The Founder’s Compendium

سوچ کا مکتب

تعلیم بچے کو صرف جواب نہیں، سوال کرنا بھی سکھا دے ڈاکٹر اسد اللہ خان برسہابرس کمرۂ جماعت میں گزارنے کے بعد اب کوئی تعلیمی منظر ہمیں کم ہی چونکاتا ہے، مگر پچھلے دنوں لونی (غازی آباد) کے ایک اسکول کا واقعہ نظر سے گزرا تو دیر تک سوچ میں ڈوبا رہا۔ معلم نے تختۂ سیاہ پر صرف ایک عدد لکھا: ۲۰۲۵۔ لمحہ بھر کو خاموشی رہی، پھر یکایک کئی ننھے ہاتھ فضا میں بلند ہو گئے: ”سر! یہ تو دو ہزار پچیس ہے، ابھی تو دو ہزار چھبیس چل رہا ہے!“ بظاہر یہ کوئی بڑا واقعہ نہ تھا، مگر اُس کمرے میں اُس لمحے وہ کچھ ہوا جو ہماری روایتی درس گاہوں میں مدتوں سے نایاب ہے۔ بچوں نے تختے پر لکھی تحریر کو بے چون و چرا تسلیم نہیں کیا؛ اُنھوں نے اُسے اپنے علم کی کسوٹی پر پرکھا اور جہاں مطابقت نہ پائی، وہاں زبان کھول دی۔ معلم کی یہ ”غلطی“ دانستہ تھی۔ اُس کا مقصد درس دینا نہیں، تجسّس کو بھڑکانا تھا — اور تجسّس نے کام کر دکھایا۔ میں دیر تک سوچتا رہا کہ ہمارے ملک کے لاکھوں کمروں میں روز کتنے تختے لکھے جاتے ہیں اور کتنے ہاتھ بلند ہوتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہم نے ہاتھ اٹھانا جواب دینے کے لیے سکھایا ہے، سوال کرنے کے لیے نہیں۔ اور یہی اِس تحریر کا موضوع ہے۔ اُسی نشست میں بچوں کے سامنے ایک ننھا سا معمّہ رکھا گیا۔ برسات کی ایک صبح ہے؛ بچے کا دل کہتا ہے کہ باہر جھڑی لگی ہے، پکوڑوں کی خوشبو اٹھ رہی ہے، آج گھر ہی رہنا چاہیے؛ اور دماغ یاد دلاتا ہے کہ آج اسکول کا دن ہے۔ سوال صرف اتنا تھا: بچہ کس کی سنے؟ اِس معصوم سے سوال نے پورے کمرے کو مباحثے کی آماج گاہ بنا دیا۔ کوئی دل کے حق میں بولا، کوئی دماغ کی وکالت پر اتر آیا، اور رفتہ رفتہ بات دل و دماغ کی کشمکش سے نکل کر اُس گتھی تک جا پہنچی کہ فیصلہ کرتے وقت ہم کن چیزوں کو بنیاد بناتے ہیں: خواہش کو یا شہادت کو؟ وقتی لذت کو یا دیرپا مصلحت کو؟ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے میرے قلم کا سفر شروع ہوتا ہے، کیوں کہ اُس کمرے میں جو کچھ سکھایا جا رہا تھا وہ کوئی مضمون نہ تھا؛ وہ سوچنے کا سلیقہ تھا۔ اور سوچنے کا سلیقہ ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خامی بھی ہے اور سب سے بڑی ضرورت بھی۔ ہم نے صدیوں سے تعلیم کو معلومات کی منتقلی سمجھ رکھا ہے: استاد جانتا ہے، شاگرد نہیں جانتا؛ استاد انڈیلتا ہے، شاگرد جذب کرتا ہے؛ اور امتحان میں وہی سرخرو ہے جو زیادہ سے زیادہ اگل دے۔ اِس ماڈل میں بچے کا ذہن ایک خالی برتن ہے جسے بھرنا مقصود ہے، حالاں کہ حقیقت میں وہ ایک چراغ ہے جسے روشن کرنا مطلوب ہونا چاہیے۔ برتن بھرنے اور چراغ جلانے میں جو فرق ہے، وہی فرق رٹنے اور سمجھنے میں ہے، اور وہی فرق ایک مطیع رعایا اور ایک باشعور شہری میں ہے۔ میں نے ایسے سیکڑوں طلبہ دیکھے جو نمبروں کی دوڑ میں اوّل آئے مگر زندگی کے پہلے ہی سوال پر ٹھٹھک گئے، اور ایسے بھی دیکھے جن کی مارک شیٹ معمولی تھی مگر سوچ روشن تھی — اور وقت نے ہمیشہ دوسروں ہی کو سرخرو کیا۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے یہاں سوچ کیوں مرجھا جاتی ہے؟ اِس کی جڑیں محض نصاب میں نہیں، ہمارے مجموعی مزاج میں پیوست ہیں۔ گھر میں بچے کا پہلا ”کیوں“ اکثر جھڑکی سے دبا دیا جاتا ہے۔ بڑوں کے سامنے سوال کرنا گستاخی سمجھا جاتا ہے، اختلاف کو بے ادبی مانا جاتا ہے اور شک کو ایمان کی کمزوری۔ میں نے ممبرا کے گھروں سے لے کر سولاپور کی بستیوں تک یہ منظر بارہا دیکھا ہے: ننھا بچہ پوچھتا ہے ”ایسا کیوں ہے؟“ اور جواب ملتا ہے ”بس، کہہ دیا ناں!“ پھر یہی بچہ جب مکتب پہنچتا ہے تو اُسے تیس چالیس ہم عمروں کے ساتھ ایک ایسے کمرے میں بٹھا دیا جاتا ہے جہاں خاموشی نظم کی علامت ہے اور سوال بدنظمی کا شاخسانہ۔ یوں گھر اور مکتب مل کر ایک ایسی نسل تیار کرتے ہیں جو حافظے میں امیر اور فکر میں نادار ہوتی ہے۔ اِس رویّے کے پیچھے ایک تاریخی سبب بھی ہے۔ نوآبادیاتی دور میں جو تعلیمی ڈھانچہ ہمیں ورثے میں ملا، اُس کا مقصد سوچنے والے شہری پیدا کرنا نہیں بلکہ حکم بجا لانے والے کارندے تیار کرنا تھا۔ فرنگی کو ایسے کلرک درکار تھے جو ہدایت پر عمل کریں، ہدایت پر سوال نہ اٹھائیں۔ افسوس کہ سامراج تو رخصت ہو گیا مگر اُس کا وضع کردہ سانچہ ہمارے کمرۂ جماعت میں آج بھی سانس لے رہا ہے۔ ہم آزاد ہو کر بھی ذہنی غلامی کے اُس نقشے کو توڑ نہ سکے جو ہمیں فرماں برداری کو ذہانت اور اطاعت کو تہذیب سمجھنا سکھاتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھ لینا ضروری ہے: معلومات اور فہم ایک شے نہیں۔ معلومات یہ جاننا ہے کہ پانی سو درجے پر کھولتا ہے؛ فہم یہ سمجھنا ہے کہ پہاڑ کی چوٹی پر وہی پانی کم درجۂ حرارت پر کیوں کھول اٹھتا ہے۔ پہلی شے حافظہ مانگتی ہے، دوسری غور و فکر۔ اِسی طرح ذہن کے لیے سب سے مشکل مگر سب سے قیمتی ہنر یہ ہے کہ وہ حقیقت اور رائے میں امتیاز کر سکے۔ ”آج بارش ہو رہی ہے“ ایک حقیقت ہے جسے پرکھا جا سکتا ہے؛ ”بارش اداس کر دیتی ہے“ ایک رائے ہے جو ہر دل میں مختلف ہے۔ جو ذہن اِن دونوں کو گڈمڈ کر دیتا ہے وہ زندگی بھر اپنے تعصبات کو حقائق سمجھ کر جیتا ہے اور دوسروں کے حقائق کو محض رائے کہہ کر ٹھکرا دیتا ہے۔ تنقیدی سوچ دراصل اِسی امتیاز کی تربیت کا نام ہے۔ یہ کوئی مغربی درآمد یا جدید ایجاد نہیں؛ یہ انسانی عقل کی وہ قدیم ترین صلاحیت ہے جسے ہر بڑی علمی روایت نے سراہا ہے۔ سقراط ایتھنز کے بازاروں میں جواب دینے کے بجائے سوال کرنا سکھاتا رہا، اِس یقین کے ساتھ کہ بے آزمائی زندگی جینے کے لائق نہیں۔ ہماری اپنی روایت میں ابنِ خلدون نے صدیوں پہلے ”مقدمہ“ میں اُس تعلیم

سوچ کا مکتب Read More »

