اور کس طرح اپنی کمزوریوں پر قابو پایا۔ حال ہی میں جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 کے نتائج کا اعلان ہوا۔ایک لاکھ اناسی ہزار سے زائد طلبہ اس امتحان میں شریک ہوئے۔ان میں سے تقریباً ستاون ہزار طلبہ کامیاب قرار پائے۔لیکن پورے ملک کی توجہ تین نوجوانوں پر مرکوز ہو گئی۔ شُبھم کمار (AIR-1)، کبیر چھلّر (AIR-2) اور جاتن چاہر (AIR-3)۔ جب ہم ان کی کامیابیوں کے پیچھے جھانکتے ہیں تو ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے۔ان میں سے کسی نے کامیابی کا راز غیر معمولی ذہانت کو قرار نہیں دیا۔کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ چوبیس گھنٹے پڑھتے تھے۔ کسی نے شارٹ کٹ، جادوئی فارمولا یا کسی خفیہ تکنیک کا ذکر نہیں کیا۔بلکہ تینوں کی زبان پر تقریباً ایک ہی پیغام تھا، Dedication, Discipline and Consistencyیعنی وابستگی، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی۔یہی کامیابی کا اصل نسخہ ہے۔ بہار کے ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے شُبھم کمار نے 360 میں سے 330 نمبر حاصل کرکے پورے ہندوستان میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ان کے والد ہارڈویئر کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ان کے خاندان میں انجینئر بننے کا خواب ابھی پہلی نسل کا خواب تھا۔شُبھم نے ایک ایسی بات کہی جو ہر طالب علم کو زندگی بھر یاد رکھنی چاہیے کہ کامیابی لمبے وقت تک پڑھنے میں نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور سیکھنے کے عمل پر اعتماد میں ہے۔یہ جملہ ہمارے پورے تعلیمی نظام کے لیے آئینہ ہے۔ کبیر چھلّر نے 329 نمبر حاصل کیےوہ صرف ایک نمبر سے پہلی پوزیشن سے پیچھے رہ گیالیکن ان کی سوچ انہیں لاکھوں طلبہ سے آگے لے گئی۔اس نے کبھی نمبروں کے پیچھے دوڑنے کی کوشش نہیں کی۔وہ Concepts کو سمجھنے پر توجہ دیتے رہے۔ہر امتحان کے بعد اپنی غلطیوں کا تجزیہ کرتے۔کمزوریوں کی فہرست بناتے اور پھر انہیں دور کرنے پر کام کرتے۔اس نے ثابت کیاکہ کامیاب طلبہ غلطیاں نہیں چھپاتے، بلکہ غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔ جتن چاہر نے ساتویں جماعت سے اپنی علمی بنیادیں مضبوط کرنا شروع کر دی تھیں۔اس نے اولمپیاڈز میں حصہ لیا۔سائنس، فلکیات، کیمسٹری اور دیگر علمی سرگرمیوں میں خود کو مصروف رکھا۔پھر ایک مرحلے پر وہ ٹائیفائیڈ کا شکار ہو گئے۔امتحانات چھوٹ گئے۔کلاسیں متاثر ہوئیں۔مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔خاندان اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ دوبارہ کھڑے ہوئے اور پورے ہندوستان میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ جتن نے بتایا کہ ناکامی، بیماری یا مشکلات کامیابی کی راہ بند نہیں کرتیں، ہمت ہار دینا کامیابی کی راہ بند کرتا ہے۔ ہمارے طلبہ امتحانات میں کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں؟ بطور معلم چالیس سال سے زیادہ عرصے کے تجربے کے بعد میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج کے طلبہ کی سب سے بڑی کمزوری کم ذہانت نہیں ہے۔