News & Blog

سوچ کا مکتب

تعلیم بچے کو صرف جواب نہیں، سوال کرنا بھی سکھا دے ڈاکٹر اسد اللہ خان برسہابرس کمرۂ جماعت میں گزارنے کے بعد اب کوئی تعلیمی منظر ہمیں کم ہی چونکاتا ہے، مگر پچھلے دنوں لونی (غازی آباد) کے ایک اسکول کا واقعہ نظر سے گزرا تو دیر تک سوچ میں ڈوبا رہا۔ معلم نے تختۂ سیاہ پر صرف ایک عدد لکھا: ۲۰۲۵۔ لمحہ بھر کو خاموشی رہی، پھر یکایک کئی ننھے ہاتھ فضا میں بلند ہو گئے: ”سر! یہ تو دو ہزار پچیس ہے، ابھی تو دو ہزار چھبیس چل رہا ہے!“ بظاہر یہ کوئی بڑا واقعہ نہ تھا، مگر اُس کمرے میں اُس لمحے وہ کچھ ہوا جو ہماری روایتی درس گاہوں میں مدتوں سے نایاب ہے۔ بچوں نے تختے پر لکھی تحریر کو بے چون و چرا تسلیم نہیں کیا؛ اُنھوں نے اُسے اپنے علم کی کسوٹی پر پرکھا اور جہاں مطابقت نہ پائی، وہاں زبان کھول دی۔ معلم کی یہ ”غلطی“ دانستہ تھی۔ اُس کا مقصد درس دینا نہیں، تجسّس کو بھڑکانا تھا — اور تجسّس نے کام کر دکھایا۔ میں دیر تک سوچتا رہا کہ ہمارے ملک کے لاکھوں کمروں میں روز کتنے تختے لکھے جاتے ہیں اور کتنے ہاتھ بلند ہوتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہم نے ہاتھ اٹھانا جواب دینے کے لیے سکھایا ہے، سوال کرنے کے لیے نہیں۔ اور یہی اِس تحریر کا موضوع ہے۔ اُسی نشست میں بچوں کے سامنے ایک ننھا سا معمّہ رکھا گیا۔ برسات کی ایک صبح ہے؛ بچے کا دل کہتا ہے کہ باہر جھڑی لگی ہے، پکوڑوں کی خوشبو اٹھ رہی ہے، آج گھر ہی رہنا چاہیے؛ اور دماغ یاد دلاتا ہے کہ آج اسکول کا دن ہے۔ سوال صرف اتنا تھا: بچہ کس کی سنے؟ اِس معصوم سے سوال نے پورے کمرے کو مباحثے کی آماج گاہ بنا دیا۔ کوئی دل کے حق میں بولا، کوئی دماغ کی وکالت پر اتر آیا، اور رفتہ رفتہ بات دل و دماغ کی کشمکش سے نکل کر اُس گتھی تک جا پہنچی کہ فیصلہ کرتے وقت ہم کن چیزوں کو بنیاد بناتے ہیں: خواہش کو یا شہادت کو؟ وقتی لذت کو یا دیرپا مصلحت کو؟ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے میرے قلم کا سفر شروع ہوتا ہے، کیوں کہ اُس کمرے میں جو کچھ سکھایا جا رہا تھا وہ کوئی مضمون نہ تھا؛ وہ سوچنے کا سلیقہ تھا۔ اور سوچنے کا سلیقہ ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خامی بھی ہے اور سب سے بڑی ضرورت بھی۔ ہم نے صدیوں سے تعلیم کو معلومات کی منتقلی سمجھ رکھا ہے: استاد جانتا ہے، شاگرد نہیں جانتا؛ استاد انڈیلتا ہے، شاگرد جذب کرتا ہے؛ اور امتحان میں وہی سرخرو ہے جو زیادہ سے زیادہ اگل دے۔ اِس ماڈل میں بچے کا ذہن ایک خالی برتن ہے جسے بھرنا مقصود ہے، حالاں کہ حقیقت میں وہ ایک چراغ ہے جسے روشن کرنا مطلوب ہونا چاہیے۔ برتن بھرنے اور چراغ جلانے میں جو فرق ہے، وہی فرق رٹنے اور سمجھنے میں ہے، اور وہی فرق ایک مطیع رعایا اور ایک باشعور شہری میں ہے۔ میں نے ایسے سیکڑوں طلبہ دیکھے جو نمبروں کی دوڑ میں اوّل آئے مگر زندگی کے پہلے ہی سوال پر ٹھٹھک گئے، اور ایسے بھی دیکھے جن کی مارک شیٹ معمولی تھی مگر سوچ روشن تھی — اور وقت نے ہمیشہ دوسروں ہی کو سرخرو کیا۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے یہاں سوچ کیوں مرجھا جاتی ہے؟ اِس کی جڑیں محض نصاب میں نہیں، ہمارے مجموعی مزاج میں پیوست ہیں۔ گھر میں بچے کا پہلا ”کیوں“ اکثر جھڑکی سے دبا دیا جاتا ہے۔ بڑوں کے سامنے سوال کرنا گستاخی سمجھا جاتا ہے، اختلاف کو بے ادبی مانا جاتا ہے اور شک کو ایمان کی کمزوری۔ میں نے ممبرا کے گھروں سے لے کر سولاپور کی بستیوں تک یہ منظر بارہا دیکھا ہے: ننھا بچہ پوچھتا ہے ”ایسا کیوں ہے؟“ اور جواب ملتا ہے ”بس، کہہ دیا ناں!“ پھر یہی بچہ جب مکتب پہنچتا ہے تو اُسے تیس چالیس ہم عمروں کے ساتھ ایک ایسے کمرے میں بٹھا دیا جاتا ہے جہاں خاموشی نظم کی علامت ہے اور سوال بدنظمی کا شاخسانہ۔ یوں گھر اور مکتب مل کر ایک ایسی نسل تیار کرتے ہیں جو حافظے میں امیر اور فکر میں نادار ہوتی ہے۔ اِس رویّے کے پیچھے ایک تاریخی سبب بھی ہے۔ نوآبادیاتی دور میں جو تعلیمی ڈھانچہ ہمیں ورثے میں ملا، اُس کا مقصد سوچنے والے شہری پیدا کرنا نہیں بلکہ حکم بجا لانے والے کارندے تیار کرنا تھا۔ فرنگی کو ایسے کلرک درکار تھے جو ہدایت پر عمل کریں، ہدایت پر سوال نہ اٹھائیں۔ افسوس کہ سامراج تو رخصت ہو گیا مگر اُس کا وضع کردہ سانچہ ہمارے کمرۂ جماعت میں آج بھی سانس لے رہا ہے۔ ہم آزاد ہو کر بھی ذہنی غلامی کے اُس نقشے کو توڑ نہ سکے جو ہمیں فرماں برداری کو ذہانت اور اطاعت کو تہذیب سمجھنا سکھاتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھ لینا ضروری ہے: معلومات اور فہم ایک شے نہیں۔ معلومات یہ جاننا ہے کہ پانی سو درجے پر کھولتا ہے؛ فہم یہ سمجھنا ہے کہ پہاڑ کی چوٹی پر وہی پانی کم درجۂ حرارت پر کیوں کھول اٹھتا ہے۔ پہلی شے حافظہ مانگتی ہے، دوسری غور و فکر۔ اِسی طرح ذہن کے لیے سب سے مشکل مگر سب سے قیمتی ہنر یہ ہے کہ وہ حقیقت اور رائے میں امتیاز کر سکے۔ ”آج بارش ہو رہی ہے“ ایک حقیقت ہے جسے پرکھا جا سکتا ہے؛ ”بارش اداس کر دیتی ہے“ ایک رائے ہے جو ہر دل میں مختلف ہے۔ جو ذہن اِن دونوں کو گڈمڈ کر دیتا ہے وہ زندگی بھر اپنے تعصبات کو حقائق سمجھ کر جیتا ہے اور دوسروں کے حقائق کو محض رائے کہہ کر ٹھکرا دیتا ہے۔ تنقیدی سوچ دراصل اِسی امتیاز کی تربیت کا نام ہے۔ یہ کوئی مغربی درآمد یا جدید ایجاد نہیں؛ یہ انسانی عقل کی وہ قدیم ترین صلاحیت ہے جسے ہر بڑی علمی روایت نے سراہا ہے۔ سقراط ایتھنز کے بازاروں میں جواب دینے کے بجائے سوال کرنا سکھاتا رہا، اِس یقین کے ساتھ کہ بے آزمائی زندگی جینے کے لائق نہیں۔ ہماری اپنی روایت میں ابنِ خلدون نے صدیوں پہلے ”مقدمہ“ میں اُس تعلیم

سوچ کا مکتب Read More »