دس روپے کی عدالت

معصومیت پر الزام، درس گاہ میں تشدد اور ایک ننھی زندگی کا نوحہ ڈاکٹر اسد اللہ خان بازار میں دس روپے کی حیثیت اب اتنی رہ گئی ہے کہ دکان دار انھیں گننے میں وقت صرف نہیں کرتا۔ اس نوٹ پر چائے کی ایک پیالی آتی ہے، نہ رکشے کا کرایہ پورا ہوتا ہے، نہ کسی بھکاری کی دعا لمبی ہوتی ہے۔ مگر بائیس جولائی دو ہزار چھبیس کی دوپہر، مظفر نگر کے ایک گاؤں میں، یہی بے وقعت کاغذ اتنا بھاری ہو گیا کہ ایک دس سالہ بچی کی سانسیں اس کے نیچے دب گئیں۔ یہ مضمون کسی سنسنی خیز خبر کی تفصیل نہیں، ایک سوال کی تفتیش ہے: وہ کون سا نظام ہے، وہ کون سی سوچ ہے، وہ کون سی روایت ہے جو ایک درس گاہ کو — جہاں بچے کو دنیا کی سب سے محفوظ جگہ ہونا چاہیے تھا — اس کے لیے دنیا کی سب سے خطرناک جگہ بنا دیتی ہے؟ آیوشی نام کی وہ بچی اب کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتی؛ اس لیے اب سارے سوالوں کا رخ ہماری طرف ہے۔ اترپردیش کے ضلع مظفر نگر میں نئی منڈی کوتوالی کے علاقے کا گاؤں پنچیڑا کلاں۔ گاؤں کا سرکاری پرائمری اسکول۔ چوتھی جماعت کی دس سالہ طالبہ آیوشی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اسکول کی ایک معلمہ نے الزام لگایا کہ بچی نے اس کے تھیلے سے دس روپے چرائے ہیں۔ اس شکایت پر ایک معلم نے اسکول ہی کے احاطے میں، دوسرے بچوں کے سامنے، اس بچی کو بری طرح پیٹا۔ محلے والوں اور ہم جماعت بچوں نے بتایا کہ وہ روتی ہوئی اسکول سے نکلی اور روتی ہوئی گھر پہنچی۔ گھر پہنچ کر اس نے اپنے گھر والوں سے صرف ایک جملہ بار بار کہا: میں نے چوری نہیں کی، مجھے یہ روپے میز کے نیچے پڑے ملے تھے۔ اسی دوپہر، اپنے ہی گھر میں، اس بچی نے اپنی زندگی ختم کر لی۔ باپ اشوک راجپوت کی تحریر پر پولیس نے دونوں اساتذہ کے خلاف بھارتیہ نیاے سنہتا کی دفعہ ۱۰۷ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، اور تفتیش جاری ہے۔ قانون اپنا راستہ طے کرے گا؛ الزام کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔ مگر جو سوال اس مضمون کا موضوع ہے، وہ کسی ایک مقدمے سے بہت بڑا ہے۔ اس واقعے کا سب سے ہولناک پہلو مار نہیں، وہ عدالت ہے جو چند منٹوں میں کمرۂ جماعت کے اندر قائم ہوئی اور چند منٹوں میں اپنا فیصلہ سنا کر برخاست بھی ہو گئی۔ اس عدالت میں سب کچھ موجود تھا: مدعی موجود، الزام موجود، گواہوں کا مجمع موجود، سزا دینے والا ہاتھ موجود۔ صرف ایک چیز موجود نہیں تھی — صفائی کا موقع۔ ملک کی سب سے چھوٹی عدالت میں بھی ملزم کو وکیل ملتا ہے؛ اس درس گاہ میں دس سال کی بچی کو ایک جملہ مکمل کرنے کی مہلت نہ ملی۔ انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ الزام ثابت ہونے تک آدمی بے قصور ہے۔ ہم نے یہ اصول اپنی عدالتوں کے لیے تو مان لیا، اپنے اسکولوں کے لیے نہیں مانا۔ وہاں الزام ہی ثبوت ہے، اور بڑے کی زبان ہی فیصلہ۔ ستم یہ ہے کہ بچی کا بیان — روپے میز کے نیچے پڑے ملے تھے — اتنا سادہ، اتنا قرینِ قیاس اور اتنا قابلِ تصدیق تھا کہ دو منٹ کی نرم گفتگو پورا معاملہ صاف کر سکتی تھی۔ مگر تصدیق کے لیے صبر چاہیے، اور صبر اسی سے کیا جاتا ہے جسے برابر کا انسان سمجھا جائے۔ یہ سانحہ کسی ایک شخص کے غصے کی پیداوار نہیں؛ یہ اس صدیوں پرانی فکری غلطی کا تازہ ثمر ہے جو مار کو تربیت کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ ہمارے سماج میں یہ فقرہ کہاوت کی سند پا چکا ہے کہ استاد کی مار سنوارتی ہے۔ نسل در نسل والدین نے اساتذہ سے کہا: ہڈی ہماری، کھال آپ کی۔ اس ایک جملے میں ہم نے اپنے بچوں کے جسم پر تشدد کا اجازت نامہ لکھ کر دستخط کر دیے۔ اس روایت کی جڑ ایک نفسیاتی مغالطہ ہے: خوف کو ادب سمجھ لینا اور سہم جانے کو سدھر جانا۔ بچہ مار کھا کر خاموش ضرور ہو جاتا ہے، مگر خاموشی سیکھنے کا نام نہیں۔ وہ غلطی چھوڑنا نہیں، غلطی چھپانا سیکھتا ہے؛ سچ بولنا نہیں، سزا سے بچنا سیکھتا ہے۔ اور جس دن الزام جھوٹا ہو، اس دن مار صرف جسم پر نہیں پڑتی — اس اعتماد پر پڑتی ہے جو بچے نے بڑوں کی دنیا پر کر رکھا تھا۔ کاغذ پر ہمارا ملک اس معاملے میں بے بس نہیں۔ حقِ تعلیم قانون ۲۰۰۹ء کی دفعہ ۱۷ بچوں کو جسمانی سزا اور ذہنی اذیت، دونوں سے صاف لفظوں میں تحفظ دیتی ہے اور خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی کا حکم دیتی ہے۔ قومی کمیشن برائے تحفظِ حقوقِ اطفال اسکولوں سے جسمانی سزا کے مکمل خاتمے کے لیے باقاعدہ رہنما اصول جاری کر چکا ہے۔ نوجوانوں کے تحفظ سے متعلق قوانین بچے کے ساتھ ظلم کو جرم قرار دیتے ہیں۔ یعنی قانون موجود ہے، واضح ہے، اور سخت ہے۔ پھر خرابی کہاں ہے؟ خرابی یہ ہے کہ قانون کی کتاب دارالحکومت میں رہتی ہے اور اسکول کا صحن گاؤں میں۔ دونوں کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہ فاصلہ تربیت سے پُر ہونا تھا، نگرانی سے پُر ہونا تھا، احتساب سے پُر ہونا تھا — مگر وہ خالی رہا۔ قانون کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ واقعے کے بعد پہنچتا ہے: پہلے جنازہ اٹھتا ہے، پھر دفعہ لگتی ہے۔ جو چیز جنازے سے پہلے پہنچ سکتی تھی، وہ قانون نہیں، تربیت تھی۔ تعلیم کے پیشے میں چالیس برس گزارنے کے بعد میں ایک بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں: نظم و ضبط اور تذلیل دو الگ دنیائیں ہیں۔ تادیب کا مقصد بچے کی اصلاح ہے اور اس کی پہلی شرط بچے کی عزتِ نفس کی حفاظت ہے؛ تذلیل کا مقصد بڑے کے غصے کی تسکین ہے اور اس کی پہلی قربانی وہی عزتِ نفس ہے۔ جو استاد بچے کو سب کے سامنے رسوا کرتا ہے وہ نظم قائم نہیں کرتا، صرف یہ اعلان کرتا ہے کہ اس کے پاس سکھانے کا کوئی اور طریقہ نہیں بچا۔ جدید تعلیمی تحقیق جس نتیجے پر بار بار پہنچی ہے، وہ دراصل

دس روپے کی عدالت Read More »

جب درسگاہیں خطرے میں ہوں!!!

رام پور سے کاکریال تک: قانون، تناسب، اور بند ہوتے دروازوں کا ملک ڈاکٹر اسد اللہ خان رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے پھاٹک کے باہر جو مجمع کھڑا ہے، اُس میں ایک آدمی سب سے الگ دکھائی دیتا ہے۔ وہ نہ طالب علم ہے، نہ استاد، نہ کسی جماعت کا کارکن۔ وہ ایک بڑھئی ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اُس نے اپنے دن کی مزدوری چھوڑ کر یہاں آنا قبول کیا، اور اُس کے ہاتھ کی تختی پر سب سے اوپر ایک ہی لفظ لکھا ہے: علم۔ وہ خود اسکول پورا نہیں کر سکا۔ اِس ادارے سے اُس کا رشتہ صرف ایک ہے — اِس کی لکڑی کا کام اُس کے ہاتھوں سے ہوا ہے۔جس شخص نے اِن دروازوں کو رندہ کیا، وہ آج اِن دروازوں کے باہر کھڑا ہے۔ اُس کا خوف کسی سیاسی بیان سے زیادہ صاف ہے: اگر یہ درسگاہ نہ رہی تو اِس علاقے کے لڑکے بھی مزدوری کریں گے، جیسے وہ کرتا ہے۔ چند قدم کے فاصلے پر پلاسٹک کے ایک شامیانے تلے سو کے قریب طلبہ بیٹھے ہیں۔ حبس اور گرمی میں، گودوں میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویریں اور ہاتھوں میں آئین کے نسخے۔ ایک طالبہ، جو خبر سنتے ہی اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ سے چل کر آئی ہے، کہتی ہے کہ اِس احتجاج کا کوئی قائد نہیں؛ یہ کیریئر اور تحفظ کا سوال ہے، اور اُس کے والدین اِس ادارے پر بھروسا کرتے ہیں۔ مگر اِس منظر کا سب سے غیر متوقع حصہ وہ ہے جو پھاٹک کے باہر سے بھی باہر سے آیا۔ بیس جولائی کو سکھ برادری کے دو نمائندے — ایک رام پور سے، ایک اتراکھنڈ سے — وائس چانسلر کے کمرے میں اظہارِ یکجہتی کے لیے آ کر بیٹھے۔ اور اِنہی دنوں ایک اردو روزنامے میں ایک کالم چھپا، جس کے لکھنے والے کا نام پون سنگھ ہے، اور جس کا لہجہ کسی مسلم تنظیم کی قرارداد سے زیادہ تیکھا تھا۔ یعنی اِس مقدمے کی سب سے غیر مشتبہ گواہی اُس صف سے آئی جسے ہم عادتاً “دوسری طرف” کہ دیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اِس مضمون میں پھاٹک کے دونوں طرف کھڑے ہو کر دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے: انتظامیہ کے کاغذ کے ساتھ، ادارے کے کاغذ کے ساتھ، اور اُس پورے ملک کے اعداد کے ساتھ جس میں یہ جھگڑا ہو رہا ہے۔ کیونکہ اِس واقعے کو صرف رام پور کا واقعہ سمجھنا اُس کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ اٹھائیس جون کو رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور یونیورسٹی کے رجسٹرار کو نوٹس دیا کہ کیمپس میں بیاسی ہزار تین سو نو مربع میٹر تعمیر منظوری کے بغیر ہوئی ہے۔ آٹھ جولائی کو ادارے نے جواب داخل کیا۔ پندرہ جولائی کو فریقین کے وکلا کی موجودگی میں سماعت ہوئی، اور اُسی روز ضلع مجسٹریٹ و اتھارٹی کے وائس چیئرمین اجے کمار دویدی نے اترپردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ ۱۹۷۳ کی دفعہ ۲۷(۱) کے تحت حکم جاری کیا: چالیس میں سے اڑتیس عمارتیں مقررہ مدت میں ادارہ خود ہٹا لے، ورنہ انتظامیہ ہٹائے گی۔ حکم کے مطابق ضلع پنچایت کے ریکارڈ میں صرف میڈیکل کالج کی عمارت اور ایک تعلیمی بلاک کے نقشے منظور شدہ ہیں۔ سترہ جولائی کو اتھارٹی نے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں کیویٹ داخل کر دی — اِس اندیشے سے کہ ادارہ عدالت جا سکتا ہے۔ اٹھارہ جولائی سے طلبہ کا دھرنا جاری ہے۔ ایک تفصیل اِس ترتیب میں ایسی ہے جو بظاہر انتظامی ہے مگر معنوی طور پر فیصلہ کن۔ ادارے کی اپیل اتھارٹی کے چیئرمین و کمشنر مراد آباد کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور اُس کی تاریخ انتیس جولائی ہے، جب کہ خود ہٹانے کی مہلت جولائی کے آخری دنوں میں ختم ہو رہی ہے۔ اپیل اور مہلت کے درمیان فاصلہ چند دن کا ہے۔ جس نظام میں دادرسی کا دروازہ اور بلڈوزر کا انجن ایک ہی ہفتے میں کھلتے ہوں، وہاں دادرسی رسمی ہو جاتی ہے۔ انتظامیہ کا استدلال تین نکات پر کھڑا ہے: تعمیر بلا منظوری ہوئی؛ زمین کے مجوزہ استعمال کے ضابطے اِس تعمیر کی اجازت نہیں دیتے؛ اور چونکہ ادارے نے دو عمارتوں کی منظوری لی تھی، اِس لیے وہ قانونی تقاضے سے واقف تھا۔ اتھارٹی کا یہ جواب بھی ریکارڈ پر ہے کہ علاقہ اُس کے دائرے میں آنے سے پہلے بھی ضلع پنچایت کے قانون کے تحت منظوری لازم تھی، لہٰذا محض حدود کی تبدیلی کوئی رعایت نہیں دیتی۔ افسران کا کہنا ہے کہ یہ خلاف ورزیاں موجودہ قانون کے تحت باقاعدہ نہیں کی جا سکتیں۔ ادارے کا مؤقف بھی کاغذ پر موجود ہے: کیمپس کا بڑا حصہ ۲۰۱۶ سے پہلے بن چکا تھا؛ سنگن کھیڑا گاؤں، جو رام پور شہر سے بارہ کلومیٹر دور ہے، ۲۰۲۴ سے پہلے اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں نہیں تھا؛ لہٰذا بعد کے ضابطے ماضی کی تعمیر پر لاگو نہیں ہو سکتے۔ وائس چانسلر پروفیسر ظہیر الدین کے بقول آئین کی دفعہ ۲۲۶ اور ۳۲ کے دروازے بھی کھلے ہیں۔ ۲۰۲۳ میں ریاستی حکومت نے یہ کہہ کر زمین کی لیز منسوخ کی کہ تحقیقی ادارے کے لیے دی گئی زمین پر یونیورسٹی بنا دی گئی؛ مارچ ۲۰۲۴ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے منسوخی برقرار رکھی اور اکتوبر ۲۰۲۴ میں سپریم کورٹ نے مداخلت سے انکار کر دیا۔ بانی اور اُن کے صاحبزادے مختلف مقدمات میں سزا کاٹ رہے ہیں؛ مئی ۲۰۲۶ میں ۲۰۱۹ کی انتخابی تقریر کے ایک مقدمے میں بانی کو دو سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ یہ مضمون اِس لیے نہیں لکھا جا رہا کہ ادارہ معصوم ہے۔ یہ اِس لیے لکھا جا رہا ہے کہ سزا کا محل کیا ہے اور سزا کا نشانہ کون ہے۔ سوال یہ ہے کہ اڑتیس عمارتیں بغیر نقشے کے کیسے بن گئیں۔ جواب تلخ ہے اور کسی ایک ادارے تک محدود نہیں۔ ہمارے ملک میں تعمیر کا عام چلن یہی ہے: پہلے دیوار اٹھتی ہے، پھر فائل چلتی ہے۔ سرکاری دفتر، نجی کالونی، کارخانہ، اسپتال، مندر، مدرسہ — سب اِسی روایت کے شریک ہیں۔ جو خرابی سب کرتے ہیں، وہ خرابی جب چند پر لاگو ہوتی ہے تو قانون کے نفاذ سے زیادہ نفاذ کے انتخاب پر