بلکہ بے مقصد موبائل استعمال، سوشل میڈیا کی لت، غیر منظم مطالعہ، وقت کا زیاں، رٹّے پر انحصار، کمزور مطالعہ عادات، نیند کی کمی ، خود احتسابی کا فقدان، جلد نتائج حاصل کرنے کی خواہش ،یہ وہ خامیاں ہیں جو ذہین ترین طلبہ کو بھی ناکامی کی طرف لے جاتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں ، بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم کیا کریں؟ ان ٹاپرس کی باتیں سننے کے بعد یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہمیں کامیابی کے لئے ایک لائحۂ عمل بنانا ہوگا ۔کچھ اصولوں کو اپنی زندگی میں اختیارکرنا ہوگا مثلاً ۱. روزانہ کے اہداف مقرر کریں۔بغیر ہدف کے پڑھائی، بغیر نقشے کے سفر کی طرح ہے۔ ۲-. موبائل کا وقت محدود کریں۔مطالعہ کے دوران موبائل مکمل بند رکھیں۔ ۳-. غلطیوں کی ڈائری بنائیں-ہر امتحان کے بعد اپنی غلطیاں لکھیں۔ٹاپرز یہی کرتے ہیں۔ ۴-. تمامConcepts سمجھیں۔رٹّا وقتی نمبر دلا سکتا ہے۔فہم زندگی بھر کامیابی دیتا ہے۔ ۵. روزانہ Revision کریں۔پڑھنا ضروری ہے۔مگر دہرانا اس سے زیادہ ضروری ہے۔ ۶. اچھی نیند لیں۔نیند ضائع کرنا محنت نہیں بلکہ نقصان ہے۔ ۷-ہلکی جسمانی ورزش کریں۔صحت مند جسم ہی طویل علمی سفر برداشت کر سکتا ہے۔ ۸-اساتذہ سے سوال پوچھیں۔جو طالب علم سوال پوچھنے سے ڈرتا ہے وہ سیکھنے سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔ ۸-مستقل مزاجی اپنائیں۔روزانہ دو گھنٹے کی مستقل پڑھائی، دس گھنٹے کی غیر مستقل پڑھائی سے بہتر ہے۔ ۹-خود پر یقین رکھیں۔دنیا آپ پر یقین کرے یا نہ کرے، آپ کو خود پر یقین ہونا چاہیے۔ اس موقع پر والدین سے یہ گذارش کرنا چاہوں گاکہ اپنے بچوں پر صرف نمبروں کا دباؤ نہ ڈالیں۔ان کے اندر سیکھنے کی محبت پیدا کریں۔ان کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں۔ان کی محنت کو سراہیں۔ان کی غلطیوں پر رہنمائی کریں۔ان کی کامیابی کے سفر میں ان کے ساتھی بنیں، جج نہیں۔ وہیں اساتذہ سے یہ التجا ہے کہ آپ صرف نصاب مکمل نہ کریں بلکہ طلبہ کے اندر خواب بھی پیدا کریں۔اعتماد پیدا کریں۔سوچنے کی صلاحیت پیدا کریں۔کیونکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ ایک عظیم استاد ہزاروں زندگیاں بدل سکتا ہے۔ میرے عزیز طلبہ! یاد رکھو!شُبھم، کبیر اور جتن کسی دوسرے سیارے سے نہیں آئے تھے۔وہ بھی تمہاری طرح عام بچے تھے۔فرق صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اپنی عادتوں کو غیر معمولی بنا لیا۔انہوں نے وقت کی قدر کی۔انہوں نے مستقل مزاجی اختیار کی۔انہوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا۔انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور یہی چیز انہیں لاکھوں طلبہ سے ممتاز بنا گئی۔آج اگر تم موبائل کے استعمال کو قابو میں لے لو، اپنی توجہ کو محفوظ کر لو، اپنے وقت کی حفاظت کر لو اور روزانہ تھوڑا سا بہتر بننے کا عہد کر لو تو یقین جانو آنے والا ہندوستان تمہارا منتظر ہےکیونکہ کامیابی قسمت کے دروازے پر نہیں ملتی۔کامیابی محنت، نظم و ضبط، مستقل مزاجی

محنت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا!! Read More »

تعلیم کی حقیقی روح کی تلاش!!!