دس روپے کی عدالت

معصومیت پر الزام، درس گاہ میں تشدد اور ایک ننھی زندگی کا نوحہ ڈاکٹر اسد اللہ خان بازار میں دس روپے کی حیثیت اب اتنی رہ گئی ہے کہ دکان دار انھیں گننے میں وقت صرف نہیں کرتا۔ اس نوٹ پر چائے کی ایک پیالی آتی ہے، نہ رکشے کا کرایہ پورا ہوتا ہے، نہ کسی بھکاری کی دعا لمبی ہوتی ہے۔ مگر بائیس جولائی دو ہزار چھبیس کی دوپہر، مظفر نگر کے ایک گاؤں میں، یہی بے وقعت کاغذ اتنا بھاری ہو گیا کہ ایک دس سالہ بچی کی سانسیں اس کے نیچے دب گئیں۔ یہ مضمون کسی سنسنی خیز خبر کی تفصیل نہیں، ایک سوال کی تفتیش ہے: وہ کون سا نظام ہے، وہ کون سی سوچ ہے، وہ کون سی روایت ہے جو ایک درس گاہ کو — جہاں بچے کو دنیا کی سب سے محفوظ جگہ ہونا چاہیے تھا — اس کے لیے دنیا کی سب سے خطرناک جگہ بنا دیتی ہے؟ آیوشی نام کی وہ بچی اب کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتی؛ اس لیے اب سارے سوالوں کا رخ ہماری طرف ہے۔ اترپردیش کے ضلع مظفر نگر میں نئی منڈی کوتوالی کے علاقے کا گاؤں پنچیڑا کلاں۔ گاؤں کا سرکاری پرائمری اسکول۔ چوتھی جماعت کی دس سالہ طالبہ آیوشی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اسکول کی ایک معلمہ نے الزام لگایا کہ بچی نے اس کے تھیلے سے دس روپے چرائے ہیں۔ اس شکایت پر ایک معلم نے اسکول ہی کے احاطے میں، دوسرے بچوں کے سامنے، اس بچی کو بری طرح پیٹا۔ محلے والوں اور ہم جماعت بچوں نے بتایا کہ وہ روتی ہوئی اسکول سے نکلی اور روتی ہوئی گھر پہنچی۔ گھر پہنچ کر اس نے اپنے گھر والوں سے صرف ایک جملہ بار بار کہا: میں نے چوری نہیں کی، مجھے یہ روپے میز کے نیچے پڑے ملے تھے۔ اسی دوپہر، اپنے ہی گھر میں، اس بچی نے اپنی زندگی ختم کر لی۔ باپ اشوک راجپوت کی تحریر پر پولیس نے دونوں اساتذہ کے خلاف بھارتیہ نیاے سنہتا کی دفعہ ۱۰۷ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، اور تفتیش جاری ہے۔ قانون اپنا راستہ طے کرے گا؛ الزام کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔ مگر جو سوال اس مضمون کا موضوع ہے، وہ کسی ایک مقدمے سے بہت بڑا ہے۔ اس واقعے کا سب سے ہولناک پہلو مار نہیں، وہ عدالت ہے جو چند منٹوں میں کمرۂ جماعت کے اندر قائم ہوئی اور چند منٹوں میں اپنا فیصلہ سنا کر برخاست بھی ہو گئی۔ اس عدالت میں سب کچھ موجود تھا: مدعی موجود، الزام موجود، گواہوں کا مجمع موجود، سزا دینے والا ہاتھ موجود۔ صرف ایک چیز موجود نہیں تھی — صفائی کا موقع۔ ملک کی سب سے چھوٹی عدالت میں بھی ملزم کو وکیل ملتا ہے؛ اس درس گاہ میں دس سال کی بچی کو ایک جملہ مکمل کرنے کی مہلت نہ ملی۔ انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ الزام ثابت ہونے تک آدمی بے قصور ہے۔ ہم نے یہ اصول اپنی عدالتوں کے لیے تو مان لیا، اپنے اسکولوں کے لیے نہیں مانا۔ وہاں الزام ہی ثبوت ہے، اور بڑے کی زبان ہی فیصلہ۔ ستم یہ ہے کہ بچی کا بیان — روپے میز کے نیچے پڑے ملے تھے — اتنا سادہ، اتنا قرینِ قیاس اور اتنا قابلِ تصدیق تھا کہ دو منٹ کی نرم گفتگو پورا معاملہ صاف کر سکتی تھی۔ مگر تصدیق کے لیے صبر چاہیے، اور صبر اسی سے کیا جاتا ہے جسے برابر کا انسان سمجھا جائے۔ یہ سانحہ کسی ایک شخص کے غصے کی پیداوار نہیں؛ یہ اس صدیوں پرانی فکری غلطی کا تازہ ثمر ہے جو مار کو تربیت کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ ہمارے سماج میں یہ فقرہ کہاوت کی سند پا چکا ہے کہ استاد کی مار سنوارتی ہے۔ نسل در نسل والدین نے اساتذہ سے کہا: ہڈی ہماری، کھال آپ کی۔ اس ایک جملے میں ہم نے اپنے بچوں کے جسم پر تشدد کا اجازت نامہ لکھ کر دستخط کر دیے۔ اس روایت کی جڑ ایک نفسیاتی مغالطہ ہے: خوف کو ادب سمجھ لینا اور سہم جانے کو سدھر جانا۔ بچہ مار کھا کر خاموش ضرور ہو جاتا ہے، مگر خاموشی سیکھنے کا نام نہیں۔ وہ غلطی چھوڑنا نہیں، غلطی چھپانا سیکھتا ہے؛ سچ بولنا نہیں، سزا سے بچنا سیکھتا ہے۔ اور جس دن الزام جھوٹا ہو، اس دن مار صرف جسم پر نہیں پڑتی — اس اعتماد پر پڑتی ہے جو بچے نے بڑوں کی دنیا پر کر رکھا تھا۔ کاغذ پر ہمارا ملک اس معاملے میں بے بس نہیں۔ حقِ تعلیم قانون ۲۰۰۹ء کی دفعہ ۱۷ بچوں کو جسمانی سزا اور ذہنی اذیت، دونوں سے صاف لفظوں میں تحفظ دیتی ہے اور خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی کا حکم دیتی ہے۔ قومی کمیشن برائے تحفظِ حقوقِ اطفال اسکولوں سے جسمانی سزا کے مکمل خاتمے کے لیے باقاعدہ رہنما اصول جاری کر چکا ہے۔ نوجوانوں کے تحفظ سے متعلق قوانین بچے کے ساتھ ظلم کو جرم قرار دیتے ہیں۔ یعنی قانون موجود ہے، واضح ہے، اور سخت ہے۔ پھر خرابی کہاں ہے؟ خرابی یہ ہے کہ قانون کی کتاب دارالحکومت میں رہتی ہے اور اسکول کا صحن گاؤں میں۔ دونوں کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہ فاصلہ تربیت سے پُر ہونا تھا، نگرانی سے پُر ہونا تھا، احتساب سے پُر ہونا تھا — مگر وہ خالی رہا۔ قانون کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ واقعے کے بعد پہنچتا ہے: پہلے جنازہ اٹھتا ہے، پھر دفعہ لگتی ہے۔ جو چیز جنازے سے پہلے پہنچ سکتی تھی، وہ قانون نہیں، تربیت تھی۔ تعلیم کے پیشے میں چالیس برس گزارنے کے بعد میں ایک بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں: نظم و ضبط اور تذلیل دو الگ دنیائیں ہیں۔ تادیب کا مقصد بچے کی اصلاح ہے اور اس کی پہلی شرط بچے کی عزتِ نفس کی حفاظت ہے؛ تذلیل کا مقصد بڑے کے غصے کی تسکین ہے اور اس کی پہلی قربانی وہی عزتِ نفس ہے۔ جو استاد بچے کو سب کے سامنے رسوا کرتا ہے وہ نظم قائم نہیں کرتا، صرف یہ اعلان کرتا ہے کہ اس کے پاس سکھانے کا کوئی اور طریقہ نہیں بچا۔ جدید تعلیمی تحقیق جس نتیجے پر بار بار پہنچی ہے، وہ دراصل

دس روپے کی عدالت Read More »

جب درسگاہیں خطرے میں ہوں!!!