جب درسگاہیں خطرے میں ہوں!!! Read More »

مصروف والدین اور گم ہوتا بچپن

ڈاکٹر اسد اللہ خان شام کا اُجالا کھڑکی سے رخصت ہو رہا ہے۔ گھر کے ایک گوشے میں ایک بڑا آدمی اپنے دن کی باقی ماندہ ذمہ داریاں سمیٹ رہا ہے۔ اُس کے چہرے پر کسی چراغ کی نہیں، ایک چھوٹی سی اسکرین کی نیلی روشنی پڑ رہی ہے۔ دروازے کی چوکھٹ پر ایک بچہ کھڑا ہے۔ اُس کے ہاتھ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جس پر اُس نے دن بھر کی محنت سے کچھ بنایا ہے: ایک گھر، ایک درخت، اور دو ٹیڑھی سی شکلیں جو ماں اور باپ ہیں۔ وہ کہتا ہے، “دیکھیے، میں نے بنایا ہے۔” جواب آتا ہے، “ابھی نہیں، بیٹا۔ ذرا بعد میں۔” بچہ لڑتا نہیں، روتا نہیں، ضد نہیں کرتا۔ وہ کاغذ کو نہایت احتیاط سے موڑتا ہے، جیسے اُسے کسی بہتر وقت کے لیے محفوظ رکھنا ہے، اور خاموشی سے پلٹ جاتا ہے۔ اِس منظر میں کوئی آواز بلند نہیں ہوتی، اور یہی اِس کی سب سے تکلیف دہ بات ہے۔ جو بچہ شکایت کرتا ہے، وہ ابھی اُمید رکھتا ہے۔ جو خاموشی سے لوٹ جاتا ہے، اُس نے ایک بات سیکھ لی ہے۔ یہ منظر کسی ایک گھر کا نہیں۔ یہ ہر اُس مکان میں دہرایا جا رہا ہے جہاں کمائی کا دباؤ ہے، فیس کی فکر ہے، اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں چھبیس گھنٹوں کا کام ہے۔ ہم اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں، اِس میں شبہ نہیں۔ سوال محبت کا نہیں، فرصت کا ہے۔ اور فرصت وہ واحد سرمایہ ہے جسے قرض پر نہیں لیا جا سکتا۔ بچپن کسی ایک دن رخصت نہیں ہوتا۔ اُس کی رخصتی قسطوں میں ہوتی ہے۔ “ابھی نہیں” کی ہر قسط کے ساتھ وہ ذرا سا سمٹتا ہے، اور ایک دن ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں رہتا؛ ایک نوجوان رہتا ہے جس کے کمرے کا دروازہ اب بند رہتا ہے، اور جس کے پاس ہمارے سوالوں کے مختصر جواب ہیں۔ اِن دنوں سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک پیغام گردش میں ہے۔ اُس کا مضمون یہ ہے کہ بچوں کا بچپن لوٹ کر نہیں آئے گا؛ اُن کی شرارتوں کو بوجھ نہ سمجھیے، کیونکہ یہی شرارتیں ایک دن آپ کی سب سے قیمتی یادیں بن جائیں گی۔ کام اور ذمہ داریاں ہمیشہ رہیں گی، بچپن ایک بار ملتا ہے۔ ایسے پیغامات تیزی سے پھیلتے ہیں، اور اُن کے پھیلنے کی وجہ اُن کی معلومات نہیں، اُن کا لہجہ ہے۔ وہ ہمیں کوئی نئی خبر نہیں دیتے؛ وہ ہمارے اندر ایک پرانا احساسِ جرم جگا دیتے ہیں جو پہلے ہی موجود تھا۔ اِس پیغام میں جو کہا گیا ہے، وہ سچ ہے۔ مشکل یہ ہے کہ وہ ادھورا سچ ہے۔ احساسِ جرم ایک کمزور معلم ہے۔ وہ آنکھ نم کرتا ہے، عادت نہیں بدلتا۔ رات کو ہم یہ پیغام پڑھ کر بچے کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں، اور اگلی صبح دفتر کا وقت، ٹریفک اور بجلی کا بل ہمیں وہیں پہنچا دیتے ہیں جہاں ہم کل تھے۔ جو تحریک صرف جذبے پر کھڑی ہو، اُس کی عمر ایک رات ہوتی ہے۔ دوسری کمی اِس سے بڑی ہے۔ ایسے پیغامات پورا بوجھ اکیلے والدین کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں اور اُن ڈھانچوں کا نام نہیں لیتے جو والدین سے وقت چھینتے ہیں۔ جس باپ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ بچے کو وقت دے، اُس سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ وقت کہاں سے آئے گا: اُس نوکری سے جس میں چھٹی کا تصور نہیں، یا اُس سفر سے جو روز اُس کے تین گھنٹے کھا جاتا ہے؟ جس ماں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ بچپن ایک بار ملتا ہے، اُسے یہ بھی معلوم ہے کہ کرایہ ہر مہینے آتا ہے۔ اِس مضمون کا مقصد اُس آہ کو دہرانا نہیں جو ہم سب کے سینے میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اُس آہ کو ایک سوال میں بدلا جائے، اور سوال کو ایک تدبیر میں۔ جذبہ اُس وقت تک بے کار ہے جب تک وہ تجزیے سے نہ گزرے، اور تجزیہ اُس وقت تک ادھورا ہے جب تک وہ عمل تک نہ پہنچے۔ بچپن: ایک حیاتیاتی حقیقت یا ایک تہذیبی سہولت؟ عام خیال یہ ہے کہ بچپن ایک قدرتی مرحلہ ہے جو ہر انسان کو خود بخود مل جاتا ہے۔ یہ خیال ادھورا ہے۔ عمر کے ابتدائی برس بلاشبہ حیاتیاتی حقیقت ہیں، مگر “بچپن” — یعنی وہ محترم، محفوظ اور الگ سے پہچانا جانے والا زمانہ جس میں انسان کو کام سے، کمائی سے اور کارآمد ہونے کے تقاضے سے مستثنیٰ رکھا جائے — یہ تہذیب کی دین ہے، فطرت کی نہیں۔ فرانسیسی مؤرخ فلپ آریئس نے تاریخِ بچپن پر اپنی معروف تحقیق میں یہ مقدمہ پیش کیا تھا کہ قدیم یورپی سماج میں بچپن کا وہ تصور موجود نہ تھا جو جدید دور میں پیدا ہوا؛ بچے کو چھوٹا بالغ سمجھا جاتا تھا۔ اہلِ علم نے اِس مقدمے کے بعض حصوں سے اختلاف بھی کیا ہے، اور اختلاف بجا ہے۔ مگر اِس بحث سے ایک بات بہرحال ثابت ہوتی ہے: بچپن کی حد بندی، اُس کا احترام اور اُس کا قانونی و اخلاقی تحفظ ایک طویل تاریخی عمل کا نتیجہ ہیں۔ جو چیز تاریخ نے بنائی ہو، اُسے تاریخ مٹا بھی سکتی ہے۔ ہماری اپنی مشرقی اور اسلامی روایت میں بچے پر شفقت کو محض ایک نرم مزاجی نہیں، دین داری کے مزاج کا حصہ قرار دیا گیا۔ سیرتِ طیبہ کے وہ واقعات جن میں نمازِ باجماعت کے دوران کسی ننھے وجود کو کندھے سے اتارا اور اٹھایا گیا، یا خطبے میں کسی بچے کے رونے پر اختصار برتا گیا، محض روایتیں نہیں؛ وہ ایک اصول کا اعلان ہیں کہ عبادت کی صف میں بھی بچے کی ضرورت کو جگہ ملتی ہے۔ یہ ایک بلند معیار ہے، اور ہم اِس سے بہت نیچے جی رہے ہیں۔ اِس مقام پر میں ایک اصطلاح تجویز کرنا چاہتا ہوں: بچپن ایک مہلت ہے۔ یہ وہ وقفہ ہے جو سماج ہر نئے انسان کو عطا کرتا ہے تاکہ اُسے کچھ برس صرف انسان ہونے کے لیے مل جائیں — کھیلنے، پوچھنے، غلطی کرنے، ٹھوکر کھانے اور بے مقصد ہونے کے لیے۔ یہ مہلت فضول خرچی نہیں، سرمایہ کاری ہے۔ جو سماج اِسے مختصر کر دے، وہ اپنے مستقبل کے