ڈاکٹر اسداللہ خان عصرِ حاضر کا ہندوستان ایک ایسے فکری و تہذیبی موڑ پر کھڑا ہے جہاں مادی ترقی کی چکا چوند تو عروج پر ہے، مگر ہماری اخلاقی اور تعلیمی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہوتی جا رہی ہیں۔ آج جب ہم اپنے تعلیمی گلستان پر نظر ڈالتے ہیں، تو وہاں علم کی خوشبو کے بجائے امتحانات کا دھواں اور مقابلوں کا شور سنائی دیتا ہے۔ تعلیم کی حقیقی روح جو امتحانی پرچوں اور میرٹ لسٹوں کے نیچے دب کر دم توڑ چکی ہے،آج اس کی بازیافت کی پکارنےبے چین کردیا ہے ۔ انسانی تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو کائنات کے سب سے بڑے معلمِ اعظم پر نازل ہونے والا پہلا الہامی حکم “امتحان دو”نہیں تھا۔ لوحِ محفوظ سے انسانیت کے نام جو پہلا ابدی پیغام اترا، وہ تھا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ حکم ہواپڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔اس پہلے آسمانی سبق کا مقصد نمبرات کی دوڑ نہیں بلکہ شعور کی بیداری تھا۔ اس کا اولین حاصل کوئی دنیاوی ملازمت نہیں بلکہ خالق و مخلوق کی معرفت تھا۔ اسلام کی پوری علمی تاریخ اسی محور کے گرد گھومتی ہے۔ جب تک تعلیم ایک عبادت تھی، بغداد، قرطبہ، غرناطہ، سمرقند، بخارا اور دہلی کے مدارس سے ایسے نابغۂ روزگار انسان پیدا ہوتے تھے جو محض ڈگری یافتہ ملازم نہیں، بلکہ کائنات کے اسرا و رموز کو بے نقاب کرنے والے فلاسفر، موجد اور محقق تھے۔ امام غزالیؒ، ابن رشدؒ، ابن خلدونؒ، شاہ ولی اللہؒ اور سر سید احمد خانؒ کی علمی و فکری عظمت کا راز معلومات کے انبار میں نہیں، بلکہ ان کی فکر کی اس وسعت میں تھا جو زندگی اور کائنات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی تھی۔ مگر افسوس! صدیوں کے اس سفر میں ہم نے اس اصلِ اثاثہ کو کہیں کھو دیا۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ گوگل ہماری جیبوں میں تو موجود ہے لیکن حکمت ہمارے دلوں سے رخصت ہو چکی ہے۔ ہمارے پاس معلومات کے انبار ہیں مگر فکری گہرائی کا قحط ہے۔ ہم نے ذہنوں کو اندھا دھند معلومات سے بھرنا تو سیکھ لیا، مگر شخصیتوں کو تراشنا اور کردار کو تعمیر کرنا یکسر بھلا دیا۔ آج کا ہندوستان تعلیمی نظام کے نام پر ایک ایسی کارگاہ میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں انسان نہیں، بلکہ “امتحانی جنگجو” (Exam Warriors) تیار کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں NEET، JEE، CUET، SSC اور HSC جیسے قومی سطح کے امتحانات کے گرد پیدا ہونے والے پیپر لیک، امتحانی مافیا، رشوت ستانی اور سنگین بدعنوانیوں کے تنازعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن المیہ دیکھیے کہ ہمارا سماج اور پالیسی ساز صرف اس نظام کی ظاہری شاخوں پر کلہاڑی چلا رہے ہیں، کوئی بھی اس ناسور کی اصل جڑ تک پہنچنے کی زحمت نہیں کر رہا۔ اصل بحران پیپر لیک ہونا نہیں ہے، بلکہ اصل بحران یہ ہے کہ ہمارا پورا تعلیمی ڈھانچہ اپنی روح سے محروم ہو چکا ہے۔ ہم نے تعلیم کو محض “معلومات کی منتقلی” (Information Transfer) کا نام دے دیا ہے، جبکہ تعلیم تو بنیادی طور پر “انسان سازی” (Human Making) کا ایک مقدس عمل تھا۔ آج ایک معصوم بچے کا پانچ سال کی عمر میں اسکول کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی بچپن کا دائرہ تنگ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ناتواں کندھوں پر کتابوں کا بھاری بستہ لاد کر اسے ایک ایسی لامتناہی اور اندھی دوڑ میں دھکیل دیا جاتا ہے جہاں ہر اگلا موڑ پچھلے سے زیادہ بے رحم ہوتا ہے: پری پرائمری سے پرائمری کی دوڑ، پرائمری سے سیکنڈری کی مشقت، سیکنڈری سے جونیئر کالج کا تناؤ، جونیئر کالج سے انٹرنس امتحانات کے عذاب تک اور آخر میں روزگار کی منڈی میں خود کو بیچنے کا مقابلہ ،اس پوری تگ و دو میں اوراس طویل مسافت کے کسی بھی موڑ پرکوئی ہمدرد استاد یا نظامِ تعلیم اس بچے سے یہ نہیں پوچھتاکہ تم کیا سوچتے ہو؟ تمہارے دل کے جذبات کیا ہیں؟ تمہارے انفرادی خواب کیا ہیں؟ اور تم ایک انسان کے طور پر کیسے بن رہے ہو؟ پورا نظامِ حکومت، اسکول اور والدین صرف ایک ہی رٹ لگائے بیٹھے ہیں کہ تمہارے پرسنٹائل کتنے آئے؟ میرٹ لسٹ میں تمہارا رینک کیا ہے؟ یہی وہ تاریک لمحہ ہے جہاں تعلیم سسک سسک کردم توڑ دیتی ہے اور “امتحان” ایک جلاد کی طرح زندہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ فکرمند اذہان ان امتحانات کو سماجی کنٹرول کا ہتھیارقرار دیتے ہیں ۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو لاکھوں نوجوانوں کی زندگی کے سب سے خوبصورت، تخلیقی اور سنہرے سالوں کو تین گھنٹے کے ایک بے جان پرچے میں قید کر دیتا ہے۔ اس امتحانی جنون کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک میں “کوچنگ انڈسٹری” کے نام سے ایک متوازی اور ظالمانہ تعلیمی سلطنت قائم ہو چکی ہے۔ کروڑوں روپے کے اس کاروبار میں معصوم بچوں کا بچپن فروخت ہو رہا ہے، نوجوانوں کی صلاحیتیں گروی رکھی جا رہی ہیں، اور ان کے اچھوتے خواب اس منڈی میں کوڑیوں کے دام نیلام ہو رہے ہیں۔ پھر جب کوٹا (Kota) جیسے تعلیمی مراکز سے معصوم بچوں کی خودکشیوں کی خبریں آتی ہیں، جب نوجوان نسل شدید ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر موت کو گلے لگاتی ہے، تو یہ سماج حیرت کا اظہار کرتا ہے! ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم نے انہیں جینا سکھایا ہی کب تھا؟ ہم نے تو انہیں صرف مقابلہ کرنا سکھایا تھا۔ ہم نے انہیں کامیابی کے طریقے تو رٹائے، مگر زندگی کا حقیقی مطلب نہیں بتایا۔ ہم نے انہیں نوکری کے لیے تو تیار کیا، مگر ایک ذمہ دار شہری اور باوقار انسان بننے کا گر نہیں سکھایا۔ اگر ہم غور و فکر کی آنکھوں سے دیکھیں تو کائنات کی کوئی بھی عظیم تبدیلی رٹّے بازی سے نہیں آئی۔ قرآن کریم کی آیاتِ بینات کا ایک بڑا حصہ انسان کو بار بار تدبر، تفکر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے۔ کلامِ الٰہی پکار پکار کر کہتا ہے کہ قرآن کا طالب علم وہ ہے جو اندھی تقلید نہیں کرتا، بلکہ کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے، اپنے نفس کو پڑھتا ہے، تاریخ کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے اور سوال پوچھتا ہے۔ اگر تعلیم

تعلیم کی حقیقی روح کی تلاش!!! Read More »

جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں!