رام پور سے کاکریال تک: قانون، تناسب، اور بند ہوتے دروازوں کا ملک ڈاکٹر اسد اللہ خان رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے پھاٹک کے باہر جو مجمع کھڑا ہے، اُس میں ایک آدمی سب سے الگ دکھائی دیتا ہے۔ وہ نہ طالب علم ہے، نہ استاد، نہ کسی جماعت کا کارکن۔ وہ ایک بڑھئی ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اُس نے اپنے دن کی مزدوری چھوڑ کر یہاں آنا قبول کیا، اور اُس کے ہاتھ کی تختی پر سب سے اوپر ایک ہی لفظ لکھا ہے: علم۔ وہ خود اسکول پورا نہیں کر سکا۔ اِس ادارے سے اُس کا رشتہ صرف ایک ہے — اِس کی لکڑی کا کام اُس کے ہاتھوں سے ہوا ہے۔جس شخص نے اِن دروازوں کو رندہ کیا، وہ آج اِن دروازوں کے باہر کھڑا ہے۔ اُس کا خوف کسی سیاسی بیان سے زیادہ صاف ہے: اگر یہ درسگاہ نہ رہی تو اِس علاقے کے لڑکے بھی مزدوری کریں گے، جیسے وہ کرتا ہے۔ چند قدم کے فاصلے پر پلاسٹک کے ایک شامیانے تلے سو کے قریب طلبہ بیٹھے ہیں۔ حبس اور گرمی میں، گودوں میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویریں اور ہاتھوں میں آئین کے نسخے۔ ایک طالبہ، جو خبر سنتے ہی اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ سے چل کر آئی ہے، کہتی ہے کہ اِس احتجاج کا کوئی قائد نہیں؛ یہ کیریئر اور تحفظ کا سوال ہے، اور اُس کے والدین اِس ادارے پر بھروسا کرتے ہیں۔ مگر اِس منظر کا سب سے غیر متوقع حصہ وہ ہے جو پھاٹک کے باہر سے بھی باہر سے آیا۔ بیس جولائی کو سکھ برادری کے دو نمائندے — ایک رام پور سے، ایک اتراکھنڈ سے — وائس چانسلر کے کمرے میں اظہارِ یکجہتی کے لیے آ کر بیٹھے۔ اور اِنہی دنوں ایک اردو روزنامے میں ایک کالم چھپا، جس کے لکھنے والے کا نام پون سنگھ ہے، اور جس کا لہجہ کسی مسلم تنظیم کی قرارداد سے زیادہ تیکھا تھا۔ یعنی اِس مقدمے کی سب سے غیر مشتبہ گواہی اُس صف سے آئی جسے ہم عادتاً “دوسری طرف” کہ دیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اِس مضمون میں پھاٹک کے دونوں طرف کھڑے ہو کر دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے: انتظامیہ کے کاغذ کے ساتھ، ادارے کے کاغذ کے ساتھ، اور اُس پورے ملک کے اعداد کے ساتھ جس میں یہ جھگڑا ہو رہا ہے۔ کیونکہ اِس واقعے کو صرف رام پور کا واقعہ سمجھنا اُس کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ اٹھائیس جون کو رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور یونیورسٹی کے رجسٹرار کو نوٹس دیا کہ کیمپس میں بیاسی ہزار تین سو نو مربع میٹر تعمیر منظوری کے بغیر ہوئی ہے۔ آٹھ جولائی کو ادارے نے جواب داخل کیا۔ پندرہ جولائی کو فریقین کے وکلا کی موجودگی میں سماعت ہوئی، اور اُسی روز ضلع مجسٹریٹ و اتھارٹی کے وائس چیئرمین اجے کمار دویدی نے اترپردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ ۱۹۷۳ کی دفعہ ۲۷(۱) کے تحت حکم جاری کیا: چالیس میں سے اڑتیس عمارتیں مقررہ مدت میں ادارہ خود ہٹا لے، ورنہ انتظامیہ ہٹائے گی۔ حکم کے مطابق ضلع پنچایت کے ریکارڈ میں صرف میڈیکل کالج کی عمارت اور ایک تعلیمی بلاک کے نقشے منظور شدہ ہیں۔ سترہ جولائی کو اتھارٹی نے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں کیویٹ داخل کر دی — اِس اندیشے سے کہ ادارہ عدالت جا سکتا ہے۔ اٹھارہ جولائی سے طلبہ کا دھرنا جاری ہے۔ ایک تفصیل اِس ترتیب میں ایسی ہے جو بظاہر انتظامی ہے مگر معنوی طور پر فیصلہ کن۔ ادارے کی اپیل اتھارٹی کے چیئرمین و کمشنر مراد آباد کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور اُس کی تاریخ انتیس جولائی ہے، جب کہ خود ہٹانے کی مہلت جولائی کے آخری دنوں میں ختم ہو رہی ہے۔ اپیل اور مہلت کے درمیان فاصلہ چند دن کا ہے۔ جس نظام میں دادرسی کا دروازہ اور بلڈوزر کا انجن ایک ہی ہفتے میں کھلتے ہوں، وہاں دادرسی رسمی ہو جاتی ہے۔ انتظامیہ کا استدلال تین نکات پر کھڑا ہے: تعمیر بلا منظوری ہوئی؛ زمین کے مجوزہ استعمال کے ضابطے اِس تعمیر کی اجازت نہیں دیتے؛ اور چونکہ ادارے نے دو عمارتوں کی منظوری لی تھی، اِس لیے وہ قانونی تقاضے سے واقف تھا۔ اتھارٹی کا یہ جواب بھی ریکارڈ پر ہے کہ علاقہ اُس کے دائرے میں آنے سے پہلے بھی ضلع پنچایت کے قانون کے تحت منظوری لازم تھی، لہٰذا محض حدود کی تبدیلی کوئی رعایت نہیں دیتی۔ افسران کا کہنا ہے کہ یہ خلاف ورزیاں موجودہ قانون کے تحت باقاعدہ نہیں کی جا سکتیں۔ ادارے کا مؤقف بھی کاغذ پر موجود ہے: کیمپس کا بڑا حصہ ۲۰۱۶ سے پہلے بن چکا تھا؛ سنگن کھیڑا گاؤں، جو رام پور شہر سے بارہ کلومیٹر دور ہے، ۲۰۲۴ سے پہلے اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں نہیں تھا؛ لہٰذا بعد کے ضابطے ماضی کی تعمیر پر لاگو نہیں ہو سکتے۔ وائس چانسلر پروفیسر ظہیر الدین کے بقول آئین کی دفعہ ۲۲۶ اور ۳۲ کے دروازے بھی کھلے ہیں۔ ۲۰۲۳ میں ریاستی حکومت نے یہ کہہ کر زمین کی لیز منسوخ کی کہ تحقیقی ادارے کے لیے دی گئی زمین پر یونیورسٹی بنا دی گئی؛ مارچ ۲۰۲۴ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے منسوخی برقرار رکھی اور اکتوبر ۲۰۲۴ میں سپریم کورٹ نے مداخلت سے انکار کر دیا۔ بانی اور اُن کے صاحبزادے مختلف مقدمات میں سزا کاٹ رہے ہیں؛ مئی ۲۰۲۶ میں ۲۰۱۹ کی انتخابی تقریر کے ایک مقدمے میں بانی کو دو سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ یہ مضمون اِس لیے نہیں لکھا جا رہا کہ ادارہ معصوم ہے۔ یہ اِس لیے لکھا جا رہا ہے کہ سزا کا محل کیا ہے اور سزا کا نشانہ کون ہے۔ سوال یہ ہے کہ اڑتیس عمارتیں بغیر نقشے کے کیسے بن گئیں۔ جواب تلخ ہے اور کسی ایک ادارے تک محدود نہیں۔ ہمارے ملک میں تعمیر کا عام چلن یہی ہے: پہلے دیوار اٹھتی ہے، پھر فائل چلتی ہے۔ سرکاری دفتر، نجی کالونی، کارخانہ، اسپتال، مندر، مدرسہ — سب اِسی روایت کے شریک ہیں۔ جو خرابی سب کرتے ہیں، وہ خرابی جب چند پر لاگو ہوتی ہے تو قانون کے نفاذ سے زیادہ نفاذ کے انتخاب پر

جب درسگاہیں خطرے میں ہوں!!! Read More »

مصروف والدین اور گم ہوتا بچپن

ڈاکٹر اسد اللہ خان شام کا اُجالا کھڑکی سے رخصت ہو رہا ہے۔ گھر کے ایک گوشے میں ایک بڑا آدمی اپنے دن کی باقی ماندہ ذمہ داریاں سمیٹ رہا ہے۔ اُس کے چہرے پر کسی چراغ کی نہیں، ایک چھوٹی سی اسکرین کی نیلی روشنی پڑ رہی ہے۔ دروازے کی چوکھٹ پر ایک بچہ کھڑا ہے۔ اُس کے ہاتھ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جس پر اُس نے دن بھر کی محنت سے کچھ بنایا ہے: ایک گھر، ایک درخت، اور دو ٹیڑھی سی شکلیں جو ماں اور باپ ہیں۔ وہ کہتا ہے، “دیکھیے، میں نے بنایا ہے۔” جواب آتا ہے، “ابھی نہیں، بیٹا۔ ذرا بعد میں۔” بچہ لڑتا نہیں، روتا نہیں، ضد نہیں کرتا۔ وہ کاغذ کو نہایت احتیاط سے موڑتا ہے، جیسے اُسے کسی بہتر وقت کے لیے محفوظ رکھنا ہے، اور خاموشی سے پلٹ جاتا ہے۔ اِس منظر میں کوئی آواز بلند نہیں ہوتی، اور یہی اِس کی سب سے تکلیف دہ بات ہے۔ جو بچہ شکایت کرتا ہے، وہ ابھی اُمید رکھتا ہے۔ جو خاموشی سے لوٹ جاتا ہے، اُس نے ایک بات سیکھ لی ہے۔ یہ منظر کسی ایک گھر کا نہیں۔ یہ ہر اُس مکان میں دہرایا جا رہا ہے جہاں کمائی کا دباؤ ہے، فیس کی فکر ہے، اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں چھبیس گھنٹوں کا کام ہے۔ ہم اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں، اِس میں شبہ نہیں۔ سوال محبت کا نہیں، فرصت کا ہے۔ اور فرصت وہ واحد سرمایہ ہے جسے قرض پر نہیں لیا جا سکتا۔ بچپن کسی ایک دن رخصت نہیں ہوتا۔ اُس کی رخصتی قسطوں میں ہوتی ہے۔ “ابھی نہیں” کی ہر قسط کے ساتھ وہ ذرا سا سمٹتا ہے، اور ایک دن ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں رہتا؛ ایک نوجوان رہتا ہے جس کے کمرے کا دروازہ اب بند رہتا ہے، اور جس کے پاس ہمارے سوالوں کے مختصر جواب ہیں۔ اِن دنوں سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک پیغام گردش میں ہے۔ اُس کا مضمون یہ ہے کہ بچوں کا بچپن لوٹ کر نہیں آئے گا؛ اُن کی شرارتوں کو بوجھ نہ سمجھیے، کیونکہ یہی شرارتیں ایک دن آپ کی سب سے قیمتی یادیں بن جائیں گی۔ کام اور ذمہ داریاں ہمیشہ رہیں گی، بچپن ایک بار ملتا ہے۔ ایسے پیغامات تیزی سے پھیلتے ہیں، اور اُن کے پھیلنے کی وجہ اُن کی معلومات نہیں، اُن کا لہجہ ہے۔ وہ ہمیں کوئی نئی خبر نہیں دیتے؛ وہ ہمارے اندر ایک پرانا احساسِ جرم جگا دیتے ہیں جو پہلے ہی موجود تھا۔ اِس پیغام میں جو کہا گیا ہے، وہ سچ ہے۔ مشکل یہ ہے کہ وہ ادھورا سچ ہے۔ احساسِ جرم ایک کمزور معلم ہے۔ وہ آنکھ نم کرتا ہے، عادت نہیں بدلتا۔ رات کو ہم یہ پیغام پڑھ کر بچے کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں، اور اگلی صبح دفتر کا وقت، ٹریفک اور بجلی کا بل ہمیں وہیں پہنچا دیتے ہیں جہاں ہم کل تھے۔ جو تحریک صرف جذبے پر کھڑی ہو، اُس کی عمر ایک رات ہوتی ہے۔ دوسری کمی اِس سے بڑی ہے۔ ایسے پیغامات پورا بوجھ اکیلے والدین کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں اور اُن ڈھانچوں کا نام نہیں لیتے جو والدین سے وقت چھینتے ہیں۔ جس باپ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ بچے کو وقت دے، اُس سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ وقت کہاں سے آئے گا: اُس نوکری سے جس میں چھٹی کا تصور نہیں، یا اُس سفر سے جو روز اُس کے تین گھنٹے کھا جاتا ہے؟ جس ماں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ بچپن ایک بار ملتا ہے، اُسے یہ بھی معلوم ہے کہ کرایہ ہر مہینے آتا ہے۔ اِس مضمون کا مقصد اُس آہ کو دہرانا نہیں جو ہم سب کے سینے میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اُس آہ کو ایک سوال میں بدلا جائے، اور سوال کو ایک تدبیر میں۔ جذبہ اُس وقت تک بے کار ہے جب تک وہ تجزیے سے نہ گزرے، اور تجزیہ اُس وقت تک ادھورا ہے جب تک وہ عمل تک نہ پہنچے۔ بچپن: ایک حیاتیاتی حقیقت یا ایک تہذیبی سہولت؟ عام خیال یہ ہے کہ بچپن ایک قدرتی مرحلہ ہے جو ہر انسان کو خود بخود مل جاتا ہے۔ یہ خیال ادھورا ہے۔ عمر کے ابتدائی برس بلاشبہ حیاتیاتی حقیقت ہیں، مگر “بچپن” — یعنی وہ محترم، محفوظ اور الگ سے پہچانا جانے والا زمانہ جس میں انسان کو کام سے، کمائی سے اور کارآمد ہونے کے تقاضے سے مستثنیٰ رکھا جائے — یہ تہذیب کی دین ہے، فطرت کی نہیں۔ فرانسیسی مؤرخ فلپ آریئس نے تاریخِ بچپن پر اپنی معروف تحقیق میں یہ مقدمہ پیش کیا تھا کہ قدیم یورپی سماج میں بچپن کا وہ تصور موجود نہ تھا جو جدید دور میں پیدا ہوا؛ بچے کو چھوٹا بالغ سمجھا جاتا تھا۔ اہلِ علم نے اِس مقدمے کے بعض حصوں سے اختلاف بھی کیا ہے، اور اختلاف بجا ہے۔ مگر اِس بحث سے ایک بات بہرحال ثابت ہوتی ہے: بچپن کی حد بندی، اُس کا احترام اور اُس کا قانونی و اخلاقی تحفظ ایک طویل تاریخی عمل کا نتیجہ ہیں۔ جو چیز تاریخ نے بنائی ہو، اُسے تاریخ مٹا بھی سکتی ہے۔ ہماری اپنی مشرقی اور اسلامی روایت میں بچے پر شفقت کو محض ایک نرم مزاجی نہیں، دین داری کے مزاج کا حصہ قرار دیا گیا۔ سیرتِ طیبہ کے وہ واقعات جن میں نمازِ باجماعت کے دوران کسی ننھے وجود کو کندھے سے اتارا اور اٹھایا گیا، یا خطبے میں کسی بچے کے رونے پر اختصار برتا گیا، محض روایتیں نہیں؛ وہ ایک اصول کا اعلان ہیں کہ عبادت کی صف میں بھی بچے کی ضرورت کو جگہ ملتی ہے۔ یہ ایک بلند معیار ہے، اور ہم اِس سے بہت نیچے جی رہے ہیں۔ اِس مقام پر میں ایک اصطلاح تجویز کرنا چاہتا ہوں: بچپن ایک مہلت ہے۔ یہ وہ وقفہ ہے جو سماج ہر نئے انسان کو عطا کرتا ہے تاکہ اُسے کچھ برس صرف انسان ہونے کے لیے مل جائیں — کھیلنے، پوچھنے، غلطی کرنے، ٹھوکر کھانے اور بے مقصد ہونے کے لیے۔ یہ مہلت فضول خرچی نہیں، سرمایہ کاری ہے۔ جو سماج اِسے مختصر کر دے، وہ اپنے مستقبل کے