مصروف والدین اور گم ہوتا بچپن Read More »

سائنسی مزاج، تعلیمی قیادت اور ثبوت کی ثقافت کا بحران

ڈاکٹر اسد اللہ خان اِس ملک میں دو طرح کی چوریاں ہوتی ہیں اور ہم صرف ایک کو چوری کہتے ہیں۔ پہلی چوری کا سراغ لگانا آسان ہے۔ ایک سوالیہ پرچہ امتحان سے پہلے کسی کے فون میں پہنچ جاتا ہے اور لاکھوں نوجوانوں کے ایک برس کی ریاضت رات کے کسی پہر بے وقعت ہو جاتی ہے۔ اخبار اِسے سرخی بناتے ہیں، ایوان اِس پر گرجتا ہے، تفتیشی ادارے حرکت میں آتے ہیں، اور کہیں نہ کہیں ایک گرفتاری بھی عمل میں آ جاتی ہے۔ دوسری چوری اِس سے زیادہ سنگین ہے اور اِس پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ اِس میں پرچہ نہیں، طریقہ چُرایا جاتا ہے۔ کوئی صاحبِ منصب کسی محفل میں ایک دعویٰ پیش کرتا ہے، دلیل کا سارا مرحلہ چھوڑ دیتا ہے، اور سامعین کے حصے میں وہ یقین آ جاتا ہے جس کی قیمت کسی نے ادا نہیں کی۔ غور کیجیے تو دونوں واقعات کی ساخت ایک ہے۔ پرچہ چُرانے والا محنت کے بغیر نمبر لے جاتا ہے؛ بے دلیل دعویٰ کرنے والا تحقیق کے بغیر تصدیق لے جاتا ہے۔ دونوں نے وہ درمیانی راستہ حذف کر دیا ہے جس کا نام علم ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک پر رپورٹ لکھی جاتی ہے اور دوسرے پر تالیاں بجتی ہیں۔ جولائی کے آخری ہفتے میں یہ دونوں چوریاں ایک ہی صفحے پر جمع ہو گئیں۔ ایک طرف وہ امتحان تھا جس کی ساکھ مٹی میں مل چکی تھی، دوسری طرف وہ جملہ تھا جو ایوان میں گونجا اور جس پر ملک دو حصوں میں بٹ گیا۔ اخبارات نے اِسے سیاست کا معاملہ سمجھا۔ میرے نزدیک یہ سیاست سے زیادہ تعلیم کا معاملہ ہے، اور تعلیم سے زیادہ اُس رویّے کا، جسے ہمارے دستور نے ‘سائنسی مزاج’ کہا ہے۔ واقعہ کیا ہے ؟ تین مئی دو ہزار چھبیس کو ہونے والا نیٹ (یو جی) کا امتحان پرچہ افشا ہونے کے الزامات کے بعد منسوخ کیا گیا اور اکیس جون کو دوبارہ لیا گیا۔ طلبہ کا احتجاج چھتیس دن جاری رہا۔ پچیس جولائی کو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوئے اور وزارت کا اضافی چارج پرہلاد جوشی کے سپرد ہوا۔ چھبیس جولائی کو وزیرِ اعظم نے امتحانی اصلاحات کے لیے چھ رکنی اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس کا اعلان کیا۔ اِس ٹاسک فورس کی صدارت انفوسس کے شریک بانی اور آدھار کے معمار نندن نیلیکنی کے سپرد ہوئی۔ باقی ارکان میں اسرو کے سابق چیئرمین ایس سومناتھ، انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر ٹپن ڈیکا، آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی کاماکوٹی، تعلیم کی سابق سیکریٹری انیتا کروال اور سینئر انتظامی افسر امرت لال مینا شامل ہیں۔ ذمہ داری یہ سونپی گئی کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے نظام کو ٹیکنالوجی کی مدد سے محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد بنایا جائے۔ اٹھائیس جولائی کو لوک سبھا میں امتحانات میں بدعنوانی کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل پر بحث ہوئی۔ پرینکا گاندھی واڈرا نے یاد دلایا کہ دو ہزار چوبیس کے نیٹ بحران کے بعد سابق چیئرمین اسرو کے رادھا کرشنن کی سربراہی میں جو کمیٹی بنی تھی، اُن کے بیان کے مطابق اُس کی ایک سفارش بھی نافذ نہیں ہوئی۔ اِس کے بعد اُنھوں نے نئی کمیٹی کی ترکیب پر اعتراض کیا اور کہا کہ اِس میں ایک سابق آئی بی سربراہ ہے، ایک آئی ٹی کمپنی کا مالک ہے اور ایک ‘گئو مُتر وشیش گیہ’ بھی ہے۔ نام نہیں لیا گیا، مگر اشارہ سب نے سمجھ لیا۔ حکمراں جماعت کی جانب سے شدید احتجاج ہوا اور انوراگ ٹھاکر نے اِس جملے پر اعتراض درج کرایا۔ اشارہ اُس تقریر کی طرف تھا جو پندرہ جنوری دو ہزار پچیس کو ماٹو پونگل کے موقع پر چنئی کی ایک گوشالا میں ہوئی۔ اُس تقریر میں پروفیسر کاماکوٹی نے دیسی نسل کے مویشیوں اور نامیاتی کاشت کاری کی اہمیت بیان کی اور اِس ضمن میں کہا کہ گئو مُتر میں جراثیم کش اور فنگس کش خواص ہیں اور یہ ہاضمے کی خرابیوں، بلکہ آنتوں کے ایک خاص عارضے میں بھی مفید ہے۔ اُنھوں نے ایک سنیاسی کا واقعہ سنایا، جس کا تیز بخار گئو مُتر پینے کے پندرہ منٹ بعد اُتر گیا؛ نام اُنھیں یاد نہیں تھا۔ ویڈیو وائرل ہوا، اعتراض ہوئے، اور اگلے ہی روز اُنھوں نے صحافیوں سے کہا کہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت شدہ ہے اور امریکہ کے جرائد میں اِس کی شہادتیں موجود ہیں۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے دو ہزار اکیس کا وہ مقالہ پیش کیا جو نیچر گروپ کے ایک جریدے میں قومی ڈیری تحقیقاتی ادارے کے محققین نے شائع کیا تھا اور جس میں گئو مُتر کے پیپٹائیڈز کی نشان دہی کی گئی تھی۔ یہاں ایک اعتراف ضروری ہے، اور یہ اعتراف اِس بحث کی پہلی شرط ہے۔ پروفیسر کاماکوٹی کمپیوٹر آرکیٹیکچر اور سائبر سیکیورٹی کے سنجیدہ محقق ہیں، ملک کے دیسی مائیکرو پروسیسر منصوبے سے وابستہ رہے ہیں، دو ہزار ایک سے آئی آئی ٹی مدراس میں تدریس کر رہے ہیں اور دو ہزار بائیس سے اُس کے ڈائریکٹر ہیں۔ اُن کی علمی محنت حقیقی ہے۔ زیرِ بحث اُن کی صلاحیت نہیں، ایک اصول ہے۔ ہم اِس واقعے کو کسی ایک فرد کی لغزش سمجھ کر آگے بڑھ سکتے ہیں، مگر یہ سہولت خود ایک فرار ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام دو نسلوں سے ایک ہی چیز سکھا رہا ہے: درست جواب۔ سوال، شک، غلطی، اور اُس طویل راستے کی ساری مشقت جس سے جواب پیدا ہوتا ہے — یہ سب نصاب کے حاشیے پر پڑا رہتا ہے، کیونکہ اِن کے لیے کوئی خانہ نہیں، کوئی نمبر نہیں، کوئی رینک نہیں۔ برسوں کے تدریسی مشاہدات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے اسکولوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ بچہ وہ ہے جو پوچھتا ہے: ‘ہمیں یہ کیسے معلوم ہوا؟’ وہ نصاب کی رفتار توڑتا ہے، استاد کا وقت لیتا ہے، اور اکثر ایک ایسا جواب مانگتا ہے جو استاد کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ ہم اُسے خاموش کرا دیتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اُس ایک لمحے میں ہم نے صرف ایک سوال نہیں دبایا، ایک رویّہ دبا دیا۔ چنانچہ ہم ایسے ذہن پیدا کرتے ہیں جو معلومات میں بے پناہ اور طریقے میں بالکل خالی ہوتے ہیں۔ اِنھیں سائنس کے

سائنسی مزاج، تعلیمی قیادت اور ثبوت کی ثقافت کا بحران Read More »