کبھی کبھی ایک خبر صرف خبر نہیں ہوتی۔وہ ایک سوال ہوتی ہے جو پورے معاشرے کے ضمیر کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔کبھی کوئی رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ ان کروڑوں نوجوانوں کی خاموش چیخ ہوتی ہے جن کے خواب کسی دفتر کی میز، کسی بدعنوان اہلکار کی جیب، کسی خفیہ واٹس ایپ گروپ یا کسی منظم مافیا کے ہاتھوں نیلام ہو چکے ہوتے ہیں۔ حال ہی میں ہندوستان کے ایک ممتاز قومی اخبار کی تحقیق نے ملک کے امتحانی نظام کے ایک ایسے تاریک پہلو سے پردہ اٹھایا ہے جس نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ پورے ملک کے سنجیدہ اذہان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔تحقیق کے مطابق 2002 سے 2025 تک ایسے پینتالیس بڑے امتحانات کے پرچے لیک ہوئے جن میں ہر امتحان میں ایک لاکھ سے زائد امیدوار شریک تھے۔ کروڑوں نوجوانوں کی محنت، امیدیں اور مستقبل ان امتحانات سے وابستہ تھے۔ مگر اصل المیہ صرف پرچوں کا لیک ہونا نہیں۔اصل المیہ یہ ہے کہ ان پینتالیس بڑے مقدمات میں صرف دو مقدمات سزا تک پہنچ سکے۔ جی ہاں، صرف دو! باقی مقدمات یا تو تحقیقات کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئے، یا عدالتی راہداریوں میں برسوں تک سرگرداں رہے، یا پھر وقت کی گرد نے ان کے نشانات تک دھندلا دیے۔اس لیے آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ پرچے کس نے لیک کیے؟ اصل سوال یہ ہے کہ اس پورے نظام میں انصاف کہاں لیک ہو گیا؟ ایک قوم کے خوابوں کی قیمت کتنی ہوتی ہے؟ کسی متوسط یا غریب گھرانے کے دروازے پر دستک دیجیے۔آپ کو ایک نوجوان ملے گا جو رات گئے تک کتابوں میں گم رہتا ہے۔اس کی میز پر نصابی کتابیں ہوں گی۔دیواروں پر خوابوں کے نقشے آویزاں ہوں گے۔ماں کی دعائیں اس کے ساتھ ہوں گی۔باپ کی امیدیں اس کے مستقبل سے وابستہ ہوں گی۔گھر کے اخراجات کم کر کے کوچنگ کی فیس ادا کی گئی ہوگی۔بہن نے اپنی خواہشات ملتوی کی ہوں گی۔والد نے اضافی وقت کام کیا ہوگا۔اور پھر ایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ امتحان کا پرچہ امتحان سے پہلے ہی فروخت ہو چکا تھا۔ سوچیے!اس لمحے صرف ایک سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوتا۔اس لمحے ایک نوجوان کا اعتماد لیک ہو جاتا ہے۔ایک خاندان کی امید لیک ہو جاتی ہے۔ایک ماں کی دعا زخمی ہو جاتی ہے اور ایک قوم کے مستقبل پر ثبت اعتماد کا مہر بند لفافہ پھٹ جاتا ہے۔ جانچ کے نظام پر اعتماد کا بحران! جب امتحان کی کاغذی پرچیوں کے ساتھ بچوں کا مستقبل اور والدین کی راتوں کی نیندیں بھی بازار میں بکنے لگیں، تو پورے جانچ کے نظام پر سے ایک نسل کا بھروسہ ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے۔ امتحان کسی بھی تعلیمی نظام کی روح ہوتے ہیں۔یہ محض نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ صلاحیت، محنت، قابلیت اور کردار کی جانچ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔طالب علم جب امتحانی ہال میں داخل ہوتا ہے تو دراصل وہ ریاست کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ کرتا ہے۔اسے یقین ہوتا ہے کہ امتحان منصفانہ ہوگا،سوالات محفوظ ہوں گے،جانچ غیر جانب دار ہوگی اور کامیابی صرف قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ملے گی۔ مگر جب امتحانات بار بار منسوخ ہونے لگیں، سوالیہ پرچے لیک ہونے لگیں اور نتائج متنازع بننے لگیں تو نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک نہایت خطرناک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی میری محنت ہی میری کامیابی کا فیصلہ کرے گی؟ یہ بظاہر ایک سادہ سوال ہے، مگر درحقیقت پورے تعلیمی فلسفے کو چیلنج کرتا ہے۔ کسی بھی تعلیمی نظام کی اصل طاقت اس کی عمارتیں، ٹیکنالوجی یا نصاب نہیں ہوتے،اس کی اصل طاقت اس کی ساکھ ہوتی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک—فن لینڈ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور جاپان—نے صرف وسائل کی بنیاد پر ترقی نہیں کی بلکہ امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو اپنی قومی ترقی کا ستون بنایا۔اگر ہندوستان جیسے عظیم ملک میں نوجوان امتحانی نظام پر اعتماد کھو دیں تو اس کا نقصان صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے انسانی سرمائے (Human Capital) کو متاثر کرتا ہے۔ اس لئے یہ صرف امتحان کا بحران نہیں۔یہ Meritocracy یعنی قابلیت اور اہلیت پر مبنی معاشرتی نظام کا بحران ہے۔ کیا یہ عوامی اداروں میں احتساب کی ناکامی نہیں ہے؟ کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل قوت اس کے اداروں کی شفافیت اور جواب دہی میں پوشیدہ ہوتی ہے لیکن جب ہزاروں گرفتاریاں ہوں، سینکڑوں چارج شیٹس داخل ہوں، لاکھوں امیدوار متاثر ہوں اور پھر بھی سزائیں نہ ہونے کے برابر ہوں تو ایک بنیادی سوال سر اٹھاتا ہے کہ آخر ذمہ دار کون ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے معاشروں میں اکثر چھوٹے کردار پکڑے جاتے ہیں جبکہ بڑے کردار نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔کسی واٹس ایپ گروپ کے منتظم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔کسی درمیانی درجے کے ملازم کو معطل کر دیا جاتا ہے۔مگر وہ ادارہ جاتی کمزوریاں، وہ پالیسی خامیاں اور وہ انتظامی ناکامیاں جنہوں نے اس جرم کو ممکن بنایا، اکثر احتساب کے دائرے سے باہر رہ جاتی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عوام کا اعتماد ریاستی اداروں سے متزلزل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔احتساب صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں۔احتساب دراصل اس پورے نظام کی اصلاح کا نام ہے جو جرم کو جنم دیتا ہے۔ جب تک تحقیقات بروقت نہیں ہوں گی، مقدمات غیر ضروری تاخیر کا شکار رہیں گے، ذمہ دار افسران جواب دہ نہیں ہوں گے اور اصلاحات مستقل بنیادوں پر نافذ نہیں کی جائیں گی، تب تک ہر نیا امتحان ایک نئے خطرے کے ساتھ منعقد ہوگا۔ تعلیمی اداروں کا سب سے بڑا سرمایہ ان کی عمارتیں نہیں بلکہ ان کی Credibility ہوتی ہے اور Credibility کی بنیاد ہمیشہ Accountability پر قائم ہوتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ نوجوان نسل پر امتحانی بدانتظامی کے کیا نفسیاتی اثرات ہوں گے؟ اس پورے بحران کا سب سے کم زیرِ بحث مگر سب سے سنگین پہلو نوجوانوں کی ذہنی صحت ہے۔ہر سال لاکھوں نوجوان مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔وہ برسوں کوچنگ سینٹروں میں وقت گزارتے ہیں۔وہ اپنی نیند، آرام، تفریح اور سماجی زندگی قربان کر دیتے ہیں۔وہ اپنی شناخت کو اپنے امتحانی نتائج کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔ پھر اچانک انہیں بتایا جاتا ہے کہ امتحان

جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں! Read More »