مصروف والدین اور گم ہوتا بچپن Read More »

سائنسی مزاج، تعلیمی قیادت اور ثبوت کی ثقافت کا بحران

ڈاکٹر اسد اللہ خان اِس ملک میں دو طرح کی چوریاں ہوتی ہیں اور ہم صرف ایک کو چوری کہتے ہیں۔ پہلی چوری کا سراغ لگانا آسان ہے۔ ایک سوالیہ پرچہ امتحان سے پہلے کسی کے فون میں پہنچ جاتا ہے اور لاکھوں نوجوانوں کے ایک برس کی ریاضت رات کے کسی پہر بے وقعت ہو جاتی ہے۔ اخبار اِسے سرخی بناتے ہیں، ایوان اِس پر گرجتا ہے، تفتیشی ادارے حرکت میں آتے ہیں، اور کہیں نہ کہیں ایک گرفتاری بھی عمل میں آ جاتی ہے۔ دوسری چوری اِس سے زیادہ سنگین ہے اور اِس پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ اِس میں پرچہ نہیں، طریقہ چُرایا جاتا ہے۔ کوئی صاحبِ منصب کسی محفل میں ایک دعویٰ پیش کرتا ہے، دلیل کا سارا مرحلہ چھوڑ دیتا ہے، اور سامعین کے حصے میں وہ یقین آ جاتا ہے جس کی قیمت کسی نے ادا نہیں کی۔ غور کیجیے تو دونوں واقعات کی ساخت ایک ہے۔ پرچہ چُرانے والا محنت کے بغیر نمبر لے جاتا ہے؛ بے دلیل دعویٰ کرنے والا تحقیق کے بغیر تصدیق لے جاتا ہے۔ دونوں نے وہ درمیانی راستہ حذف کر دیا ہے جس کا نام علم ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک پر رپورٹ لکھی جاتی ہے اور دوسرے پر تالیاں بجتی ہیں۔ جولائی کے آخری ہفتے میں یہ دونوں چوریاں ایک ہی صفحے پر جمع ہو گئیں۔ ایک طرف وہ امتحان تھا جس کی ساکھ مٹی میں مل چکی تھی، دوسری طرف وہ جملہ تھا جو ایوان میں گونجا اور جس پر ملک دو حصوں میں بٹ گیا۔ اخبارات نے اِسے سیاست کا معاملہ سمجھا۔ میرے نزدیک یہ سیاست سے زیادہ تعلیم کا معاملہ ہے، اور تعلیم سے زیادہ اُس رویّے کا، جسے ہمارے دستور نے ‘سائنسی مزاج’ کہا ہے۔ واقعہ کیا ہے ؟ تین مئی دو ہزار چھبیس کو ہونے والا نیٹ (یو جی) کا امتحان پرچہ افشا ہونے کے الزامات کے بعد منسوخ کیا گیا اور اکیس جون کو دوبارہ لیا گیا۔ طلبہ کا احتجاج چھتیس دن جاری رہا۔ پچیس جولائی کو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوئے اور وزارت کا اضافی چارج پرہلاد جوشی کے سپرد ہوا۔ چھبیس جولائی کو وزیرِ اعظم نے امتحانی اصلاحات کے لیے چھ رکنی اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس کا اعلان کیا۔ اِس ٹاسک فورس کی صدارت انفوسس کے شریک بانی اور آدھار کے معمار نندن نیلیکنی کے سپرد ہوئی۔ باقی ارکان میں اسرو کے سابق چیئرمین ایس سومناتھ، انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر ٹپن ڈیکا، آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی کاماکوٹی، تعلیم کی سابق سیکریٹری انیتا کروال اور سینئر انتظامی افسر امرت لال مینا شامل ہیں۔ ذمہ داری یہ سونپی گئی کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے نظام کو ٹیکنالوجی کی مدد سے محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد بنایا جائے۔ اٹھائیس جولائی کو لوک سبھا میں امتحانات میں بدعنوانی کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل پر بحث ہوئی۔ پرینکا گاندھی واڈرا نے یاد دلایا کہ دو ہزار چوبیس کے نیٹ بحران کے بعد سابق چیئرمین اسرو کے رادھا کرشنن کی سربراہی میں جو کمیٹی بنی تھی، اُن کے بیان کے مطابق اُس کی ایک سفارش بھی نافذ نہیں ہوئی۔ اِس کے بعد اُنھوں نے نئی کمیٹی کی ترکیب پر اعتراض کیا اور کہا کہ اِس میں ایک سابق آئی بی سربراہ ہے، ایک آئی ٹی کمپنی کا مالک ہے اور ایک ‘گئو مُتر وشیش گیہ’ بھی ہے۔ نام نہیں لیا گیا، مگر اشارہ سب نے سمجھ لیا۔ حکمراں جماعت کی جانب سے شدید احتجاج ہوا اور انوراگ ٹھاکر نے اِس جملے پر اعتراض درج کرایا۔ اشارہ اُس تقریر کی طرف تھا جو پندرہ جنوری دو ہزار پچیس کو ماٹو پونگل کے موقع پر چنئی کی ایک گوشالا میں ہوئی۔ اُس تقریر میں پروفیسر کاماکوٹی نے دیسی نسل کے مویشیوں اور نامیاتی کاشت کاری کی اہمیت بیان کی اور اِس ضمن میں کہا کہ گئو مُتر میں جراثیم کش اور فنگس کش خواص ہیں اور یہ ہاضمے کی خرابیوں، بلکہ آنتوں کے ایک خاص عارضے میں بھی مفید ہے۔ اُنھوں نے ایک سنیاسی کا واقعہ سنایا، جس کا تیز بخار گئو مُتر پینے کے پندرہ منٹ بعد اُتر گیا؛ نام اُنھیں یاد نہیں تھا۔ ویڈیو وائرل ہوا، اعتراض ہوئے، اور اگلے ہی روز اُنھوں نے صحافیوں سے کہا کہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت شدہ ہے اور امریکہ کے جرائد میں اِس کی شہادتیں موجود ہیں۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے دو ہزار اکیس کا وہ مقالہ پیش کیا جو نیچر گروپ کے ایک جریدے میں قومی ڈیری تحقیقاتی ادارے کے محققین نے شائع کیا تھا اور جس میں گئو مُتر کے پیپٹائیڈز کی نشان دہی کی گئی تھی۔ یہاں ایک اعتراف ضروری ہے، اور یہ اعتراف اِس بحث کی پہلی شرط ہے۔ پروفیسر کاماکوٹی کمپیوٹر آرکیٹیکچر اور سائبر سیکیورٹی کے سنجیدہ محقق ہیں، ملک کے دیسی مائیکرو پروسیسر منصوبے سے وابستہ رہے ہیں، دو ہزار ایک سے آئی آئی ٹی مدراس میں تدریس کر رہے ہیں اور دو ہزار بائیس سے اُس کے ڈائریکٹر ہیں۔ اُن کی علمی محنت حقیقی ہے۔ زیرِ بحث اُن کی صلاحیت نہیں، ایک اصول ہے۔ ہم اِس واقعے کو کسی ایک فرد کی لغزش سمجھ کر آگے بڑھ سکتے ہیں، مگر یہ سہولت خود ایک فرار ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام دو نسلوں سے ایک ہی چیز سکھا رہا ہے: درست جواب۔ سوال، شک، غلطی، اور اُس طویل راستے کی ساری مشقت جس سے جواب پیدا ہوتا ہے — یہ سب نصاب کے حاشیے پر پڑا رہتا ہے، کیونکہ اِن کے لیے کوئی خانہ نہیں، کوئی نمبر نہیں، کوئی رینک نہیں۔ برسوں کے تدریسی مشاہدات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے اسکولوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ بچہ وہ ہے جو پوچھتا ہے: ‘ہمیں یہ کیسے معلوم ہوا؟’ وہ نصاب کی رفتار توڑتا ہے، استاد کا وقت لیتا ہے، اور اکثر ایک ایسا جواب مانگتا ہے جو استاد کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ ہم اُسے خاموش کرا دیتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اُس ایک لمحے میں ہم نے صرف ایک سوال نہیں دبایا، ایک رویّہ دبا دیا۔ چنانچہ ہم ایسے ذہن پیدا کرتے ہیں جو معلومات میں بے پناہ اور طریقے میں بالکل خالی ہوتے ہیں۔ اِنھیں سائنس کے