دیوار اور سائبان

ہندوستانی گھرانوں میں تربیتِ اولاد کے طریقے، اُن کے اثرات اور اصلاح کی راہیں ڈاکٹر اسد اللہ خان ایک ہی گلی ہے اور دو گھر۔ دونوں کے بچے ایک ہی اسکول سے ایک ہی خبر لے کر لوٹے ہیں: ریاضی کے پرچے میں ناکامی۔ پہلے گھر کا دروازہ کھلتے ہی آواز بلند ہوتی ہے، طعنوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے، اور بچہ کاپی سینے سے چھپائے دیوار سے لگ جاتا ہے۔ دوسرے گھر میں باپ پرچہ ہاتھ میں لیتا ہے، بیٹے کو پاس بٹھاتا ہے اور دھیمے لہجے میں صرف اتنا پوچھتا ہے: “یہ سوال تمھیں مشکل کیوں لگا؟” دس برس بعد پہلا بچہ جھوٹ بولنے میں طاق ہو چکا ہوگا اور دوسرا سوال کرنے میں۔ فرق پرچے کا نہ تھا، فرق تربیت کا تھا۔ چالیس برس تک درس گاہوں میں بچوں کو پڑھتے، بگڑتے اور سنورتے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ایوانوں میں نہیں، دسترخوانوں پر ہوتے ہیں۔ اسکول بعد میں آتا ہے، گھر پہلے آتا ہے؛ استاد بعد میں ملتا ہے، ماں باپ پہلے ملتے ہیں۔ اور جو سبق گھر کی دہلیز پر پڑھا دیا جائے، دنیا کی کوئی جماعت اسے آسانی سے مٹا نہیں سکتی۔ عام گفتگو میں تربیت کا مطلب کھلانا پلانا، فیس بھرنا اور شادی تک پہنچا دینا سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ پرورش جسم کی خدمت ہے اور تربیت شخصیت کی تعمیر۔ ماہرینِ نفسیات نے اس تعمیر کو دو ستونوں پر کھڑا دیکھا ہے۔ پہلا ستون شفقت ہے: بچے کی بات سننا، اس کے جذبات کو وزن دینا، اس کی پکار پر لبیک کہنا۔ دوسرا ستون نظم ہے: حد مقرر کرنا، توقع رکھنا اور اصول پر قائم رہنا۔ انہی دو ستونوں کے اتار چڑھاؤ سے تربیت کے سارے رنگ بنتے ہیں۔ جہاں دونوں موجود ہوں وہاں شخصیت بنتی ہے؛ جہاں ایک ہو اور دوسرا غائب، وہاں شخصیت لنگڑاتی ہے؛ اور جہاں دونوں مفقود ہوں وہاں بچہ پلتا ضرور ہے، بنتا نہیں۔ گزشتہ صدی کے وسط میں امریکی ماہرِ نفسیات ڈایانا بومرینڈ نے والدین کے رویوں کا منظم مطالعہ کر کے تین طرزیں متعین کیں، جن میں بعد کے محققین میکوبی اور مارٹن نے چوتھی کا اضافہ کیا۔ آج دنیا بھر کی تعلیمی اور نفسیاتی تحقیق انہی چار خانوں کو بنیاد بناتی ہے۔ میں انھیں چار استعاروں میں دیکھتا ہوں۔ پہلی طرز دیوار ہے، جسے علمی زبان میں آمرانہ تربیت کہتے ہیں۔ حکم اونچا، شفقت خاموش۔ بچے سے توقعات آسمان چھوتی ہیں مگر مکالمے کا دروازہ بند رہتا ہے۔ “کیوں” پوچھنا گستاخی ہے، اختلاف بغاوت ہے، اور خاموش تعمیل ہی واحد قابلِ قبول جواب۔ دوسری طرز سائبان ہے: مشفقانہ مگر بااصول تربیت۔ یہاں اصول اتنے ہی پختہ ہیں مگر ان کے ساتھ وجہ بھی بتائی جاتی ہے، بچے کی رائے سنی جاتی ہے، اور حد سے تجاوز پر گرفت محبت کے لہجے میں ہوتی ہے۔ سائبان دھوپ روکتا ہے، روشنی نہیں روکتا۔ تیسری طرز کھلا آسمان ہے: بے قید لاڈ، جسے تحقیق کی اصطلاح میں متساہل تربیت کہا جاتا ہے۔ محبت بے حساب، اصول ندارد۔ بچہ جو مانگے حاضر، جو کرے معاف۔ بظاہر یہ آزادی ہے، درحقیقت بے سائبانی ہے، کیونکہ کھلے آسمان تلے دھوپ بھی سیدھی پڑتی ہے اور بارش بھی۔ چوتھی طرز ویرانہ ہے: غفلت شعار تربیت۔ نہ شفقت نہ نظم؛ ماں باپ موجود ہیں مگر حاضر نہیں۔ روٹی کپڑے کا انتظام ہے، دل کا کوئی انتظام نہیں۔ یہ چاروں راستے ایک ہی دہلیز سے نکلتے ہیں مگر چار مختلف انسانوں تک پہنچتے ہیں۔ ہندوستان کی روایتی تربیت صدیوں سے بزرگوں کے ادب، خاموش اطاعت اور خاندان کے اجتماعی فیصلوں پر قائم رہی ہے۔ اس نظام کی اپنی برکتیں تھیں: رشتوں کی گرمی، بزرگوں کا سایہ، مشترکہ خاندان کی وہ درس گاہ جہاں دادی کی کہانی اور چچا کی نگرانی مفت میسر تھی۔ مگر اسی نظام کے پہلو میں ایک سخت سچائی بھی چھپی رہی: بچے کی رائے کو رائے سمجھا ہی نہیں گیا۔ تحقیق اس تاثر کی تصدیق کرتی ہے۔ جنوبی ہندوستان کے دیہی سرکاری اسکولوں کے ساڑھے چار سو کے قریب نوعمر طلبہ پر کیے گئے ایک مطالعے میں آمرانہ طرز سب سے زیادہ رائج پائی گئی، اگرچہ مشفقانہ بااصول طرز اس سے کچھ ہی پیچھے تھی۔ کیرالا کے ایک ضلعی مطالعے نے یہ اضافہ کیا کہ جن گھروں میں ماں باپ دونوں موجود ہوں اور وسائل نسبتاً بہتر ہوں وہاں مکالمے والی تربیت زیادہ ملتی ہے، جبکہ تنگ دستی اور تنہا والدین کے گھروں میں سختی کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ گویا آمریت ہمیشہ مزاج نہیں ہوتی، اکثر مجبوری بھی ہوتی ہے: تھکے ہوئے والدین کے پاس مکالمے کا وقت نہیں بچتا، صرف حکم کی طاقت بچتی ہے۔ مگر تصویر بدل رہی ہے، اور جس رخ پر بدل رہی ہے وہ اطمینان سے زیادہ فکر کا مقام ہے۔ شہری متوسط گھرانوں کے حالیہ مشاہدات بتاتے ہیں کہ نئی نسل کے والدین میں بے قید لاڈ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ جس معاشرے نے کل بچے کی زبان بند رکھی تھی، وہ آج اس کی ہر ضد کے آگے ہتھیار ڈال رہا ہے۔ دیوار گری تو اس کی جگہ سائبان تعمیر نہ ہوا؛ سیدھا کھلا آسمان آ گیا۔ ایک انتہا کا ردِعمل دوسری انتہا بن گیا، اور اعتدال دونوں زمانوں میں اجنبی رہا۔ مسلم معاشرے کا منظر اس عمومی تصویر سے الگ نہیں، مگر اس میں دو رنگ زیادہ گہرے ہیں۔ ہمارے ہاں بڑے پیمانے کی مستند تحقیق کم ہوئی ہے، لیکن دستیاب مطالعات اور میرا چار دہائیوں کا مشاہدہ ایک ہی طرف اشارہ کرتے ہیں: ہمارے گھروں میں بالعموم دو انتہائیں ساتھ ساتھ آباد ہیں۔ ایک طرف وہ آمریت ہے جس نے دین جیسے لطیف موضوع کو بھی حکم کے لہجے میں ڈھال دیا۔ نماز ڈانٹ کر پڑھوائی جاتی ہے، قرآن خوف کے سائے میں یاد کرایا جاتا ہے، اور حیا سمجھانے کے بجائے تھوپ دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ عبادت جسم پر نافذ ہو جاتی ہے، دل میں نہیں اترتی؛ اور گھر کی نگرانی ختم ہوتے ہی وہ فرائض بھی رخصت ہو جاتے ہیں جو صرف نگرانی کے دم سے قائم تھے۔ دوسری طرف وہ غفلت آمیز لاڈ ہے جو خاص طور پر بیٹوں کے حصے میں آتا ہے: بیٹی پر ضابطے سخت، بیٹے پر سب

دیوار اور سائبان Read More »

قحطِ معلّم

تدریس کے مسائل، خواتین اساتذہ کی مشکلات اور اچھے استاد کی نایابی — ایک نوحہ بھی، ایک نسخہ بھی ڈاکٹر اسد اللہ خان کسی درسگاہ کی سب سے قیمتی چیز اس کی عمارت نہیں ہوتی، نہ اس کا کتب خانہ، نہ تجربہ گاہ، نہ کمپیوٹر سے سجا ہوا کمرہ۔ سب سے قیمتی چیز وہ انسان ہوتا ہے جو صبح کی گھنٹی بجتے ہی جماعت میں داخل ہوتا ہے اور جس کے علم، لہجے اور کردار سے ایک پوری نسل کی صورت گری ہوتی ہے۔ عمارت میں دراڑ آ جائے تو مرمت ممکن ہے؛ استاد کے معیار میں دراڑ آ جائے تو اس کی مرمت پر پوری قوم کی کئی دہائیاں صرف ہو جاتی ہیں۔ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ درس و تدریس اور ادارہ سازی میں گزارنے کے بعد میں پورے اطمینان سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک میں تعلیم کا اصل بحران وسائل کا نہیں، انسانوں کا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار ہر سال نئے اسکولوں، نئی عمارتوں اور نئے کمپیوٹروں کی خوش خبری سناتے ہیں، مگر جماعت کے کمرے میں کھڑے اس شخص کے بارے میں خاموش رہتے ہیں جس کے بغیر یہ ساری چیزیں بے جان ڈھانچے سے زیادہ کچھ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے پاس اسکول بہت ہیں، استاد کم ہیں؛ اور استاد مل بھی جائیں تو اچھا استاد نایاب ہے۔ تدریس محض معلومات کی منتقلی کا نام نہیں۔ اگر معلومات پہنچا دینا ہی تدریس ہوتی تو کتاب، ریڈیو اور اسکرین کب کے استاد کی جگہ لے چکے ہوتے۔ تدریس دراصل ایک ذہن کا دوسرے ذہن کو جگانے کا عمل ہے؛ ایک ایسا شعوری، منظم اور بامقصد فن جس میں معلم اپنے علم، اپنی شخصیت اور اپنے طریقِ کار کے ذریعے متعلم کے اندر سمجھنے، سوچنے اور سوال کرنے کی صلاحیت بیدار کرتا ہے۔ تعلیم ایک وسیع سمندر ہے جو گھر، معاشرے اور تجربے سے بھی حاصل ہوتی ہے، مگر تدریس اس سمندر میں چلنے والی وہ کشتی ہے جسے ایک تربیت یافتہ ناخدا سمت دیتا ہے۔ اسی لیے تدریس بیک وقت سائنس بھی ہے اور فن بھی۔ سائنس اس لیے کہ اس کے پیچھے نفسیات، عمرانیات اور علمِ تعلیم کے مسلمہ اصول کام کرتے ہیں؛ فن اس لیے کہ ان اصولوں کو ہر بچے کے مزاج، ماحول اور استعداد کے مطابق برتنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ اور اس کی اہمیت کا اندازہ صرف ایک جملے سے کر لیجیے: دنیا کا ہر پیشہ اپنے ماہرین خود پیدا نہیں کرتا؛ سب کے ماہرین استاد پیدا کرتا ہے۔ طبیب، مہندس، منصف، سپاہی اور خود معلم — ہر ایک کسی نہ کسی جماعت کے کمرے سے گزر کر ہی وہاں تک پہنچا ہے جہاں وہ آج کھڑا ہے۔ ماہرینِ تعلیم نے تدریس کے کئی طریقے متعین کیے ہیں، اور ہر طریقہ دراصل اس سوال کا جواب ہے کہ جماعت کے کمرے کا مرکز کون ہو — استاد یا بچہ؟ خطابتی یا لکچر طریقہ سب سے قدیم ہے: استاد بولتا ہے، طلبہ سنتے ہیں۔ رٹنے پر مبنی طریقہ اس سے ایک قدم آگے کی پستی ہے: طلبہ سنتے بھی نہیں، صرف یاد کرتے ہیں اور امتحان کے پرچے پر انڈیل کر بھول جاتے ہیں۔ ان کے مقابل سوال و جواب کا استفہامی طریقہ ہے، جس کی جڑیں سقراط کے مکالموں اور ہماری اپنی درس گاہوں کی صحبتوں تک جاتی ہیں؛ سرگرمی پر مبنی طریقہ ہے، جس میں بچہ کر کے سیکھتا ہے؛ انکشافی اور تعمیری طریقہ ہے، جس میں علم بچے کو تھمایا نہیں جاتا بلکہ اس کے اندر تعمیر ہونے دیا جاتا ہے؛ باہمی تعاون کا طریقہ ہے، جس میں طلبہ ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں؛ اور اب ٹیکنالوجی سے مربوط مخلوط تدریس ہے، جس میں اسکرین معاون ہے، متبادل نہیں۔ان طریقوں میں کوئی مطلقاً اچھا یا برا نہیں؛ اچھا استاد وہ ہے جو موقع، مضمون اور بچے کو دیکھ کر طریقہ بدلنا جانتا ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پورا نظام برسہا برس صرف ایک ہی طریقے پر جم جائے — اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہی ہوا ہے۔ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ رائج طریقہ آج بھی خطابت اور رٹنے کا وہی پرانا امتزاج ہے: استاد لکھواتا ہے، بچہ اتارتا ہے، امتحان یادداشت کو تولتا ہے اور نتیجہ فہم کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے استعداد پر مبنی تعلیم کے خواب دکھائے ہیں، نصابی دستاویزات میں تعمیری اور سرگرمی پر مبنی تدریس کے الفاظ جگمگاتے ہیں، مگر جماعت کے کمرے کی زمینی حقیقت اب بھی تختۂ سیاہ، املا اور نقل کے مثلث میں قید ہے۔ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ہمارے ہاں پالیسی اکیسویں صدی میں پہنچ گئی ہے اور تدریس انیسویں صدی میں ٹھہری ہوئی ہے۔ مہاراشٹر بھی اس عمومی تصویر سے مختلف نہیں۔ ریاست نے سرگرمی پر مبنی تعلیم اور تعمیری طریقِ تدریس کے سرکاری منصوبے ضرور اپنائے ہیں، مگر بھری ہوئی جماعتیں، اساتذہ کی کمی اور امتحانی دباؤ اسے عملاً وہیں لے آتے ہیں جہاں سے چلی تھی۔ خود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے اعلیٰ ثانوی درجات میں ایک ایک استاد کے حصے میں اوسطاً سینتیس طلبہ آتے ہیں، جبکہ قومی تعلیمی پالیسی زیادہ سے زیادہ تیس کی حد مقرر کرتی ہے۔ جس کمرے میں پچاس ساٹھ بچے بیٹھے ہوں وہاں دنیا کا بہترین تربیت یافتہ استاد بھی سرگرمی نہیں کرا سکتا؛ وہ صرف آواز بلند کر سکتا ہے۔ رٹنے کا طریقہ ہماری پسند نہیں، ہماری مجبوریوں کا حاصل ہے — اور یہی اس کا سب سے خطرناک پہلو ہے، کیونکہ مجبوری رفتہ رفتہ عادت بن جاتی ہے اور عادت عقیدہ۔ تازہ ترین سرکاری جائزے (یوڈائس پلس 2024ء-25ء) کے مطابق ملک میں اساتذہ کی تعداد پہلی بار ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند سنگِ میل ہے، مگر اسی برس پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً دس لاکھ تدریسی اسامیاں خالی پڑی ہیں، جن میں ساڑھے سات لاکھ اسامیاں ابتدائی درجات کی ہیں — یعنی عین اس مرحلے کی، جہاں بچہ پڑھنا لکھنا اور گننا سیکھتا ہے۔ اٹھارہ ریاستوں کے اپنے فراہم کردہ اعداد کے مطابق ساڑھے تین لاکھ سے زائد منظور شدہ اسامیوں پر تقرری ہی نہیں ہوئی۔ اور المیہ صرف دیہی یا

قحطِ معلّم Read More »

ایک چھت، کئی جزیرے

آج کا بچہ کمزور نہیں، تنہا ہو گیا ہے ڈاکٹر اسد اللہ خان بعض حادثے کسی ایک دن پیش نہیں آتے؛ وہ برسوں خاموشی سے جنم لیتے ہیں۔ ان کی کوئی آواز نہیں ہوتی، کوئی دھماکہ نہیں ہوتا، کوئی اخبار انہیں سرخی نہیں بناتا۔ وہ آہستہ آہستہ گھروں کے در و دیوار میں اترتے ہیں، گفتگو کے وقفوں میں بسیرا کرتے ہیں، رشتوں کے بیچ خاموش فاصلے بچھاتے ہیں اور ایک دن اچانک ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو ہم زندگی سمجھتے رہے، اس کی روح کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ انسانی تہذیب کی سب سے پہلی درسگاہ کوئی مدرسہ، کوئی مکتب، کوئی جامعہ نہیں تھی؛ ایک گھر تھا۔ پہلی کتاب ماں کا چہرہ تھی، پہلا سبق باپ کی انگلی، پہلی لائبریری بزرگوں کی یادداشت، پہلی درسگاہ آنگن، اور پہلا نصاب محبت۔ زبان بولنے سے پہلے بچہ لہجوں کو پڑھتا ہے، الفاظ سمجھنے سے پہلے نگاہوں کی گرمی محسوس کرتا ہے، اور تعلیم شروع ہونے سے بہت پہلے تعلقات کی زبان سیکھ لیتا ہے۔ اسی لیے ہر تہذیب کی اصل تعمیر اینٹ اور پتھر سے نہیں، گھروں کی خاموش تربیت سے ہوتی ہے۔ مگر تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں ٹوٹتیں؛ کبھی کبھی وہ آسائشوں کے بوجھ تلے بھی بکھر جاتی ہیں۔ ہم نے اپنے شہروں کو بلند کیا، مگر اپنے آنگن چھوٹے کر دیے۔ ہم نے رفتار کو ترقی کا دوسرا نام دے دیا، یہاں تک کہ فرصت ہمیں ناکامی محسوس ہونے لگی۔ ہم نے رابطوں کی بے شمار راہیں کھولیں، مگر ملاقات کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہوتے گئے۔ فاصلے کم ہوتے گئے، قربتیں گھٹتی گئیں۔ آوازیں بڑھتی گئیں، گفتگو کم ہوتی گئی۔ روشنی زیادہ ہوئی، مگر چہروں کی شناسائی مدھم پڑ گئی۔ شام کا ایک منظر دیکھیے۔ ایک گھر ہے۔ دروازہ کھلا ہے، روشنی جل رہی ہے، باورچی خانے سے کھانے کی خوشبو آ رہی ہے، دیوار پر گھڑی اپنی رفتار سے چل رہی ہے، سب افراد اپنی اپنی جگہ موجود ہیں، مگر گھر کے اندر ایک عجیب قسم کی خاموشی ہے؛ ایسی خاموشی جس میں اختلاف نہیں، لیکن اشتراک بھی نہیں۔ والد اپنے سامنے کھلے ہوئے لیپ ٹاپ پر جھکے ہیں۔ دنیا کے کئی شہروں سے ای میلیں آ رہی ہیں، مگر ان کے برابر بیٹھا بیٹا آج اسکول میں پیش آنے والا ایک واقعہ سنانے کے لیے مناسب لمحہ تلاش کرتے کرتے خاموش ہو چکا ہے۔ والدہ ایک مختصر ویڈیو سے دوسری مختصر ویڈیو تک سفر کر رہی ہیں۔ دنیا بھر کے چہروں سے وہ واقف ہیں، مگر شاید انہیں یہ خبر نہیں کہ ان کی بیٹی کی مسکراہٹ پچھلے چند ہفتوں سے پہلے جیسی نہیں رہی۔ بڑا بیٹا کانوں میں ہیڈفون لگائے ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں ہزاروں آوازیں ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی اس کا نام لے کر اسے نہیں پکارتا۔ سب سے چھوٹا بچہ فرش پر بیٹھا اپنی ننھی انگلیوں سے اسکرین پر ایک مجازی دنیا تعمیر کر رہا ہے۔ وہ جیت بھی رہا ہے، ہار بھی رہا ہے، خوش بھی ہو رہا ہے، ناراض بھی، مگر اس کے ہر جذبے کا گواہ ایک الگورتھم ہے، انسان نہیں۔ یہ منظر کسی ایک گھر کا نہیں۔ یہ ہمارے عہد کا اجتماعی پورٹریٹ ہے۔ کمرہ ایک ہے۔ چھت ایک ہے۔ دسترخوان ایک ہے۔ خاندان ایک ہے۔ مگر ہر فرد اپنی اپنی اسکرین کی روشنی میں ایک الگ جزیرہ بن چکا ہے۔ درمیان میں ایک خاموش سمندر ہے۔ اس سمندر پر کبھی مکالمے کی کشتیاں چلتی تھیں۔ اب نوٹیفکیشن کی لہریں ہیں، مگر آوازِ دل کا کوئی ملاح نہیں۔ پھر یہی معاشرہ، جو اس خاموش تبدیلی کا برسوں سے خاموش تماشائی رہا، اچانک ایک دن عدالت لگا لیتا ہے۔ فیصلہ سنایا جاتا ہے: “آج کا بچہ ضدی ہے۔” “آج کا بچہ بے صبر ہے۔” “آج کا بچہ موبائل کا عادی ہے۔” “آج کا بچہ کتاب سے دور ہو گیا ہے۔” فیصلہ سنانے میں ہم نے کبھی دیر نہیں کی۔ دیر ہمیشہ اس سوال میں ہوئی جو ہر فیصلے سے پہلے پوچھا جانا چاہیے تھا: یہ سب ہوا کیوں؟ یہ مضمون اسی سوال کی تلاش ہے۔ یہ کسی بچے کے خلاف فردِ جرم نہیں۔ یہ موبائل کے خلاف اعلانِ جنگ بھی نہیں۔ یہ والدین، اساتذہ یا اسکولوں کے خلاف نوحہ بھی نہیں۔ یہ ہماری پوری تہذیب کے سامنے رکھا ہوا ایک آئینہ ہے۔ آئینہ الزام نہیں دیتا۔ وہ صرف چہرہ دکھاتا ہے۔ اگر چہرے پر گرد ہو تو قصور آئینے کا نہیں ہوتا۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم پہلی مرتبہ اپنے بچوں کو نہیں، اپنے آپ کو دیکھیں۔ کیونکہ تاریخ کا ایک بے رحم اصول ہے: ہر نسل اپنی اولاد کو صرف جائیداد، عمارتیں اور ڈگریاں ورثے میں نہیں دیتی؛ وہ اپنا طرزِ احساس بھی منتقل کرتی ہے۔اگر ایک نسل سننا چھوڑ دے تو اگلی نسل بولنا چھوڑ دیتی ہے۔ اگر ایک نسل مکالمہ بھول جائے تو اگلی نسل خاموشی کو زبان بنا لیتی ہے۔ اور اگر ایک نسل محبت کے اظہار کو مؤخر کرتی رہے تو اگلی نسل تعلقات پر یقین کھونے لگتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے اس مضمون کا سفر شروع ہوتا ہے۔ ایک بچے سے نہیں؛ ایک گھر سے۔ اور ایک ایسے سوال سے، جس کا جواب شاید ہمارے زمانے کی سب سے بڑی تعلیمی، سماجی اور اخلاقی ضرورت بن چکا ہے: آخر آج کا بچہ واقعی کمزور ہوا ہے… یا ہم نے اسے تنہا چھوڑ دیا ہے؟ دنیا کی ہر عدالت میں فیصلہ سنانے سے پہلے ایک اصول ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ الزام لگانے والے سے پوچھا جاتا ہے کہ اس کے پاس ثبوت کیا ہے، گواہ کون ہے، اور کیا اس نے مقدمے کا دوسرا رخ بھی سنا ہے؟ لیکن عجیب بات ہے کہ جب معاملہ بچوں کا آتا ہے تو ہم اس بنیادی انصاف کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔ یہاں فیصلہ پہلے لکھا جاتا ہے، سماعت بعد میں ہوتی ہے، اور اکثر تو سماعت ہوتی ہی نہیں۔ ہم کہتے ہیں: “آج کا بچہ بدل گیا ہے۔” یہ جملہ جتنا مختصر ہے، اتنا ہی خطرناک بھی۔ اس لیے نہیں کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ پوری حقیقت نہیں۔ ہر تبدیلی کی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ کوئی درخت ایک رات میں خشک نہیں ہوتا، کوئی دریا