سائنسی مزاج، تعلیمی قیادت اور ثبوت کی ثقافت کا بحران Read More »

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری قدرت کی تنبیہ، قرآن کی رہنمائی اور انسانیت کے لیے ایک سبق ڈاکٹر اسد اللہ خان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاختِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ “بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، اور رات دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 190) ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ “خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا، اس سبب سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔” (سورۃ الروم: 41) بے بس انسان اور آفاقی سچائی دنیا روزانہ جاگتی ہے، لیکن ہر صبح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض صبحیں سورج کی روشنی کے ساتھ امید لے کر آتی ہیں، اور بعض صبحیں زمین کی لرزش کے ساتھ انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلا جاتی ہیں۔ کہیں زلزلہ آتا ہے، کہیں سیلاب بستیوں کو نگل جاتا ہے، کہیں آسمان آگ برساتا ہے، کہیں سمندر اپنی حدود توڑ دیتا ہے، اور کہیں ایک معمولی سا وائرس پوری دنیا کی طاقت، معیشت اور ٹیکنالوجی کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کرتا ہے۔ ان واقعات کو اگر صرف “قدرتی آفات” کہہ کر اخبار کے ایک صفحے تک محدود کر دیا جائے تو شاید ہم بہت بڑی حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ مومن کے لیے یہ صرف خبریں نہیں ہوتییں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ قرآن انہیں “آیات” کہتا ہے؛ ایسی نشانیاں جو انسان کو اس کے رب، اس کی کمزوری، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں۔ آج کا انسان چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے، مصنوعی ذہانت کو اپنی عقل کا جانشین سمجھنے لگا ہے، اور چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانے پر فخر کرتا ہے۔ اس نے فلک بوس عمارتیں کھڑی کر لیں، سمندر کی تہوں میں اتر گیا، پہاڑوں کو چیر کر شاہراہیں بنا دیں، مگر وہ اب بھی ایک ایسے معمولی سے زلزلے کے سامنے بے بس ہے جو چند لمحوں میں اس کی برسوں کی محنت، دولت، منصوبے اور غرور کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ یہی انسانی حقیقت ہے جسے قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔ ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ “انہوں نے اللہ کی قدر ویسی نہ پہچانی جیسی پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی۔” (سورۃ الزمر: 67) دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں مٹیں، بعض اوقات ایک جھٹکے نے پوری سلطنتوں کو قصۂ پارینہ بنا دیا۔ قومِ عاد اپنی طاقت پر ناز کرتی تھی، قومِ ثمود اپنے پہاڑ تراش کر محلات بنانے پر فخر کرتی تھی، فرعون اپنے اقتدار کو دائمی سمجھتا تھا، قارون اپنی دولت پر اکڑتا تھا، مگر قدرت نے سب کو ایک لمحے میں تاریخ کا سبق بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار انسان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھا؟ ﴿أفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾ “کیا وہ زمین میں چلتے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے تھے؟” (سورۃ یوسف: 109) یہ سوال صرف تاریخ پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کے لیے ہے۔ سانحات، اخلاقی حس اور دل کا زلزلہ گزشتہ دنوں دنیا کے ایک خطے میں آنے والے شدید زلزلے نے ایک مرتبہ پھر یہی سبق دہرایا۔ چند لمحوں میں مضبوط عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے، والدین اپنی اولاد کو ڈھونڈتے رہ گئے، اور وہ لوگ جو چند منٹ پہلے معمول کی زندگی گزار رہے تھے، اچانک موت اور زندگی کے درمیان کھڑے ہو گئے۔ ایسے مناظر ہر حساس انسان کی آنکھ نم کر دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مناظر ہمارے دل بھی بدلتے ہیں؟ افسوس یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اب سانحات کو بھی ایک “وائرل ویڈیو” کی طرح دیکھنے لگا ہے۔ چند لمحے افسوس، چند دعائیں، چند تبصرے، اور پھر اگلی خبر؛ گویا انسانی جان کی حرمت بھی خبروں کی رفتار کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ» “زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔” (جامع الترمذی، حدیث: 1924) اسلام نے ہمیں صرف عبادت گزار نہیں بنایا بلکہ دردِ دل رکھنے والا انسان بنایا ہے۔ مومن وہ ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، جو مصیبت زدہ کی مدد کرے، جو بھوکے کو کھانا کھلائے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے، بے گھر کے لیے پناہ بنے اور مصیبت کے وقت انسانیت کا سہارا بنے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ» “مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں، جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 6011؛ صحیح مسلم، حدیث: 2586) یہی وہ معیار ہے جس پر ہمیں اپنے ایمان کو پرکھنا چاہیے۔ اگر دنیا کے کسی کونے میں آنے والی آفت ہمارے دل کو نہ ہلائے، اگر کسی ماں کی آہ ہمارے ضمیر کو نہ جگائے، اگر کسی یتیم بچے کے آنسو ہمیں بے چین نہ کریں، تو ہمیں اپنے ایمان کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ قدرت کی ہر تنبیہ ہمیں دو سوالوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: پہلا سوال یہ کہ اگر آج یہ آزمائش ان پر آئی ہے تو کیا یقین ہے کہ کل ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے گی؟ اور دوسرا، اس سے بھی زیادہ اہم سوال، اگر آج ہماری زندگی کا زلزلہ آ جائے، اگر موت اچانک ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہو، تو کیا ہم اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال کسی جغرافیے، کسی قوم، کسی مذہب یا کسی زبان کا نہیں؛ یہ ہر انسان کا

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری Read More »

چلو اسکول، ناکامی سیکھیں!