ایک چھت، کئی جزیرے Read More »

اُستاد — قوم کی روح، نسلوں کا معمار

اُستاد — قوم کی روح، نسلوں کا معمار نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی صورتِ حال ڈاکٹر اسد اللہ خان زمین کے سینے میں بیج بونے والے کا نام کوئی نہیں جانتا — مگر جب شجر پھل لاتا ہے تو سارا جہان اُسے سراہتا ہے۔ استاد کا مقام بھی ایسا ہی ہے۔ وہ نسلوں کو سیراب کرتا ہے، لیکن اُس کی پیاس کو کوئی نہیں پوچھتا۔ وہ آنے والوں کے لیے راستے روشن کرتا ہے، لیکن اپنی راہ میں خود اندھیرا سہتا ہے۔ میں نے چار دہائیوں سے زائد عرصے میں تعلیم کے اُس چہرے کو دیکھا ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ وہ چہرہ جو اعلانیہ بیانات کی پیچھے چھپ جاتا ہے، جو سرکاری اعداد و شمار کے خانوں میں سما نہیں پاتا، جو سیاست کے گلیاروں میں نہیں بلکہ کلاس روم کی تنگ دیواروں کے درمیان زندہ ہے۔ یہ چہرہ استاد کا ہے — ہندوستان کے اُس استاد کا جو ہر صبح ایک نئی اُمید لے کر اسکول جاتا ہے اور ہر شام خاموش تھکاوٹ لے کر لوٹتا ہے۔ یہ مضمون کسی خاص ادارے کی شکایت نہیں، کسی فرد کی مذمت نہیں، کسی نظریاتی سیاست کا حصہ نہیں۔ یہ اُس تعلیمی ضمیر کی آواز ہے جو برسوں سے سوچتا آیا ہے: کیا ہم واقعی اپنے اساتذہ کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا وہ تعلیم جو ہم دیتے ہیں، پہلے خود اُن پر لاگو ہوتی ہے جو اسے دیتے ہیں؟ استاد کی آواز دبانا صرف ایک انسان کو خاموش کرنا نہیں — یہ آنے والی ہزار نسلوں کے حق کو غصب کرنا ہے۔ ہندوستان کی تعلیمی تاریخ میں نجی اداروں کا کردار ہمیشہ سے دو رُخا رہا ہے۔ ایک طرف وہ اداروں نے ہیں جنہوں نے سرکاری نظام کی خامیوں کو پُر کیا، غریب بستیوں میں علم کی شمعیں جلائیں، اردو، انگریزی اور علاقائی زبانوں میں معیاری تعلیم کو عام کیا۔ دوسری طرف وہ رجحانات ہیں جنہوں نے تعلیم کو ایک تجارتی منصوبے میں ڈھال لیا، جہاں اسکول کی عمارتیں بڑھتی رہیں، فیسوں کے بورڈ چمکتے رہے، لیکن اُن دیواروں کے اندر کام کرنے والا استاد کھوکھلا ہوتا رہا۔ اے ایس ای آر رپورٹ ۲۰۲۳ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں پانچویں جماعت کے چالیس فیصد سے زائد بچے دوسری جماعت کی کتاب نہیں پڑھ پاتے۔ یہ اعداد ہمیں چونکاتے ہیں — مگر ہم کم ہی یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ استاد جسے تعلیم دینی ہے، خود کس حال میں ہے- رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ جن ممالک میں اساتذہ کو پیشہ ورانہ آزادی اور ادارتی احترام ملتا ہے، وہاں طلبہ کی کارکردگی خود بخود بلند ہو جاتی ہے۔ لیکن جہاں استاد محض ایک مزدور کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے، وہاں تعلیم کا معیار بھی اُسی کی اُجرت جتنا گر جاتا ہے۔ UDISE+ کے اعداد کے مطابق ہندوستان میں نجی اسکولوں کی تعداد میں گزشتہ دہائی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اسی تناسب سے اساتذہ کی تنخواہوں، تحفظِ ملازمت اور پیشہ ورانہ کیفیت میں بہتری نہیں آئی۔ یہ وہ ناہمواری ہے جو نظامِ تعلیم کو بنیادی سطح پر کمزور کر رہی ہے۔جب نجی تعلیم کی عمارتیں اونچی ہوتی جائیں اور استاد کی قدر پست ہوتی جائے — تو وہ عمارتیں صرف دیواریں ہیں، درسگاہیں نہیں۔ سب سے پہلی اور سب سے گہری بیماری یہ ہے کہ بہت سے نجی ادارے تعلیم کو سیوا نہیں، سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ منافع کو علم پر مقدم رکھے، تو اُس کا پہلا شکار استاد ہوتا ہے۔ تنخواہ کم سے کم رکھی جاتی ہے، آواز دبائی جاتی ہے، اور جب تک استاد فرمانبردار رہے — وہ ”قابل” ہے، جب وہ سوچنے لگے — وہ ”مسئلہ” بن جاتا ہے۔ یہ ذہنیت اُس تاریخی غلطی کا تسلسل ہے جسے فیلسوفِ تعلیم جان ڈیوی نے ”علم کی بازاری” کہا تھا۔ جب ہم دنیا بھر میں تعلیم کے لئے نطر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ فن لینڈ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ استاد کو سب سے پہلے ماننا پڑتا ہے۔ وہاں نصاب سازی میں استاد کی رائے حتمی ہوتی ہے، پالیسی میں اُس کا تجربہ بنیاد بنتا ہے۔ اور نتیجہ؟ فن لینڈ کا تعلیمی نظام برسوں سے عالمی درجہ بندی میں سرِ فہرست ہے۔ ہمارے یہاں حال یہ ہے کہ جو روزانہ چالیس چالیس بچوں کے درمیان بیٹھتا ہے، اُس سے ایک پالیسی نہیں پوچھی جاتی۔ فیصلے وہ کرتے ہیں جنہوں نے سالوں سے کوئی کلاس روم نہیں دیکھا۔ رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ نے بچوں کے حقوق کی ضمانت دی — ایک تاریخی قدم۔ لیکن اُس ایکٹ میں وہ استاد گم ہو گیا جس کے بغیر یہ حق کھوکھلا ہے۔ نجی اسکولوں میں کام کرنے والے لاکھوں اساتذہ کے لیے من مانی برخواستگی کے خلاف کوئی مؤثر قانونی ڈھال نہیں۔ یہ خلاء ادارہ داروں کو لامحدود اختیار دیتا ہے اور استاد کو ایک ایسے جزیرے پر چھوڑتا ہے جہاں کوئی مددگار ساحل نہیں۔ دوسری طرف ایک اور المیہ ہے جو کم ظاہر مگر کم تکلیف دہ نہیں — غیرتدریسی بوجھ کا وہ پہاڑ جو آج کے استاد کے کندھوں پر لاد دیا گیا ہے۔ آج کا استاد درس گاہ میں کھڑا ضرور ہے، مگر اُس کا ذہن، اُس کا وقت اور اُس کی توانائی کلاس روم میں نہیں — کاغذوں، اسکرینوں اور سرکاری خانوں میں بکھری ہوئی ہے۔ UDISE+ کا ڈیٹا، مِڈ ڈے میل کا حساب کتاب، ڈیجیٹل حاضری کا اندراج، سرکاری اسکیموں کی نگرانی، والدین کی شکایات کا ازالہ، حکومتی مہمات میں لازمی شرکت — یہ سب ذمہ داریاں اُسی ایک انسان سے وصول کی جاتی ہیں جس سے بیک وقت یہ توقع بھی رکھی جاتی ہے کہ اُس کے تدریسی نتائج سو فیصد ہوں، ہر بچہ سیکھے، کوئی پیچھے نہ رہے۔ یہ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے — کہ ایک ہی انسان سے وہ سب مانگا جائے جو پوری ایک ٹیم کے بس کا کام ہے؟یہ تعلیم کے مقاصد کے ساتھ بھی گہرا مذاق ہے۔استاد پر غیرتدریسی بوجھ ڈالنا ایسا ہی ہے جیسے جراح سے آپریشن کے ساتھ ساتھ ہسپتال کی صفائی بھی مانگی جائے. انسانی نفسیات ایک بنیادی سچائی پر قائم ہے: جب کوئی شخص اپنی آواز سے محروم کر دیا جائے، تو وہ صرف خاموش نہیں ہوتا — وہ