جب تعلیم کا پہلا دروازہ ہی احساسِ محرومی میں کھلنے لگے داخلوں کی دوڑ، بچپن کی پہلی شکست اور تعلیم کے بدلتے ہوئے چہرے کی داستان ڈاکٹر اسد اللہ خان وہ صبح، جس دن ایک بچہ پہلی بار ہار گیا صبح کے سات بج رہے تھے۔ بارش ابھی تھمی ہی تھی اور کھڑکی کے شیشوں پر بارش کے چند قطرے اب بھی ایسے ٹھہرے ہوئے تھے جیسے کسی نے وقت کو چند لمحوں کے لیے روک دیا ہو۔ گلی میں اسکول بس کے ہارن کی آواز گونجی تو چار سالہ ساجد اچانک بستر سے اچھل کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے دوڑتے ہوئے اپنی ننھی سی پانی کی بوتل اٹھائی، الماری سے نیلے رنگ کا ننھا سا بیگ نکالا، اسے اپنی پشت پر لٹکایا اور آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ وہ خود کو بار بار دیکھ رہا تھا؛ کبھی بیگ سیدھا کرتا، کبھی اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتا، اور کبھی تصور ہی تصور میں کسی ٹیچر کو “گڈ مارننگ میم” کہہ کر مسکرا دیتا۔ اسے یقین تھا کہ آج وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح اسکول جائے گا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکول جانے کے لیے صرف معصومیت کافی نہیں رہی، اب اس کے لیے ایک ایسا امتحان ضروری ہے جس کی نہ اسے خبر ہے، نہ اس کے معنی معلوم ہیں، اور نہ اس کے نتائج۔ وہ تو صرف اتنا جانتا ہے کہ اسکول میں دوست ملتے ہیں، رنگ برنگی کتابیں ہوتی ہیں، جھولے ہوتے ہیں، اور شاید ایک ایسی ٹیچر بھی جو ماں کی طرح پیار کرتی ہوگی۔ لیکن اسی وقت گھر کے دوسرے کمرے میں ایک اور منظر چل رہا تھا۔ کھانے کی میز پر داخلہ فارم، آدھار کارڈ کی فوٹو کاپیاں، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، بجلی کا بل، بینک اسٹیٹمنٹ، پاسپورٹ سائز تصاویر، پین کارڈ، اور نہ جانے کتنے کاغذات بکھرے ہوئے تھے۔ ساجد کی ماں بار بار ایک فائل کھول کر بند کر رہی تھی۔ باپ خاموش بیٹھا تھا—ایک ایسی خاموشی جس کے اندر کئی طوفان تھے۔ وہ بار بار گھڑی دیکھتا، پھر فائل دیکھتا، پھر اپنے بیٹے کو اور پھر نہ جانے کیوں اپنی ذات کو تکنے لگتا۔ آج امتحان ساجد کا نہیں، بلکہ اس کے والدین کا تھا۔ ان کی زبان، انگریزی، ملازمت، آمدنی، رہن سہن، لباس، شخصیت اور شاید ان کے سماجی مرتبے کا بھی امتحان تھا۔ یہ وہ امتحان تھا جس کا نصاب کسی کتاب میں نہیں ملتا اور جس کی تیاری کسی استاد کے پاس نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ صرف “داخلہ ملا” یا “داخلہ نہیں ملا” نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات ایک ننھے سے دل میں یہ پہلا احساس بھی چھوڑ جاتا ہے کہ شاید وہ دوسروں سے کم تر ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بچپن پہلی بار زندگی کے سامنے ہارنے لگتا ہے۔ داخلے کا موسم یا والدین کا امتحان؟ ہم نے تعلیم کو ہمیشہ روشنی، امید اور مساوات کی علامت سمجھا ہے۔ اسکول وہ جگہ تھی جہاں معاشرے کے ہر طبقے کا بچہ ایک ہی بینچ پر بیٹھ کر یہ سیکھتا تھا کہ علم انسانوں کے درمیان فرق نہیں کرتا۔ استاد وہ شخصیت تھا جو نام، نسب یا آمدنی نہیں پوچھتا تھا، بلکہ صرف یہ دیکھتا تھا کہ سامنے بیٹھا بچہ سیکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ لیکن وقت نے تعلیم کا چہرہ بدل دیا ہے۔ آج بہت سے شہروں میں اسکول کا دروازہ علم سے پہلے سماجی شناخت کو دیکھنے لگا ہے۔ داخلہ فارم اب صرف بچے کی معلومات نہیں مانگتے، بلکہ والدین کی معاشی حیثیت، پیشہ، زبان، تعلیمی قابلیت اور طرزِ زندگی تک جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ایک چار سالہ بچے کی قسمت کا فیصلہ واقعی اس کے والدین کی تنخواہ، انگریزی لہجے یا ڈرائنگ روم کے سائز سے ہونا چاہیے؟ ہندوستان میں ہر سال جون کا مہینہ صرف تعلیمی سال کے آغاز کی خبر نہیں لاتا، بلکہ لاکھوں گھروں میں امید اور مایوسی کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد، پونے، چنئی اور کولکاتا جیسے بڑے شہروں میں ہر سال داخلوں کے موسم میں یہی بے چینی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اخبارات میں رات بھر لگنے والی قطاروں، محدود نشستوں اور نرسری داخلوں کے لیے قائم خصوصی کوچنگ سینٹرز پر مسلسل خبریں شائع ہوتی ہیں۔ عدالتوں، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ ابتدائی تعلیم کے دروازے پر انصاف کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود سب سے زیادہ خاموش وہ بچہ ہوتا ہے جس کے نام پر یہ پوری جنگ لڑی جا رہی ہوتی ہے۔ بچپن کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ کامیابی اور ناکامی کی لغت سے بے خبر ہوتا ہے۔ چار سال کا بچہ نہ میرٹ جانتا ہے، نہ ویٹنگ لسٹ۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ سامنے والے گھر کا علی آج اسکول گیا ہے، لہٰذا وہ بھی جانا چاہتا ہے۔ لیکن جب بڑوں کی دنیا اس کی راہ میں اپنی شرطیں اور دیواریں کھڑی کر دیتی ہے، تو وہ کچھ نہیں سمجھتا۔ وہ صرف اتنا پوچھتا ہے: “ابو… میرا اسکول کب شروع ہوگا؟” یہ سوال بظاہر چھوٹا ہے، مگر ایک حساس باپ کے لیے اس کا جواب پوری زندگی کے مشکل ترین سوالوں میں سے ایک بن جاتا ہے۔ میرے ایک دوست ہیں، نام بدل کر انہیں راشد کہہ لیتے ہیں۔ پیشہ صحافت، کتابوں سے محبت، سچ بولنے کی عادت اور اپنے چار سالہ بیٹے ساجد سے بے پناہ عشق۔ جس دن شہر کے ایک معروف اسکول میں انٹرویو تھا، اس دن راشد نے اپنی بہترین قمیص پہنی اور بیوی نے فائل ترتیب دی۔ ہر کاغذ اپنی جگہ موجود تھا، مگر ایک چیز کہیں درج نہیں تھی: اپنے بچے کے لیے ایک باپ کی محبت، کیونکہ اس محبت کا کوئی خانہ فارم میں موجود نہیں تھا۔ ہمارے معاشرے کا شاید ہی کوئی اور امتحان ہو جس کی تیاری تین سالہ بچہ کم اور اس کے والدین زیادہ کرتے ہوں۔ گھر میں روزانہ مشق ہوتی؛ “گڈ مارننگ”، “تھینک یو”، “ایپل، بال، کیٹ”۔ ماں تصویریں دکھاتی، باپ رنگ یاد کراتا، دادا دعائیں دیتا اور دادی نظر اتارتی۔ انٹرویو شروع ہوا تو راشد کے مطابق چند رسمی سوالات کے بعد گفتگو کا رخ اچانک بدل

چلو اسکول، ناکامی سیکھیں! Read More »

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا!

ڈاکٹر اسد اللہ خان آج کے دور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینے کے باوجود نوکری پا لینا گویا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ آپ میں سینکڑوں صلاحیتیں ہوں، مگر اگر ایک بھی “کمی” نظر آ جائے — کوئی جسمانی معذوری، کوئی کمزوری، کوئی “داغ” — تو پورا چراغ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کام ناممکن نہیں ہوتا، مگر مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ مجھے ایک ایسے ہی ہونہار نوجوان کا قصہ یاد آتا ہے۔ ملک کے ایک ممتاز انجینئرنگ ادارے سے فارغ التحصیل، تعلیمی ریکارڈ اِس قدر شاندار کہ کاغذات دیکھتے ہی ایک بڑی کمپنی نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لینے کا ارادہ کر لیا۔ مگر جب انٹرویو میں یہ کھلا کہ وہ نوجوان قوتِ سماعت کی ایک بیماری میں مبتلا ہے، تو وہی کمپنی — جو ابھی ابھی اُس کی ذہانت پر فریفتہ تھی — چپ چاپ قدم پیچھے کھینچ لائی۔ ڈگری، محنت اور قابلیت — سب ایک “طبی رپورٹ” کے سامنے ہار گئے۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہونی چاہیے۔ کیونکہ معذوری جسم کی ہوتی ہے، حوصلے کی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی، اُن میں سے بیشتر نے “کمی” کو “طاقت” میں بدلا۔ آئیے آج ایسے ہی دس روشن چراغوں کی داستانیں سنتے ہیں — جن کی لَو آندھیوں میں بھی بجھی نہیں، بلکہ اور تیز ہوئی۔ عظمت اور ہمت کی روشن مثالیں انسان اگر سچے دل سے کچھ کرنے کا ارادہ کر لے تو جسمانی اعضاء کی محرومی اس کے خوابوں کے آڑے کبھی نہیں آ سکتی۔ تاریخ اور حال کے افق پر ایسے کئی درخشندہ ستارے چمک رہے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت کے بلبوتے پر طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ شری کانت بولا (Srikanth Bolla): پیدائشی طور پر مکمل نابینا شری کانت بولا کو بچپن ہی سے انتہائی غربت اور سماجی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب انہوں نے دسویں جماعت کے بعد سائنس پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، تو بھارتی نظامِ تعلیم نے ان کے نابینا ہونے کا بہانہ بنا کر صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے اس ناانصافی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چھ ماہ کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد کامیابی حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گیارہویں جماعت میں ۹۸ فیصد نمبر لے کر سب کو حیران کر دیا۔ جب ملک کے مایہ ناز ادارے آئی آئی ٹی (IIT) نے بھی انہیں داخلہ دینے سے انکار کیا، تو انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ایم آئی ٹی (MIT) کا رخ کیا اور وہاں داخلہ پانے والے پہلے بین الاقوامی نابینا طالب علم بن گئے۔ بھارت واپس آ کر انہوں نے “بولانٹ انڈسٹریز” (Bollant Industries) قائم کی جو ماحول دوست مصنوعات بناتی ہے اور جہاں سیکڑوں معذور افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ آج شری کانت کروڑوں روپے کی کمپنی کے مالک اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک عالمی رول ماڈل ہیں۔ سدھا چندرن (Sudha Chandran): محض ۱۶ سال کی عمر میں ایک خوفناک سڑک حادثے اور ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سدھا چندرن کی دائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ایک کلاسیکل رقاصہ کے لیے یہ مصیبت کسی موت سے کم نہ تھی کیونکہ ان کا پورا کیریئر پاؤں کی تھرکنے سے وابستہ تھا۔ مگر سدھا نے بیساکھیوں کے سہارے جینے کو ٹھکرا دیا اور “جائپور فٹ” (مصنوعی ٹانگ) لگوا کر انتہائی شدید تکلیف کے باوجود دوبارہ رقص سیکھنا شروع کیا۔ مشق کے دوران اکثر ان کے زخموں سے خون بہہ نکلتا تھا، مگر ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اسٹیج پر واپسی کی اور ایسا شاندار رقص پیش کیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی۔ آج وہ نہ صرف ایک عالمی شہرت یافتہ رقاصہ ہیں بلکہ بھارتی فلم و ٹیلی ویژن کی ایک مانی ہوئی اور کامیاب اداکارہ بھی بن چکی ہیں۔ ایرا سنگھل (Ira Singhal): ریڑھ کی ہڈی کی ایک نایاب بیماری “اسکولیوسس” (Scoliosis) کی وجہ سے ایرا سنگھل کے دونوں بازوؤں کی حرکت انتہائی محدود تھی۔ انہوں نے اپنی اس کمزوری کو پڑھائی کے آڑے نہیں آنے دیا اور ۲۰۱۰ میں ملک کا سب سے مشکل امتحان یو پی ایس سی (UPSC) پاس کیا، مگر انتطامیہ نے ان کی جسمانی حالت کا بہانہ بنا کر انہیں سرکاری ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔ ایرا نے اس امتیازی سلوک کو چپ چاپ قبول کرنے کے بجائے سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (CAT) میں کیس دائر کیا اور چار سال تک ایک صبر آزما قانونی جنگ لڑ کر اپنا حق جیتا۔ انہوں نے ۲۰۱۴ میں دوبارہ امتحان دیا اور اس بار نہ صرف کامیاب ہوئیں بلکہ پورے ملک میں پہلی پوزیشن (Rank 1) حاصل کر کے جنرل کیٹیگری میں ٹاپ کیا۔ آج وہ ایک بہترین اور نڈر سول سروسز آفیسر کے طور پر ملک کی خدمت کر رہی ہیں۔ ارونیما سنہا (Arunima Sinha): قومی سطح کی والی بال کھلاڑی ارونیما سنہا کی زندگی میں ۲۰۱۱ میں اس وقت اندھیرا چھا گیا جب کچھ چوروں نے انہیں چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا، جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ہسپتال کے بستر پر جہاں لوگ ان پر ترس کھا رہے تھے اور انہیں “بے چاری” سمجھ رہے تھے، انہوں نے وہیں لیٹے لیٹے دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کا ناقابل یقین فیصلہ کیا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی انہوں نے پہلی بھارتی خاتون ایورسٹ فاتح بچیندری پال سے سخت ٹریننگ شروع کی۔ سرپھرے عزم کی بدولت ۲۰۱۳ میں وہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی دنیا کی پہلی معذور خاتون بنیں اور اس کے بعد انہوں نے دنیا کے تمام ۷ براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں پر کامیابی سے اپنے ملک کا ترنگا لہرایا۔ تاریخ کے مزید روشن ستارے نک وجیسک (Nick Vujicic): آسٹریلیا میں ۱۹۸۲ میں پیدا ہونے والے نک وجیسک کی جسمانی حالت دیکھ کر لوگ کانپ اٹھتے تھے کیونکہ وہ بغیر بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں ہم جماعتوں کی ایذا رسانی اور شدید ذہنی اذیت سے تنگ آ کر محض ۱۰ سال کی عمر میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی اور روتے ہوئے اپنی ماں سے پوچھا تھا کہ

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا! Read More »

تعلیم کے ذریعے ۔۔۔ تعمیر یا تخریب ؟ ۔۔۔

ڈاکٹر اسد اللہ خان بچوں کو آپ اسکول کیوں بھیجتے ہیں؟ یہ سوال سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، اپنے باطن میں اتنا ہی طوفان سموئے ہوئے ہے۔ یہ ایک سوال نہیں، ایک تہذیب کا احتساب ہے۔ ایک تڑپتے ہوئے باپ کا، ایک فکرمند ماں کا اور ایک بکھرتی ہوئی قوم کا وہ مقدمہ ہے جو آج اپنے ہی ہاتھوں اپنی نسل کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے اور اسے خبر بھی نہیں! جب بھی کسی باپ کی آنکھوں میں جھانک کر یہ پوچھا جائے تو جواب ایک ہی لے میں، ایک ہی بے فکری سے آتا ہے: ”بچے پڑھ لکھ کر کچھ بن جائیں۔” لیکن کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے کہ اس ”کچھ بننے” کا خواب کب کا سکڑ کر محض چند ہزار یا چند لاکھ کی کمائی کا ہدف بن چکا ہے؟ شخصیت کی تعمیر، کردار کی پرورش، ذہن کی روشنی — یہ الفاظ اب صرف اسکولوں کے چمکدار بروشروں میں خوبصورت فونٹ میں چھپتے ہیں، کسی کے دل میں نہیں اترتے۔ والدین بچوں کو اسکول ایسے بھیجتے ہیں جیسے خط کو لفافے میں بند کر کے پوسٹ باکس میں ڈال دیا جائے — کہ اب آگے کا ذمہ ڈاکخانے کا ہے، ہمارا کام ختم ہوا۔ سال ۲۰۲۶ء کا یہ وہ لحظہ ہے جب اس سوال کی گہرائی ہماری برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا طوفان اب دروازے پر دستک نہیں دے رہا، وہ تو ہمارے بیڈرومز اور کلاس رومز کے اندر آ بیٹھا ہے۔ ChatGPT اور Gemini اب ہر چوتھی جماعت کے بچے کی جیب میں ہیں، ہر اسمارٹ فون کے اندر موجود ہیں۔ وہ ہر سوال کا جواب چند سیکنڈ میں اگل دیتے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ آپ کے بچے کا حافظہ کتنا تیز ہے اور وہ کتنے جواب جانتا ہے — اب رونے کا مقام یہ ہے کہ کیا وہ سوچنا بھی جانتا ہے؟ کیا ہم ہڈ ماس کے انسان بنا رہے ہیں یا مائیکرو چپس سے چلنے والے بے جان آلے؟ اسکول کی چہار دیواری: درسگاہ یا عقوبت خانہ؟ جس اسکول میں دیر سے آنے کی سزا یہ ہو کہ آٹھ دس کلو کا بستہ کاندھوں پر لاد کر میدان کے دس چکر لگوائے جائیں — وہاں بچے کے قدم اسکول کی طرف شوق سے بڑھیں گے یا خوف سے؟ جس کلاس میں ایک کی غلطی پر پچاس بچوں کے معصوم ہاتھوں پر بید مار کر لال کر دیا جائے، وہاں محبت کا کون سا پھول اگے گا؟ وہاں صرف اور صرف انتقام کا کانٹا پروان چڑھے گا۔ یہ جسمانی اور ذہنی تشدد اب صرف ماضی کا قصہ نہیں رہا، بلکہ آج ہمارے آس پاس روز کا معمول بن چکا ہے۔ ملک کے الگ الگ کونوں سے آنے والی حالیہ خبریں پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے: بنگلورو کا وحشیانہ واقعہ: ابھی حال ہی میں بنگلورو کے ایک نجی اسکول میں محض دو دن غیر حاضر رہنے پر پانچویں جماعت کے ایک معصوم ۹ سالہ بچے کو اسکول کے انتظامیا نے پلاسٹک کے پائپ سے اس بے رحمی سے پیٹا کہ اس کے پورے جسم پر نیل پڑ گئے، اور حد تو یہ ہے کہ اسے کئی گھنٹوں تک ایک اندھیرے کمرے میں اکیلا بند کر کے تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ جب دکھی والدین نے جواب مانگا، تو انہوں نے ڈھٹائی سے کہا: “ہمارے ہاں ڈسپلن سکھانے کا یہی طریقہ ہے!” آندھرا پردیش میں معصومیت پر وار: چتور کے ایک اسکول میں چھٹی جماعت کی ۱۱ سالہ بچی کلاس میں کسی سے بات کر رہی تھی۔ تیش میں آکر استاد نے اس کی طرف اسکول کا بھاری بستہ اٹھا کر پھینکا۔ بستے کے اندر موجود اسٹیل کا لنچ باکس بچی کے سر پر اتنی زور سے لگا کہ وہ وہیں چکرا کر گر گئی۔ بعد میں جب درد نہ رکا تو ہسپتال کے اسکین میں معلوم ہوا کہ اس معصوم بچی کے سر کی ہڈی (Skull) میں فریکچر آچکا ہے۔ کرناٹک کی بربریت: ایک اور دل سوز لہر اس وقت دوڑی جب ایک رہائشی اسکول (Residential School) کے استاد نے ۹ سال کے ایک چھوٹے سے بچے کو صرف اس لیے زمین پر گرا کر بے رحمی سے لاتوں اور تھپڑوں سے پیٹا کیونکہ اس نے ہاسٹل سے اپنے گھر فون کرنے کی “جسارت” کی تھی۔ وہ معصوم بچہ استاد کے پیروں میں گر کر روتے ہوئے معافیاں مانگ رہا تھا، لیکن اس جلاد کا دل نہیں پگھلا۔ یہ چند مثالیں تو وہ ہیں جو میڈیا کی نظر چڑھیں اور ایف آئی آر تک پہنچیں، ورنہ روزانہ ہزاروں معصوم روحیں ان چہار دیواریوں کے پیچھے سسکتی ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ ہم ڈسپلن کے نام پر بچوں کو تہذیب نہیں سکھا رہے، بلکہ ان کے اندر کے انسان کو قتل کر رہے ہیں۔ یہ تو وہ جسمانی وحشت ہے جو نظر آ جاتی ہے، لیکن اب جو نئی ڈیجیٹل بربریت آئی ہے، اس نے روحوں کو ایسے زخم دیے ہیں جن کا کوئی ایکسرے نہیں ہو سکتا۔ ممبرا، کلیان اور بھیونڈی کے بعض انگریزی اسکولوں میں اب بچوں کے ہوم ورک کا ‘آن لائن ریکارڈ’ رکھا جاتا ہے۔ بچہ رات کو تھک کر سو گیا، ہوم ورک ادھورا رہ گیا۔ صبح کلاس واٹس ایپ گروپ میں، جہاں پچاس دیگر والدین موجود ہیں، بچے کا نام سرخ حروف میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہو۔ ستر سال پہلے اسکولوں میں سزا کے طور پر بچے کے گلے میں تختی لٹکائی جاتی تھی جس پر لکھا ہوتا تھا: ‘I am Donkey’۔ آج وہ تختی ڈیجیٹل ہو گئی ہے — اسکول ایپ پر ریڈ الرٹ، پیرنٹ پورٹل پر نام، ڈیش بورڈ پر رسوائی! ذریعہ بدل گیا، اساتذہ کی وحشیانہ ذہنیت نہیں بدلی۔ کیا یہ تعلیم ہے؟ یا کسی نازک، معصوم آئینے پر پتھر مار مار کر اسے چکنا چور کرنا اور پھر اس کے ملبے کو پالش کر کے کہنا کہ دیکھو ہم نے کتنا چمکدار شیشہ بنایا ہے؟ انگریزی کا بت اور والدین کا سجدہ ہماری قوم نے انگریزی زبان کے ساتھ جو رشتہ جوڑا ہے، وہ اب زبان کا رشتہ نہیں رہا، وہ اندھی پوجا بن چکا ہے۔ ایک ایسا بت