اُستاد — قوم کی روح، نسلوں کا معمار Read More »

گھر کا آنگن — شخصیت کی پہلی درس گاہ

گھر کا آنگن — شخصیت کی پہلی درس گاہ پُرسکون گھر بچے کے اعتماد، کردار اور تعلیمی کامیابی کی اصل بنیاد کیوں ہے؟ ڈاکٹر اسد اللہ خان بچہ اسکول بعد میں داخل ہوتا ہے، تربیت پہلے پا چکا ہوتا ہے۔ دنیا کی قدیم ترین درس گاہ وہ ہے جس کا نہ کوئی نصاب ہے، نہ گھنٹی، نہ داخلہ فارم، نہ سالانہ امتحان؛ مگر اس کے پڑھائے ہوئے سبق عمر بھر ساتھ چلتے ہیں۔ اس درس گاہ کا نام گھر ہے۔ ماں کی گود اس کی پہلی جماعت ہے، باپ کا رویہ اس کا نصاب، دسترخوان اس کی تجربہ گاہ، اور گھر کی فضا وہ ان لکھی کتاب جسے بچہ پڑھتا نہیں، جیتا ہے۔ ہم اسکول بدلتے ہیں، ٹیوشن بڑھاتے ہیں، نصاب پر بحث کرتے ہیں اور فیسوں کا موازنہ کرتے ہیں؛ مگر جس چار دیواری میں بچہ اپنی عمر کا سب سے بڑا حصہ گزارتا ہے، اس کی فضا پر غور کرنے کی زحمت کم ہی اٹھاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کا بچہ کس اسکول میں پڑھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کا گھر اسے کیا پڑھا رہا ہے؟ ’’بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم انہیں سکھاتے ہیں؛ وہ سیکھتے ہیں جو ہم ان کے سامنے جی کر دکھاتے ہیں۔‘‘ گزشتہ نصف صدی میں تعلیم پر جتنی گفتگو ہوئی، اس کا مرکز و محور اسکول رہا۔ عمارتیں، بورڈ، نتائج، درجہ بندیاں، سمارٹ کلاسیں — گویا بچے کی تقدیر کا سارا فیصلہ صبح آٹھ سے دوپہر تین بجے کے درمیان ہوتا ہے۔ مگر تعلیمی تحقیق کی دنیا اس مفروضے کو کب کی رد کر چکی ہے۔ امریکہ میں ۱۹۶۶ء کی مشہور کولمین رپورٹ نے، جو ہزاروں اسکولوں اور لاکھوں طلبہ کے مطالعے پر مبنی تھی، یہ چونکا دینے والا نتیجہ پیش کیا کہ بچے کی تعلیمی کارکردگی پر اس کے خاندانی پس منظر کا اثر اسکول کے وسائل سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرِ نفسیات یوری برونفن برینر نے اپنے معروف ماحولیاتی نظریے میں بچے کو دائروں کے مرکز میں رکھا: سب سے اندرونی اور سب سے طاقت ور دائرہ خاندان ہے؛ اسکول، محلہ اور معاشرہ بعد کے حلقے ہیں۔ گویا بچہ اسکول کی پیداوار نہیں، گھر کی تخلیق ہے؛ اسکول تو اس تخلیق کو تراشتا بھر ہے۔ جس بنیاد پر عمارت کھڑی ہونی ہے، وہ بنیاد گھر کے آنگن میں رکھی جاتی ہے۔ پھر یہ غفلت پیدا کیسے ہوئی کہ ہم نے تربیت کا سارا بوجھ اسکول کے کندھوں پر ڈال دیا؟ اس کی پہلی جڑ وہ خاموش مفروضہ ہے جو ہمارے ذہنوں میں بیٹھ گیا: تعلیم ایک خدمت ہے جو خریدی جا سکتی ہے۔ جب والدین فیس ادا کرتے ہیں تو لاشعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کردار سازی کی ذمے داری بھی اسی رسید میں شامل ہے۔ دوسری جڑ معاشی دباؤ ہے: روزگار کی دوڑ نے گھروں سے فرصت چھین لی، اور فرصت کے بغیر تربیت ممکن نہیں، کیونکہ تربیت لمحوں میں نہیں، رفاقت میں ہوتی ہے۔ تیسری جڑ خاندانی ڈھانچے کی تبدیلی ہے۔ مشترکہ خاندان اپنی تمام خامیوں کے باوجود بچے کو رشتوں کی ایک پوری کائنات دیتا تھا: دادی کی کہانی، چچا کی شفقت، بہن بھائیوں کی رفاقت۔ سمٹتے ہوئے گھرانوں میں بچہ اکثر دو مصروف بڑوں اور ایک روشن اسکرین کے حوالے ہے۔ اور چوتھی جڑ سب سے نازک ہے: ہم نے گھر کو رہنے کی جگہ تو رکھا، جینے کی جگہ نہیں رہنے دیا۔ جہاں مکین ایک چھت تلے الگ الگ دنیاؤں میں بستے ہوں، وہ عمارت مکان تو ہے، گھر نہیں۔ جب استاد کی نگاہ جماعت پر پڑتی ہے تو اسے صرف چہرے نہیں، گھروں کے موسم دکھائی دیتے ہیں۔ ہر بچہ اپنے بستے کے ساتھ ایک اَن دیکھا بوجھ بھی اٹھائے آتا ہے وہ اپنے گھر کی فضا بھی ساتھ لاتا ہے۔ جس بچے نے رات گھر میں تکرار سنی ہو، وہ صبح سبق پر توجہ نہیں دے سکتا، خواہ استاد کتنا ہی ماہر ہو۔ فکر مند ذہن سیکھنے کے لیے آزاد نہیں ہوتا؛ وہ پہلے اپنی حفاظت کے سوال حل کرتا ہے، پھر ریاضی کے۔ اسی لیے تجربہ کار معلم جانتے ہیں کہ کمزور نتائج کی جڑیں اکثر کاپیوں میں نہیں، آنگنوں میں ہوتی ہیں۔ گھر کا اثر صرف سکون تک محدود نہیں؛ زبان اور تجسس بھی وہیں پروان چڑھتے ہیں۔ امریکی محققین ہارٹ اور رزلے کے مشہور مطالعے نے دکھایا کہ جن گھروں میں بچوں سے کثرت سے بات کی جاتی ہے، وہ اسکول پہنچنے سے پہلے ہی الفاظ کے اتنے بڑے ذخیرے کے مالک ہوتے ہیں کہ کم گو گھرانوں کے بچے برسوں ان کا ساتھ نہیں پا سکتے۔ دسترخوان کی گفتگو دراصل ایک غیر رسمی نصاب ہے: وہاں بچہ سوال کرنا، اختلاف سننا، رائے بنانا اور لفظ برتنا سیکھتا ہے۔ جس گھر میں کتاب نظر آتی ہے، وہاں بچہ پڑھنے کو زندگی کا حصہ سمجھتا ہے؛ جس گھر میں کتاب صرف بستے میں بند ہو، وہاں پڑھائی محض سزا کی ایک صورت بن جاتی ہے۔ ’’کمزور نتائج کی جڑیں اکثر کاپیوں میں نہیں، آنگنوں میں ہوتی ہیں۔‘‘ جدید نفسیات نے جس حقیقت کو تجربہ گاہوں میں ثابت کیا، دانائے راز مائیں اسے صدیوں سے جانتی تھیں: بچے کو سب سے پہلے کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ تحفظ کا احساس ہے۔ جان بولبی کے نظریۂ وابستگی کے مطابق جس بچے کو ابتدائی برسوں میں ایک مستحکم، شفیق اور قابلِ اعتماد سہارا میسر آتا ہے، وہ دنیا کو تجربہ گاہ سمجھ کر اس میں اترتا ہے؛ اور جسے یہ سہارا نہیں ملتا، وہ دنیا کو خطرہ سمجھ کر اپنے آپ میں سمٹ جاتا ہے۔ اعتماد کوئی تقریری مقابلہ جیتنے سے نہیں آتا؛ وہ اس یقین سے آتا ہے کہ میرے پیچھے ایک محفوظ آنگن ہے جہاں میری ناکامی پر بھی دروازہ کھلا ملے گا۔ البرٹ بنڈورا کی تحقیق نے دوسری حقیقت آشکار کی: بچہ سب سے زیادہ مشاہدے سے سیکھتا ہے۔ والدین کا غصہ ضبط کرنا اسے ضبط سکھاتا ہے، ان کی بدکلامی اسے بدکلامی۔ نصیحت کان تک جاتی ہے، کردار دل میں اترتا ہے۔ اور تیسری حقیقت سب سے سنگین ہے: بچپن کے تلخ تجربات پر ہونے والی وسیع طبی تحقیق بتاتی ہے کہ گھریلو کشیدگی کا مسلسل دباؤ بڑھتے ہوئے دماغ کی ساخت تک پر اثر انداز ہوتا ہے؛

گھر کا آنگن — شخصیت کی پہلی درس گاہ Read More »