تعلیم کے ذریعے ۔۔۔ تعمیر یا تخریب ؟ ۔۔۔ Read More »

جب معمارِ قوم کا خواب سرِ بازار نیلام ہوا!

(مہاراشٹرا ٹی ای ٹی امتحان: امتحانی نظام کی ارتھی پر ایک ادبی نوحہ) ڈاکٹر اسد اللہ خان تاریخ کے صفحات جب بھی کسی قوم کی تنزلی کی داستان رقم کرتے ہیں، تو سب سے پہلی ضرب اس کے نظامِ تعلیم پر لگاتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی نازک اور دردناک خبر ہے۔ ایک ایسے معاشرے کے لیے جہاں استاد کو “معمارِ قوم” مانا جاتا ہے، وہاں استاد بننے کے امتحان (TET) کی حرمت کا سرِ بازار نیلام ہو جانا کسی المیے سے کم نہیں۔ آج ریاستِ مہاراشٹرا کے ضلع تھانے سے آنے والی خبر محض ایک امتحان کی منسوخی کی اطلاع نہیں ہے، بلکہ یہ اس دھرتی کے لاکھوں ہونہار، محنتی اور بے گناہ نوجوانوں کے خوابوں کا قتلِ عام ہے۔ یہ استاد کی عظمت، علم کی حرمت اور عدل و انصاف کے جنازے کی وہ شہ سرخیاں ہیں، جنہیں دیکھ کر قلم خون کے آنسو روتا ہے اور زبان گنگ رہ جاتی ہے۔ علم کی منڈی اور ضمیر کے سوداگر کتنی ستم ظریفی ہے کہ جس امتحان کا مقصد معاشرے کو “صالح اور ایماندار معمار” فراہم کرنا تھا، اسی امتحان کا پرچہ امتحانی مراکز تک پہنچنے سے پہلے ہی چند ٹکوں کے عوض ضمیر کے سوداگروں کی تجوریوں کی زینت بن گیا۔ پولیس کا تھانے میں چھاپہ مارنا، سوالیہ پرچوں کا ضبط ہونا اور چند کالی بھیڑوں کا حراست میں لیا جانا—یہ اس گلے سڑے نظام کی وہ بدبو ہے جو اب پورے معاشرے کا دم گھونٹ رہی ہے۔ تعلیم جو روشنی کا مینار تھی، آج اسے ہوس اور بدعنوانی کے اندھیروں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جب رہزن ہی پاسبان بن جائیں، تو قافلے کا لٹ جانا حیرت انگیز نہیں رہتا۔ ان امتحانی پرچوں کو بیچنے والوں نے صرف کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں بیچے، انہوں نے اس ٹیچر طالب علم کی راتوں کی نیندیں بیچی ہیں جو مٹی کے تیل کے دیے کی مدہم روشنی میں کتابیں چاٹ رہا تھا۔ انہوں نے اس بوڑھے باپ کی پونجی بیچی ہے جس نے اپنے بچے کو ‘شکشک’ (استاد) بنانے کے لیے اپنی کمر سیدھی نہیں ہونے دی۔ امتحانی نظام کا تاریک ماضیِ:تھانے کا یہ حالیہ واقعہ کوئی پہلی لغزش نہیں ہے، بلکہ یہ اس طویل اور گہرے کینسر کی ایک نئی علامت ہے جو مہاراشٹرا اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشنز (MSCE) کو اندر سے کھوکھلا کر چکا ہے۔ اگر ہم ماضی کے اوراق الٹیں، تو TET امتحانات کی تاریخ بدعنوانی اور گھوٹالوں کی سیاہی سے لت پت نظر آتی ہے۔تھانے کا یہ حالیہ سانحہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہرے کینسر کی ایک ہولناک کڑی ہے جو مہاراشٹرا اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشنز کی رگوں میں برسوں سے سرایت کیے ہوئے ہے۔ مہاراشٹرا کا امتحانی نظام خصوصاً اس وقت رہنِ ستم ہوا جب پونے سائبر پولیس نے ماضی کے امتحانات میں ہونے والی ایسی سنسنی خیز دھاندلیوں کا پردہ فاش کیا جس نے پورے تعلیمی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ انکشافات محض سرسری بے ضابطگیاں نہیں تھیں، بلکہ میرٹ کے مقتل میں قابلیت کا باقاعدہ اور منظم قتلِ عام تھا، جہاں عہدیداروں اور دلالوں کے گٹھ جوڑ نے ہر بار کامیابی کے نئے طریقے ایجاد کیے۔ اس گھوٹالے کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ امتحانی بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار ہی رشوت خوری کے بازار میں سب سے بڑے خریدار نکلے۔ اس منظم لوٹ مار کا ایک بدترین باب سال 2018 کے ٹی ای ٹی امتحان میں رقم کیا گیا۔ اس دوران ضمیر کے سوداگروں نے چوری چھپے امتحانی نظام کے دل یعنی او ایم آر (OMR) شیٹس کے ساتھ مجرمانہ ہیر پھیر کی۔ وہ امیدوار جو قابلیت کی دوڑ میں بری طرح ناکام (فیل) ہو چکے تھے، راتوں رات ان کے کھوٹے سکوں کو کھرے نوٹوں کے عوض کامیابی کے تمغوں میں بدل دیا گیا۔ جب پولیس نے اس گھناونے کھیل کی تہیں اکھاڑیں، تو قانون کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں؛ تحقیقات کے بعد 1,663 ایسے فرضی امیدواروں کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوا جنہوں نے رشوت کے بلبوتے پر کامیابی کی سند خریدی تھی، جس کے بعد ان پر تاحیات امتحانی پابندی عائد کر دی گئی۔ ابھی اس زخم کی سیاہی چھٹی بھی نہ تھی کہ سال 2019 کا ٹی ای ٹی امتحان اس تعلیمی تاریخ کا سب سے بڑا اور ہولناک دھچکا ثابت ہوا۔ اس بار سازش کاروں نے دستی ہیر پھیر کے بجائے براہِ راست ڈیجیٹل نظام پر شب خون مارا اور کمپیوٹرائزڈ رزلٹ ڈیٹا بیس کے اندر گھس کر نمبروں کے ہندسے بدل دیے۔ یہ بدعنوانی کا وہ طوفان تھا جس نے قابلیت کی ہر دیوار کو منہدم کر دیا۔ اس سازش کے نتیجے میں 7,880 نااہل امیدواروں کو غیر قانونی طور پر ‘کامیاب’ قرار دے کر اسناد بانٹ دی گئیں، جنہیں بعد میں سنگین تحقیقات کے بعد منسوخ کرنا پڑا۔ اس پورے ریکیٹ کا سب سے لرزہ خیز اور حیرت انگیز پہلو وہ گرفتاریاں تھیں جنہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ باڑھ ہی کھیت کو کھا رہی ہے۔ جب قانون کا شکنجہ کسا، تو اس نظام کے سب سے بڑے پاسبان ہی رہزن نکلے۔ امتحانی بورڈ کے سابق کمشنر سکھدیو ڈیرے، پونے کے اسسٹنٹ کمشنر، اور امتحانات کا انتظام سنبھالنے والی ‘جی اے سافٹ ویئر کمپنی’ کے اعلیٰ ڈائریکٹرز ایک ایک کر کے سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔ ان مقتدر کرسیوں پر بیٹھے لوگوں کی گرفتاری نے یہ مہرِ تصدیق ثبت کر دی کہ امتحانی نظام پر سے اب طلبہ کا اعتماد سو فیصد اٹھ چکا ہے، اور جس محکمے کو قوم کا مستقبل سنوارنا تھا، اس کی اپنی ساکھ اب تاریخ کے سب سے گہرے ملبے کے نیچے دفن ہو چکی ہے۔ ان پچھلے گھوٹالوں کے دوران لگ بھگ 9,500 سے زائد ایسے اساتذہ کی فہرست جاری کی گئی تھی جنہوں نے لاکھوں روپے کی رشوت دے کر فرضی اسناد حاصل کیں اور ریاست کے اسکولوں میں نوکریاں حاصل کر لیں۔ یہ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ جب امتحانی نظام کے چوکیدار ہی چور بن جائیں، تو قابلیت اور میرٹ کی موت یقینی ہو جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے طلبہ کی مایوسی کے اس منظر کا!مہینوں کی ریاضت، دن رات کی بیداری، کتابوں سے عشق اور آنکھوں میں ایک روشن

جب معمارِ قوم کا خواب سرِ بازار نیلام ہوا! Read More »